ابن ماجہ کون تھے ؟ جانیے—–

ابن ماجہ رحمہ اللہ کو جن کا اصلی نام ابو عبد الله محمد بن يزيد الربعي القزوينی ہے.. اسلامی تاریخ کی معروف شخصیات اور حدیث نبوی کے آئمہ میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ 209 ہجری (824ء) میں قزوین (ایران) میں پیدا ہوئے اور رمضان 273 ہجری (886ء) میں فوت ہوئے۔ انہیں اپنی کتاب “السنن” یا “سننِ ابن ماجه” کے حوالے سے شہرت حاصل ہوئی جس کو احادیث نبوی کی چھ اہم ترین کتابوں میں شامل کیا جاتا ہے۔

پرورش اور سفر
ابن ماجہ کی پیدائش قزوین میں ہوئی جس کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں فتح کیا گیا تھا۔ حضرت البراء بن عازب سن 24هـ یعنی 644ء میں اس کے پہلے گورنر بنے۔ اس وقت سے آج تک یہ علوم و تہذیب اور علمی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔
ابن ماجہ کے زمانے میں عباسی ریاست خلیفہ مامون کی حکم رانی میں طاقت اور تہذیب کے لحاظ سے اپنا بہترین وقت گزار رہی تھی۔
ابن ماجہ نے بچپن سے ہی علماء بالخصوص حدیثِ نبوی کے شیوخ کی مجالس میں بیٹھنا شروع کر دیا تھا۔ بائیس برس کی عمر میں سفر کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا جو کہ اُس زمانے میں علماءِ حدیث کا طریقہ تھا۔ اس لیے کہ احادیث جمع کرنے اور علماء کے بارے میں جاننے کے واسطے ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل ہوئے بغیر چارہ کار نہ تھا۔

ابن ماجہ نے کئی ممالک کا سفر کیا جن میں شام ، کوفہ ، دمشق ، حجاز اور مصر شامل ہیں۔ وہ جس ملک کا بھی رختِ سفر باندھتے وہاں حدیث نبوی کے مدارس سے متعارف ہوتے تھے۔ اس دوران انہوں نے کئی علماء مثلا محمد بن المثنى ، ابو بکر بن ابو شیبہ ، محمد بن عبداللہ بن نمیر اور ان کے علاوہ بڑے آئمہ اور علماء حدیث سے ملاقات کی اور ان سے احادیثِ نبوی سُنیں۔

سرگرمیاں اور صفات
ابن ماجہ کی سرگرمیوں میں تالیف اور تدریس کا سلسلہ شامل رہا۔ ان کے مشہور شاگردوں میں ابن سیبویہ ، محمد بن عیسی الصفار ، اسحاق بن محمد ، علی بن القطان اور دیگر کئی مشہور راوی شامل ہیں۔

وہ 15 برس تک کئی ملکوں کا سفر کرنے کے بعد واپس قزوین پہنچے۔ اس وقت تک ان کو شہرت حاصل ہو چکی تھی اور طلبہ ہر جگہ سے ان کے پاس آیا کرتے تھے۔ قزوین میں انہوں نے خود کو تالیف و تصنیف اور روایت حدیث کے لیے فارغ کر لیا۔
علماء حدیث نے ان کو ” انتہائی ثقہ ، متفق علیہ ، معرفت اور حفظ کا حامل اور علم حدیث میں رسوخ رکھنے والا” قرار دیا۔ اسی طرح امام ذہبی نے بھی ابن ماجہ کے بارے میں کہا کہ وہ “حافظ ، عالم ، نقّاد اور سچائی رکھنے والے تھے”۔ علاوہ ازیں ابنِ خلکان نے بھی ان کے علم ، درایتِ حدیث اور تمام علوم کو سراہا۔

كتاب السنن
سُننِ ابن ماجہ احادیث نبوی کی چھ معروف ترین کتابوں یعنی صحاح سِتّہ میں سے ہے۔ یہ ابنِ ماجہ کی نمایاں اور اہم ترین تالیف ہے۔ اس میں تقریبا 4341 احادیث کو مختلف ابواب پر تقسیم کیا گیا ہے۔ بعض علماء کے نزدیک اس کتاب میں غیر صحیح اور ضعیف احادیث ہیں۔ بعض احادیث وہ ہیں جن کی تخریج دیگر علماء بھی کر چکے ہیں۔ بہرکیف ابنِ ماجہ تقریبا 1339 احادیث میں دیگر مؤلفین سے انفرادیت رکھتے ہیں۔

بعض علماء نے سننِ ابن ماجہ کی شرح پر بھی کام کیا۔ ان میں “كفاية الحاجة في شرح ابن ماجه”، “مصباح الزجاجة على سنن ابن ماجه” ، ” الكواكب الوهاجة بشرح سنن ابن ماجه” اور دیگر شروحات شامل ہیں۔

دیگر تالیفات
ابن ماجہ نے اپنی مشہور زمانہ کتاب “السنن” کے علاوہ قرآن کریم کی تفسیر بھی تالیف کی جس کو ابن کثیر نے اپنی کتاب “البداية والنهاية” میں ایک بھرپور تفسیر قرار دیا۔ تاہم بدقسمتی سے ابنِ ماجہ کی دیگر کئی تالیفات کی طرح یہ بھی محفوظ نہ رہ سکی۔ اس کے علاوہ انہوں نے تاریخ کی ایک کتاب بھی تالیف کی جس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور سے لے کر اپنے زمانے تک کو شامل کیا۔ اس کو بھی ابن کثیر نے مکمل تاریخ قرار دیا تھا مگر وہ بھی ضایع ہو گئی۔

وفات
ابنِ ماجہ نے رمضان 273 ہجری میں وفات پائی۔ اُن کی نمازِ جنازہ اُن کے بھائی ابو بکر نے پڑھائی۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں