آپ کو دانش پسند ہے یا دولت؟ (نجم ولی خان)

اگر میں پوچھوں کہ آپ دانش مند ہونا چاہتے ہیں یا دولت مند تو سوشل میڈیائی جواب سو فیصد دانش ہی ہو گا، یہی سوال تھوڑے فرق سے پوچھ لیا جائے کہ آپ خدا سے کیا لینا چاہتے ہیں، دانش یا دولت، کم آئی کیو والے یہا ں بھی دانش کا ہی آپشن لیں گے کیونکہ انسان وہی شے مانگتا ہے جس شے کی اس کے پاس کمی ہوتی ہے ۔ ثابت ہوا جس کے پاس دانش ہو گی وہی دولت مانگے گا کہ یہی دانشمندی ہے۔ یہ بات کسی سیانے نے مجھ سے بھی بہت پہلے کہہ دی تھی کہ میں نے بڑے بڑے دانش مندوں کو چھوٹے چھوٹے دولت مندوں کی نوکری اورچاکری کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ یہ بات مجھے بہت پہلے لکھے ہوئے ایک ناول گاڈ فادر کے تازہ ترین مشہور ہونے والے ڈائیلاگ سے یاد آئی جس میں کہا گیا ہے کہ دولت کے ہرڈھیر کے پیچھے جرم ہوتا ہے۔اگرکسی ملک کی سب سے بڑی عدالت کے فیصلے ( کے ایک حصے ) میں لکھ دیا جائے تو اس ملک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے یہ لازم ہے کہ وہ ہر کروڑ پتی کو نہیں بھی پکڑتے تو کم از کم ہر ارب پتی کو تو ضرور اندر کر دیں، اس کی اچھی خاصی چھترول کر کے اس سنگین جرم کا پتا چلائیں جس کے ذریعے اس نے دولت حاصل کی ہے اور اگر کوئی کھرب پتی ہے تو اسے فوری طور پر خاندان سمیت پھانسی پر چڑھا دیا جائے کیونکہ ملک کی سب سے بڑی عدالت سے بڑھ کر کسی ملک میں قانون کی تشریح کرنے والا کوئی دوسراادارہ نہیں ہوتا۔ جب طے کر دیا گیا کہ دولت کے ہر بڑے ڈھیر کے پیچھے جرم ہے تو پھرمنطقی اور لازمی طور پر ہر چیمبر آف کامرس کو جرائم کا اڈا قرار دے دینا چاہئے کیونکہ دولت کے بڑے بڑے ڈھیر تو صنعت اور تجارت کے ذریعے ہی لگتے ہیں۔ ہم جیسے نوکری پیشہ لوگ تو جتنے مرضی مہینے کے کما لیں ، اس سے زیادہ خرچے سامنے کھڑے ہوتے ہیں لہذامیں نے کسی نوکری پیشہ کو آج تک امیر ہوتے ہوئے نہیں دیکھا، جی ہاں ، مان لیجئے کہ پرائیویٹ کمپنیوں کے ملازمین تو ایک طرف رہے یہاں ہرسرکاری ملازم بھی بلوچستان کاسیکرٹری خزانہ مشتاق رئیسانی نہیں ہوتا۔

بات دانش اور دولت کی ہو رہی ہے، ہمارے مہربان انہیں الگ الگ ہی نہیں بلکہ متضاد بھی سمجھتے ہیں حالانکہ اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں اتنی دولت بھی نہیں کما پاتا کہ اپنی اور بچوں کی زندگی کسی بڑی مشکل کا سامنا کئے بغیر گزار سکے تو آپ اسے دانش مند کیسے کہہ سکتے ہیں۔کسی نے مجھے پیغام بھیجا، وہ بھی رات بھرپریشان رہتا ہے جس کے پاس دولت نہیں اور وہ بھی رات بھر کروٹیں بدلتا ہے جو بہت زیادہ امیر ہے، میں نے جواب دیا شدید گرمی اور حبس میں ٹوٹی ہوئی چارپائی پر لوڈشیڈنگ کے عالم میں پسینہ بہاتے ہوئے کروٹیں بدلنے سے کہیں بہتر لگتا ہے کہ اسی موسم میں سائلنسر لگے جنریٹر سے میرے بیڈ روم کا کئی ٹن کا ائیرکنڈیشنرمجھے اپنے جہازی سائز کے بیڈ پر کمبل میں لپٹ جانے کو مجبور کر رہا ہو ، میرے سامنے ایک بڑی سی ایل ای ڈی پر خوبصورت سی فلم لگی ہوئی ہو اور اس امر میں بھی کوئی حرج نہیں کہ نرم ،نرم ہاتھوں سے تھائی یا سویڈش مساج کیا جا رہا ہواور میں ا س بے چینی کے عالم میں کروٹیں بدل رہا ہوں۔ مجھے کہا گیا تم دولت کی وکالت کرتے ہو ، مر تو سب نے ہی جانا ہے، سکندر جب مرا تھا تو اس کے دونوں ہاتھ کفن سے باہر تھے جو یہ ظاہر کر رہے تھے کہ ہر کسی نے یہاں سے خالی ہاتھ جانا ہے اور مزید یہ کہ کفن کی جیبیں نہیں ہوتیں۔ میں نے سوچا کہ اگر کفن کی جیبیں نہیں ہوتیں تو کیا لباس کی جیبیں بھی نہیں ہوتیں۔جب آپ دولت کو گالی بناتے ہیں تو یقینی طور پر منافقت کرتے ہیں، جھوٹ بولتے ہیں، لوگوں کو گمراہ ہی نہیں کرتے بلکہ کم ہمت بھی بناتے ہیں۔
مجھے کہنے دیجئے کہ اگر آپ ویہلے، نکمے اور سست الوجود ہیں تو آپ سوشل میڈیا کی دنیا میں دانش ور تو بن سکتے ہیں مگر دولت مند نہیں کیونکہ سوشل میڈیا پر دوسروں کی پوسٹس چوری کر کے شئیر کئے جاسکتے ہیں مگر دوسروں کی رقم آپ اتنی آسانی سے نکال کر اپنی جیب میں نہیں ڈال سکتے جتنی آسانی سے دوسروں کی دانش کاپی پیسٹ ہو جاتی ہے ۔ دانش کے مقابلے میں دولت کی چوری کہیں زیادہ مشکل اور بعض اوقات جان لیوا بھی ہوتی ہے لہذا اگر آپ سست کے ساتھ بزدل بھی ہیں تو آپ کے لئے دولت مند بننے کی بجائے دانش ور بننے کا بہترین آپشن موجود ہے جس کے بعد آپ ہر دولت مند کو کرپٹ ہونے کی گالی دے سکتے ہیں۔آپ سوال کر سکتے ہیں کہ گاڈ فادر دولت کے ڈھیر کو جرم سے جوڑتا ہے، دانش سے نہیں اور اس کا جواب یہ ہے کہ میں اس دانش کے ہی خلاف ہوں جو دولت کوجرم اور گناہ کے ساتھ جوڑ کے پیش کرتی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ دولت کو گالی دینے والے اسلامی معاشی اصولوں اور تعلیمات سے بھی آگاہ نظر نہیںآتے۔ اسلام دولت کمانے سے منع نہیں کرتا ،ہاں، ناجائز طریقے سے جوڑے رکھنے اور لٹانے سے ضرور روکتا ہے۔زکوٰۃ اور صدقات کے ذریعے اسلام دولت کے بہترین استعمال کی رہنمائی کرتا ہے،اگر دولت بذات خود جرم اور گناہ کے زمرے میں آتی تو میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے براہ راست تعلیم یافتہ امیر ترین صحابہ کرام ہمارے لئے رہنما قرار نہ پاتے۔میرے لئے ذوالنورین کا لقب پانے والے امیر المومنین بہترین مثال ہیں جو غنی کہلاتے تھے، جو کلمہ پڑھنے والوں کو خرید کر آزاد کر دینے کی طاقت رکھتے تھے، جو پیاسوں کو دیکھتے تھے تو کنویں خرید کر وقف کر دیتے تھے، مجھے تو یہی بتایا گیا ہے کہ اوپر والا یعنی دینے والا ہاتھ، نیچے والے یعنی لینے والے ہاتھ سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔

آہ ! ہم نے غریبوں کو صبر اور قناعت کی تعلیم دیتے ہوئے بہت سارے ایسے عقل مند بھی دیکھے ہیں جو خود دو، چار کروڑ روپے مالیت سے کم کی گاڑی میں سفر نہیں کرتے، جن کے اپنے بنگلے دس، دس اور بیس، بیس کروڑ روپوں کے ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ دولت کمانے کے لئے چوری، ڈاکے سمیت دیگر جرائم کی وکالت نہیں کی جا سکتی مگر لوگوں میں دولت سے نفرت پیدا کرنا بھی معاشرے کی ترقی کا باعث نہیں بن سکتا۔ معاشرے کے عام آدمی سے دولت کمانے کی خواہش اور امید ختم کرنادرحقیقت معاشی ترقی کا گلا گھونٹ دینا ہے۔ معاشرے افراد سے بنتے ہیں اور جن معاشروں میں بدقسمتی سے دولت نہ رکھنے والوں کی بہتات ہو جاتی ہے وہ پسماندہ کہلاتے ہیں۔ جوں جوں شہریوں کے پاس دولت بڑھتی ہے توں توں اس ریاست کی انتظامی اور معاشی حالت بہتر ہوتی چلی جاتی ہے۔ شہریوں کی دولت اور کسی بھی ریاست کی امارت کے درمیان ایک خاص تعلق ہوتا ہے۔ اس وقت جدید اور ترقی یافتہ ممالک میں آپ کو لکھ پتیوں کی ایک لمبی فہرست ملے گی جبکہ غریب اور پسماندہ ریاستوں میں یہ لسٹ بہت چھوٹی ہوگی تو کیا گاڈ فادر پڑھتے ہوئے یہ فیصلہ کیاجا سکتا ہے کہ ہر معاشرہ ترقی ہی جرائم کے ذریعے کرتا ہے۔ مجھے کہنے میں عار نہیں کہ اگر گاڈفادر نامی ناول میں بیان کئے گئے اصول وضوابط اگر ایسے ہی شاندار ہوتے تو اب تک مختلف ممالک کے دستوروں کا حصہ نہ بھی بنے ہوتے توکم از کم کرائم انویسٹی گیشن سائنس میں ضرور پڑھائے جا رہے ہوتے۔ حکمران شریف خاندان جے آئی ٹی کے سامنے لندن کے فلیٹ خریدنے کے حوالے سے منی ٹریل ثابت نہ بھی کرسکے تو یہ ایک خاندان کے دولت مند ہونے اور کسی ایک سودے پر شکوک و شبہات کا اظہار ہو سکتا ہے، آپ اسے دولت کے بارے عمومی اصول قرار نہیں دے سکتے۔ عدالتوں کے فیصلوں کو قانونی نظیروں سے مزین ہونا چاہئے، ہم ایک وزیراعظم کو ایک نظم کے ذریعے گھر بھیج چکے اور کیا اب دوسرے کو ایک ناول کے ڈائیلاگ کے ذریعے نااہل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟
مجھے کہنے دیجئے کہ دانش کبھی ناولوں کے پڑھنے سے نہیں آتی ورنہ دنیا میں ادب کا ہر پروفیسر سب سے بڑا دانش مند ہوتا جبکہ ہم نے بہت ساروں کو سنکی دیکھا ہے ۔ دانش، دولت اور دولت مندوں سے نفرت کرنے کابھی نام نہیں ہے کہ دولت تو سہولت اور آسانی کا دوسرا نام ہے، ہمارے ایک بزرگ تو ہرکسی کے لئے آسانیوں کی دعا ہی مانگتے تھے او رمیری نظر میں دولت سے بڑی آسانی کوئی نہیں جو محتاجی اور بے عزتی سے بچاتی ہے۔ آپ اختلاف کر سکتے ہیں اور اپنی غربت بھری دانشمندی میں خوش رہ سکتے ہیں مگر، کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ دنیا کے سب سے دانش مند لوگ ہی وہ ہیں جن کے گھر دانے ہیں کہ بزرگوں کے مطابق ان کے گھروں کے تو کملے بھی سیانے ہوتے ہیں۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں