آئی ایس پی آر کا ٹویٹ اور حکومتی بیانات، صورتحال تشویشناک ہوگئی

وزیراعظم محمد نوازشریف نے نیوز لیکس رپورٹ کے بارے میں فیصلہ تو اس ایشو کو نبٹانے کیلئے کیا ہو گا مگر آئی ایس پی آر کے ترجمان کی طرف سے اسکے ”مسترد“ کرنے سے ملک کو بھونچال کی کیفیت کا سامنا ہے۔ حکومتی وزراءاس صورتحال کو قابو کرنے میں بری طرح ناکام ثابت ہوئے۔ وزیر داخلہ نے یہ کہا کہ ابھی نوٹیفکیشن آنا ہے، صورتحال کو اچھا کرنے کی کوشش کی جبکہ وفاقی وزیر خزانہ نے یہ کہہ کر وزیراعظم کے احکامات صرف پیرا 18 کے بارے میں ہیں، تاثر دیا جیسے ابھی مزید تفصیلات بھی آئیں گی، صورتحال کو گنجلک بنا دیا۔ وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کراچی میں نیوز لیکس کے بارے میں وزیراعظم کے فیصلے پر مبنی پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کے خط کے حوالے سے صرف تکنیکی موقف اختیار کر کے صورتحال کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ملک کے چیف ایگزیکٹو نے ”نیوز لیکس“ کی انکوائری رپورٹ کی روشنی میں جو حکم جاری کیا ہے۔ وزارت داخلہ کو اس میں بیان کئے گئے چار نکات کے پیرامیٹرز کے اندر ہی رہنا ہو گا۔ وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری نے یہ خط سیکرٹری داخلہ کو بھیجا اور اسکی کاپیاں سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ، سیکرٹری کابینہ اور سیکرٹری اطلاعات و نشریات کو بھیجی گئی ہیں۔ وزیراعظم کے احکامات کے تحت سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نے پی آئی او سے منصب واپس لینے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ وزیراعظم کے احکام میں سید طارق فاطمی سے وزارت خارجہ مور کا پورٹ فولیو واپس لینے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ معاون خصوصی کے طور پر سید طارق فاطمی برقرار رہیں گے۔ وزیراعظم کا حکم جاری ہونے کے بعد وزارت داخلہ نے ان چار فیصلوں کے حدود کے اندر رہنا ہے جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں اسکے علاوہ بھی سفارشات تھیں جن کا ذکر وزیراعظم کے خط میں نہیں ہے۔ جس بارے میں آئی ایس پی آر کی طرف سے ردعمل دیا گیا جس میں لفظ ”مسترد“ بہت نمایاں ہے جس کی وجہ سے ملک کے اندر اور حتیٰ کہ بیرونی ذرائع ابلاغ پر بھی بحث شروع ہوگئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سینیٹر پرویز رشید کی وفاقی کابینہ میں بحالی کی افواہ کی اطلاعات، طارق فاطمی کو معاون خصوصی کی حیثیت سے برقرار رکھنا، اخبار کے حوالے سے کسی اقدام کا نہ ہونا بھی مسئلہ کی وجہ بنا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے کراچی میں ایک انکشاف کیا کہ انہوں نے وزارت داخلہ کے ایڈیشنل سیکرٹری کی چھٹی کے باوجود وزارت میں بٹھا رکھا تھا کہ وزیراعظم کی طرف سے منظوری ملتے ہی اقدامات پر مبنی نوٹیفکیشن جاری کر سکیں تاہم بعدازاں انہیں گھر چلے جانے کیلئے کہہ دیا۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیراعظم نے سفارشات کے پیرا 18 کی سفارشات کے دو حصے ہیں۔ وزیراعظم نے پیرا 18 کے تحت ایکشن کے لئے احکامات دیئے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے والے سابق پی آئی او راﺅ تحسین کے حوالے سے مزید اقدامات اب سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کریں گے۔ کیس کے جائزے کے بعد انکوائری افسر یا انکوائری کمیٹی تشکیل دے سکتے ہیں تاہم اگر وہ یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ انکوائری افسر یا انکوائری کمیٹی بنانے کی ضرورت نہیں ہے تو وہ براہ راست بھی متعلقہ افسر کو بتا سکتے ہیں کہ وہ ان کے خلاف ایکشن کرنا چاہتے ہیں جس کی بنیادی وجوہات انہیں بتانا ہونگی جبکہ متعلقہ افسر کو وضاحت کا پورا موقع دیا جائے گا۔

بشکریہ:نوائے وقت

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں