آدم خور ہرن

سائنسدانوں نے ایک ایسا ہرن کھوجا ہے جو انسانی مردے کی باقیات کھاتے ہوئے دیکھا گیا – عام طور پر سبزی خور جانور کے متعلق ایسا مانا نہیں جا سکتا ہے مگر ایسا ہو چکا ہے – چند دن پہلے امریکی اخبار دی ٹیلی گراف میں ایڈم بلٹ نے اس حوالے سے ایک رپورٹ فائل کی تھی رپورٹ کے مطابق ٹیکساس کے علاقے سان مارکوس میں ٢٦ ایکڑ پر محیط انسانی نعشوں پر سائنسی ریسرچ کے لیئے ایسا فارم ہے جہاں انسانی نعشوں کو سائنسی تجربات اور تحقیق کرنے کے لیئے گلنے سڑنے کو چھوڑ دیا جاتا ہے اسی فارم میں لگے ہوئے موشن ڈیڈکٹر کیمرے نے اس منظر کو محفوظ کیا جس میں ایک ہرن انسانی ڈھانچے کے قریب کھڑا انسانی پسلی چباتا دیکھائی دیتا ہے –

رپورٹ کے مطابق جولائی ٢٠١٤ میں ایک ایسا انسانی ڈھانچہ اس فارم میں موجود تھا جسکے مرے ہوئے کو چھ ماہ گزر چکے تھے اور انسانی جسم کی نرم بافتوں میں سے زیادہ تر گدھ کھا چکے تھے – اسی دوران کیمرے میں ایک ہرن دیکھا گیا جو اس انسانی ڈھانچے کی پسلی ایسے چبا رہا تھا جیسے سگار پی رہا ہو – آٹھ دن کے وقفے سے ہرن دوبارہ اسی ڈھانچے کی ایک اور پسلی بھی چباتے دیکھا گیا تھا ( ممکنہ طور دونوں بار ایک ہی ہرن ہو سکتا ہے )

اسی حوالے سے ریسرچر و محقق لارین مائیکل نے فارنسک سائنسز جرنل میں لکھ نے کہا کہ “ہم نے سوچا ہو سکتا ہے کہ فارنسک محققین یہ جاننا چاہتے ہوں اس لیئے ہم ایسے پہلے واقعے جس میں ایک سبزی خور جانور ہرن کو انسانی ہڈیاں چباتے ہوئے دیکھا گیا ہے کی مختصر رپورٹ جاری کر دیں ”

سائنس دانوں کے مطابق ہرن کے لیئے انسانی ہڈیاں کم وقت میں ایسی متناسب اور ضروری معدنیات سے بھرپور خوراک ہو سکتی ہیں جنھیں دوسری خوراک سے حاصل کرنے کے لیئے بہت وقت چاہیئے –

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں