ازدواجی زندگی کے نفسیاتی مسائل

میاں بیوی میں سے کسی ایک کی بے وفائی دوسرے کے لیے زندگی کا سب سے دردناک تجربہ ثابت ہوتی ہے ۔ یہ متاثرہ فرد کی ساری زندگی تباہ کردیتی ہے ۔ اس کا اپنے آپ پر ، انسانی رشتوں اور زندگی پر اعتماد ختم ہوجاتا ہے ۔ وہ دنیا میں تماشا بن کررہ جاتا ہے ۔

فرانسیسی ادیبہ ، سمون دی بوار نے ، جس کو ہمارے ہاں زیادہ تر سارتر کی زندگی بھر کی دوست کے حوالے سے جانا جاتا ہے ۔ اس موضوع پر ایک ناولٹ لکھا ہے ۔ لگ بھگ سو صفحات میں اس نے درمیانی عمر کے ایک جوڑے کی کہانی بیان کی ہے جس میں شوہر بیوی سے دور ہٹتا جاتا ہے اور بالاخر اس کی زندگی سے نکل جاتا ہے ۔ بیوی پر جو گزرتی ہے ، سمون نے اس کو بے مثال موثر انداز میں بیان کیا ہے ۔ اس ناولٹ کے انگریزی ترجمے کا عنوان ’’اے وومن ڈسٹرائیڈ ‘‘ ہے ۔

مغربی دنیا میں ازدواجی بے وفائی کے واقعات دوسری تہذیبوں کے مقابلے میں زیادہ ہیں ۔ اس لیے لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ ہمارے معاشرے کا مسئلہ نہیں ۔ ہماری ازدواجی زندگیاں محفوظ اور مضبوط ہیں ۔ مگر یہ محض وہم ہے ۔ ازدواجی زندگی جس قدر ہمارے ہاں بے لطف اور کمزور ہوئی ہے ، اس قدر کہیں اور نہیں ۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ عورتوں کی معاشی مجبوریوں اور سماجی دباؤ کے باعث ہمارے ہاں طلاق کی شرح کئی ملکوں سے کم ہے ۔ مگر مجبوری اور دباؤ نے جس ازدواجی زندگی کو سنبھال رکھا ہو ، وہ بھی بھلا کوئی زندگی ہے ۔ کہنا یہ چاہ رہا ہوں کہ اگر ہم آنکھیں کھول کر گردوپیش دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ ازدواجی بے وفائی کے واقعات ہمارے معاشرے میں بھی بڑی تعدادمیں پیش آتے ہیں ۔ ان کا اندازہ میڈیا کی رپورٹس سے بھی کیا جاسکتا ہے ۔ یہ واقعات افراد کے ساتھ ساتھ معاشرے کے لیے بھی پریشان کن ہیں ۔

دانیال جے ڈویش اور شیرلن لہمان نام کے ازدواجی امور کے دو ماہرین نے اس موضوع پر اپنی کتاب ’’ مجھے چاہو نہ چاہو‘‘ میں بحث کی ہے ۔ اپنے پیشہ ورانہ طویل تجربے کی بنیاد پر ان کا کہنا ہے کہ اگر ازدواجی بے وفائی سے دوچار ہونے والے افراد خطرے کی علامتوں کو سمجھنے کی اہلیت رکھتے ہوں تو وہ اس روگ سے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔ انہوں نے شادی شدہ افراد کے غیر ازدواجی معاشقوں کے تین بنیادی اسباب کی نشاندہی کی ہے ۔ ان میں کوئی ایک یا زیادہ علامتیں آپ کی ازدواجی زندگی میں ظاہر ہونے لگیں تو اس کو خطرے کی گھنٹی سمجھیں اور جان جائیں کہ آپ کا تعلق ٹوٹ پھوٹ رہا ہے ۔ چاہے آپ کا شریک حیات واقعی کسی معاشقے میں ملوث ہو یا نہ ہو۔

تنہائی

شبانہ نے یہ قصہ مجھے خود سنایا تھا
’’میرا شوہر جب بھی گھر میں ہوتا ہے ، اس کا ساراوقت اپنے کمپیوٹر کے ساتھ گزرتا ہے ۔ لگتا ہے کہ اس واہیات مشین کے علاوہ گھر میں کسی کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی اس کو کسی میں دلچسپی ہے ۔ ایک دن میں کتابوں کی دکان میں گئی ۔ میرے ہاتھ میں کئی کتابیں اور پرس تھا ۔ کپڑوں کا ایک بنڈل بھی میں پکڑرکھا تھا ۔ میں نے دوپٹہ سنبھالنے کی کوشش کی تو ساری چیزیں ہاتھ سے گر گئیں ۔ نوجوان دکاندار فوراً میری مدد کو لپکا ۔ اس نے چیزیں اٹھانے میں میری مدد کی ۔ جب میں نے ایک ناول منتخب کرکے خریدنا چاہا تو وہ کہنے لگا ، اچھا تو آپ انیس ناگی کو پڑھتی ہیں !تقریباً ایک ہفتے بعد میں دوبارہ اسی دکان پر گئی ۔ وہ کافی دیر تک باتیں کرتارہا۔ دوسرے روز نہ چاہتے ہوئے بھی میرے قدم بک سٹور کی بڑھنے لگے ۔ میں وہاں بیٹھ گئی اور ہم دونوں تین گھنٹوں تک باتیں کرتے رہے ۔ یوں بات آہستہ آہستہ آگے بڑھتی گئی ۔ یقین کریں کہ یہ صرف سیکس کا معاملہ نہ تھا ۔ بات اصل میں یہ تھی کہ میں اور وہ باتیں کرسکتے تھے ۔ رؤف (شبانہ کا شوہر )تو مجھے صرف بچے پیدا کرنے اور گھر کے کام کاج کرنے والی مشین سمجھتا ہے ۔ اس نے کبھی مجھے گوشت پوست کے انسان کے طور پر قبول نہیں کیا ۔ ہماری کوئی مشترکہ دلچسپیاں نہیں ہیں ۔ تنہائی کا زہر میری رگوں میں اترنے لگا تھا ۔

‘‘
شبانہ کا یہ قصہ ہمیں بہت کچھ بتاتا ہے ۔ اس سے ہم یہ نتیجہ اخذ کریں کہ شادی شدہ افراد کے معاشقوں کی بڑی وجہ تنہائی کا اذیت ناک احساس ہوتا ہے ۔ تو اس میں کوئی مبالغہ نہ ہوگا۔ دانیال جے ڈویش اور شیرلن لہمان کا طویل تجربہ اور مطالعہ بھی اس امر کی توثیق کرتا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ شادی شدہ افراد میں یہ احساس اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ان کی زندگی قربت سے محروم ہوجاتی ہے اور ان کے درمیان ابلاغ ٹوٹ جاتا ہے ۔ لوگ تنہائی کا شکار اس وقت ہوتے ہیں جب کوئی ان کے دکھ سکھ بانٹنے والا نہیں ہوتا۔


یکسانیت

’’ دس گیارہ برسوں سے میں تخیل اور خوابوں کی دنیا میں غیر عورتوں کے ساتھ معاشقے کھیلتا رہاہوں ۔ لیکن کسی عورت سے راہ ورسم بڑھانے کا ٰخیال مجھے کبھی نہ آیا تھا۔ میں نے اس معاملے پر کبھی توجہ ہی نہ دی تھی ۔‘‘ یہ میرے ایک دوست کی کہانی ہے وہ کہتا ہے کہ ’’ پھر ایک شام عجیب سی بات ہوئی ۔ میں اکیلا تھا ۔ میری بیوی دوسرے شہر گئی ہوئی تھی ۔ شام کو میں اکیلا ہی ایک پارٹی میں چلا گیا ۔ وہاں ایک عورت میرے پاس آکربیٹھ گئی ۔ اس کے ساتھ بہت جان پہچان تو تھی مگر بے تکلفی نہ تھی ۔ اس نے مجھے گھر ساتھ چلنے کی دعوت دی ۔ پہلے تو میں گھبراہی گیا۔ میرے ماتھے پر پسینہ رینگنے لگا اور میں نے انکار کردیا۔ مگر اس دعوت نے میرے دل میں ہلچل سی مچادی ۔ دوروز بعد میں نے اس عورت کو فون کیا ۔ بس یوں سمجھ لیں کہ اس طرح میرا افیئر شروع ہوگیا‘‘۔

اس قسم کی ترغیبات ازدواجی بے وفائی کا دوسرا بڑا سبب سمجھی جاتی ہیں ۔ عموماً ہوتا یہ ہے کہ شادی کے پانچ چھ سال بعد جذبات ٹھنڈے پڑجاتے ہیں اور بہت سے میاں بیوی ایک دوسرے سے بور ہونے لگتے ہیں ۔ کیوں ؟ یہ تبدیلی کیوں آتی ہے ؟ یہ تبدیلی اس لیے آتی ہے کہ وہ اپنی زندگی میں تخلیقی رویے اختیار نہیں کرتے ۔ وہ روٹین کی زد میں آجاتے ہیں اور روٹین زندگی کا سارا لطف برباد کردیتی ہے ۔ اس کے برخلاف معاشقے میں نیاپن ہوتا ہے ، مہم جوئی اورچیلنج ہوتا ہے ۔ اس لیے وہ پرکشش ہوتا ہے ۔ روٹین اور یکسانیت کا مارا ہوا فرد فوراً اس کے سحر میں الجھ جاتا ہے ۔

ابلاغ میں ناکامی

انجیلا کی کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ شادی شدہ جوڑوں میں جب ابلاغ ختم ہوجاتا ہے تو کیسے غلط راہیں کشادہ ہوجاتی ہیں ۔ انجیلا نے اپنی کہانی ایک گروپ سیشن میں سنائی تھی ۔ وہ کہتی ہے’’ مجھے اپنے شوہر داؤد پر زیادہ تر غصہ اس لیے آتا تھا کہ وہ بچوں کے معاملے میں کبھی میرا ہاتھ نہیں بٹاتا تھا ۔ میں ملازمت کرتی تھی اور گھر کا سارا کام کاج بھی میرے ذمے تھا۔ یہ بے انصافی تھی ۔ میں چاہتی تھی کہ داؤد گھریلو ذمہ داریوں میں شریک ہو۔ میرا بوجھ بانٹے ۔ لیکن وہ کوئی پرواہ ہی نہ کرتا تھا ۔ ایک جمعے کو اس نے مجھ سے پوچھا کہ شام کے کھانے کے لیے میں کیا بناؤں گی ۔ میں پہلے ہی جلی بھنی بیٹھی تھی ۔ یہ سوال سن کر آگ بگولہ ہوگئی اور صاف صاف کہہ دیا کہ میں شام کو کچھ بھی پکاؤں گی ۔

’’ داؤد کو اس جواب کی شاید توقع نہ تھی ۔ وہ غصے میں آگیا لیکن میں اس سے زیادہ غصے میں تھی ۔ وہ یہ چلاتا ہوا گھر سے نکل گیا کہ ، یہ سب کچھ میری برداشت سے باہر ہے ۔ بعد میں اس نے بتایا کہ اس رات اس نے اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ پہلی بار ہم بستری کی تھی ۔

‘‘
اکثر جوڑے ابلا غ کے منفی طریقوں سے پہنچنے والے نقصان سے آگاہ نہیں ہوتے ۔ وہ ایک دوسرے کو الزام دیتے ہیں ۔ غصے اور مایوسی کا زہر ان کی زندگی کے دوسرے پہلوؤں اور خصوصاً جنسی پہلو میں اترتا چلا جاتا ہے ۔ تعلق ناطہ ابلاغ سے بنتا ہے اور ابلاغ ہی اس کو قائم رکھتا ہے اور جہاں تک جنس کا تعلق ہے وہ بھی ابلاغ کی ایک گہری صورت ہے ۔

میاں بیوی کے درمیان جب ابلاغ کا ربط ٹوٹ جائے تو پھر وہ دونوں اپنی اپنی جگہ خود کو مسترد شدہ خیال کرنے لگتے ہیں ۔ اس لیے تعجب کی کوئی بات نہیں کہ دونوں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے ، ایک دوسرے کو رنج دینے ، غصہ دلانے اور اپنی برتری ثابت کرنے پر تل جاتے ہیں ۔ یہ انداز گھر کو جہنم بنادیتا ہے اور ازدواجی زندگی بگڑنے لگتی ہے ۔ لہذا اس میں تعجب کی کیا بات ہے کہ جب گھر کے اندر اس قسم کی صورت حال پیدا ہوجائے تو میاں یا بیوی یا پھر وہ دونوں اپنی چاردیواری سے باہر محبت اور سیکس کے لیے کوئی ساتھی تلاش کرنے لگیں ۔ وہ سوچ سمجھ کر تلاش نہ کریں تو بھی انجانے میں کوئی موقع مل جائے تو وہ اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں ۔

ترجیحات بنائیں

ایک یونیورسٹی پروفیسر کا قصہ ہے کہ وہ مسلسل گیارہ مہینوں تک اپنی پسند کے ایک پراجیکٹ پر کام کرتی رہی ۔ وہ مقررہ وقت میں کتاب ختم کرنا چاہتی تھی اور یہ دھن اس کے سر پر بری طرح سوار ہوگئی ۔ اس نے باقی تمام کام چھوڑ دیئے اور دن رات اس منصوبے میں مگن ہوگئی ۔ یونیورسٹی سے واپس آکر شام کے وقت وہ گھر میں بھی یہی کام کرتی تھی ، اس کے لیے اس نے گھر والوں کو اپنے کمرے میں داخل ہونے سے سختی سے منع کررکھا تھا۔ اس کا شوہر اس صورتحال سے بے زار تھا۔ اس کا خیال تھا کہ بیوی اس کو اور گھر کے تقاضوں کو نظرانداز کررہی ہے ۔ ایک رات ساڑھے بارہ بجے کے قریب جب وہ دن بھر کے کام کے بعد بستر پر دراز ہوئی تو اس کا شوہر پھٹ پڑا ۔’’یہ کیا طریقہ ہے !‘‘ وہ چیخا ’’ بس بس بہت ہوچکا ۔ تمہیں صرف اپنے کام سے تعلق ہے ، کسی اور کی پرواہ نہیں ۔

‘‘
وہ بے چارا ٹھیک کہہ رہا تھا ۔ اس کو احتجاج کرنا ہی چاہیے تھا ۔ بات یہ ہے کہ کام کاج زندگی میں اہم ہوتے ہیں اور جب کوئی اپنی مرضی کاکام مل جائے تو وہ زیادہ ہی توجہ کا مرکز بن جاتا ہے ۔ یہ بالکل قدرتی بات ہے ۔ مگر یہ کبھی نہ بھولنا چاہیے کہ میاں بیوی کا رشتہ دوسرے تمام کاموں سے اور دوسرے تمام تعلق ناطوں سے زیادہ اہم ہے ۔ اس رشتے کو بہرطور اولیت دی جانی چاہیے ۔ اس کو وقت دینا چاہیے اور توجہ بھی ۔ اس کے بعد ہی زندگی کے دوسرے معاملات کی طرف متوجہ ہونا چاہیے ۔ اس انداز سے ترجیحات کا تعین نہ کیاجائے تو ازدواجی زندگی زیادہ عرصے تک خوش گوار نہیں رہتی ۔ اس میں خرابیاں پیدا ہونے لگتی ہیں ۔

مقاصد کو حقیقت پسندانہ رکھیے

شادی کے ابتدائی ہفتوں کی گرم جوشی کو دوبارہ پیدا کرنے کی کوشش کی جائے تو پھر مایوسی سے پالا پڑے گا ۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ پرانا رومان ہمیشہ کے لیے ختم ہوچکا ہے یا یہ کہ جنسی سرمستیاں پہلے جیسی نہیں رہیں ۔ بلکہ بڑی وجہ یہ ہے کہ ماضی میں آپ جس تجربے سے گزرے تھے اس کو تعلق کی موجودہ کیفیت کا تعین کرنے کے لیے معیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جاسکتا ۔ آپ دونوں بدل گئے ہیں ۔ گزرے ہوئے ماہ وسال اپنی مہریں ثبت کرگئے ہیں اور اب آپ کا تعلق وہ نہیں رہا جو کہ دس بارہ یا آٹھ دس سال پہلے تھا ۔ ان برسوں کے بعد آپ کے تعلق میں زیادہ گہرائی اور زیادہ وسعت ہونی چاہیے ۔

تبدیلی پر آمادہ رہا کریں

درمیانی عمر کے آخری برسوں میں گزرتے ہوئے اکثر شوہر گلہ کرتے ہیں کہ’’میں اپنی بیوی سے کہتا رہتا ہوں کہ وہ مجھے زیادہ توجہ اور محبت دیا کرے ۔ مگر اس پر اثر ہی نہیں ہوتا ۔ وہ اپنی مصروفیات میں کھوئی رہتی ہے ۔ ‘‘ اچھا ، اسی طرح یہ شکایت بیویوں کو بھی ہوتی ہے ۔ عمر کے اس حصے میں پہنچ کر وہ پہلے سے بھی زیادہ توجہ اور چاہت کی طلب گار ہوتی ہے ۔ مگر میاں صاحب کی مصروفیات اور دلچسپیاں وقت کے ساتھ ساتھ پہلے سے بہت بڑھ چکی ہوتی ہیں ۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ پہلے سے بھی کم دلچسپی اور چاہت کا اظہار کرتے ہیں ۔
خوش گوار تعلق ناطے میں میاں بیوی دونوں کو تبدیلی کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ انہیں ایک دوسرے کا زیادہ خیال رکھنا چاہیے ۔ محبت کے اظہار میں زیادہ سرگرمی دکھانی چاہیے اور پہلے سے زیادہ احترام سے پیش آنا چاہیے ۔ ایک دوسرے کی ضرورتوں کا خیال رکھنا چاہیے ۔ گھر میں جب یہ کیفیت پیدا کی جائے توقربت بے مزہ اور پھیکی ہونے کے بجائے زیادہ پرلطف ہوجاتی ہے ۔ مگر یاد رکھیں کہ کسی بحران کے بعد تعلق کو دوبارہ مضبوط بنانے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے ۔ مثالی میاں بیوی آپ کو بتائیں گے کہ خوش گوار ازدواجی زندگی مسلسل توجہ ، دلچسپی اور کوشش کا نتیجہ ہوتی ہے ۔ وہ یونہی ہاتھ نہیں آتی ۔

جھگڑا مت بڑھائیں

ابلا غ منفی ہوسکتا ہے اور مثبت بھی ۔ منفی ابلاغ ایک دوسرے کی عزت نفس کو دھچکا پہنچاتا ہے اور تعلق ناطے کو تباہ کردیتا ہے ۔ اس کے برخلاف مثبت ابلاغ ایک دوسرے کو سمجھنے ، ایک دوسرے کے قریب آنے اور ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھانے کا سبب بنتا ہے ۔ اس طرح وہ زندگی کی تھکن کم کرکے اسے تخلیقی اور مسرت انگیز بناتا ہے ۔
پال کی مثال پر غور کریں ۔ وہ درمیانے درجے کا لندن کا شہری ہے اور اس کی زندگی برے شہروں کے متوسط طبقے کا نمونہ ہے ۔ اپنی گھریلو الجھنوں کے بارے میں اس نے لکھا ہے ’’ جب ہم دونوں لڑتے ہیں تو انداز کم وبیش ہمیشہ ایک سا ہی ہوتا ہے ۔ وہ کسی بات پر ناراض ہوجاتی ہے ۔ اس کا پارہ چڑھنے لگتا ہے ۔ پھر وہ گھر سے نکل جاتی ہے اور بہت سی شاپنگ کرکے واپس آجاتی ہے ۔ یہ دیکھ کر میرا خون کھولنے لگتا ہے اور ہم دونوں روپے پیسے کے مسئلے پر جھگڑنے لگتے ہیں ۔ میرا خیال ہے کہ ہمارا سارا غصہ پیسے میں ڈھل جاتا ہے ۔ ہماری لڑائی کے لیے وہ آسانی سے ہاتھ آجانے والا موضوع ہے‘‘ ۔

لوگ عموماً اس قسم کے چکر میں پھنس جاتے ہیں ۔ اس سے بچیں اور ان موضوعات کو اٹھانے سے گریز کریں جو آپ کے شریک حیات کے شدید ناراضی کا سبب بنتے ہیں ۔ آپ کی زندگی میں ایسا کوئی مسئلہ ہے تو آرام سے بیٹھ کر افہام وتفہیم سے کام لیں اور اس کو حل کریں ۔ اس پر چیخنے چلانے سے معاملات درست نہیں ہوتے ، بلکہ مزید بگڑ جاتے ہیں ۔
یادرکھیں کہ عام طور پر میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ وفاداری کی زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں ۔ وہ اپنے بندھن کی بے حرمتی پسند نہیں کرتے ۔ حالات ہی انہیں بے وفائی کی ترغیب دیتے ہیں یا پھر مجبور کردیتے ہیں ۔ اس قسم کے حالات اچانک پیدا نہیں ہوتے ۔ وہ رفتہ رفتہ نمایاں ہوتے ہیں ۔ لہذا ابتدائی مراحل پہ ان پر قابو پانا دشوار نہیں ہوتا۔ خوش گوار ازدواجی زندگی کے لیے آپ کو اس قسم کے حالات پر نظررکھنی چاہیے ۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں