اساتذہ کا عالمی دن اور پاکستان

“جو لوگ بچوں کو اچھی تعلیم دیتے ہیں ان کی عزت کرو۔ ماں باپ تمہیں پیدا کرتے ہیں لیکن استاد تمہیں اچھی زندگی گزارنے کا فن سکھاتے ہیں۔” (ارسطو)

“ایک عام استاد تمہیں چیزوں کے بارے میں صرف بتاتا ہے، ایک اچھا استاد اس کی وضاحت کرتا ہے، ایک اعلیٰ درجہ کا استاد عملی طور پر کرکے دکھاتا ہے، جبکہ ایک بہترین استاد طالب علموں میں تحریک پیدا کرتا ہے”۔ (ولیم آرتھر وارڈ)

اساتذہ کی عظمت کے بارے میں دنیا بھر کی زبانوں میں بے شمار اقوال موجود ہیں اور مہذب معاشروں میں انہیں قدر و منزلت کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ ترقی کی منزلیں تعلیم سے جڑی ہیں اور کون ہے جو تعلیم میں اساتذہ کے کردار سے انکار کرے۔ غالباً درس و تدریس کے شعبے میں سب سے زیادہ افراد کام کرتے ہیں۔ یونیسکو کے اعداد و شمار کے مطابق 2015 کے سال تک عالمی سطح پر بنیادی لازمی تعلیم کے لیے 16 لاکھ اضافی اساتذہ کی ضرورت پڑے گی اور اس کے بعد 2030 تک مزید 33 لاکھ مزید اساتذہ درکار ہوں گے۔

اساتذہ کا عالمی دن ہر سال 5 اکتوبر کو منایا جاتا ہے جس کی ابتداء 1994 سے ہوئی تھی۔ یونیسکو، یونیسف اور تعلیم سے منسلک دیگر اداروں کی جانب سے اس دن جہاں اساتذہ کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے وہاں ان مسائل کا جائزہ بھی لیا جاتا ہے جو انہیں درپیش ہیں۔ استاد ایک اچھے تعلیمی نظام کا بنیادی عنصر، اس کی روح ہیں اور جب تک اساتذہ کو معاشرے میں عزت نفس نہیں ملتی، وہ مقام نہیں ملتا جس کے وہ مستحق ہیں، وہ اپنے فرائض کو بخوبی انجام نہیں دے سکتے۔

یونیسکو بنکاک اور کورین ایجوکیشن ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوشن (KEDI) نے 2014 میں ایشیا۔پیسفک کے لیے ایک سیمینار منعقد کیا تھا جس میں اساتذہ کو تحفظ دینے اور اس پیشے کو باوقار بنانے کے لیے پانچ نکاتی سفارشات پیش کی گئی تھیں:

1۔ اساتذہ کو تحفظ دینے اور ان کی کارکردگی کو موثر بنانے کے لیے پالیسی بنائی جائے اور انہیں ایک قانونی ڈھانچہ فراہم کیا جائے۔

2۔ اس پیشے میں ایسے لوگوں کو ملازمتیں دی جائیں جو تربیت یافتہ ہوں، جن میں تدریس کا شوق ہو، ان کے لیے اسکولوں میں خوشگوار ماحول فراہم کیا جائے جہاں تعلیمی سازوسامان مہیا ہو۔

3۔ جو لوگ یہ پیشہ اختیار کرنا چاہیں انہیں درس و تدریس شروع کرنے سے پہلے اس کی تربیت دی جائے جو دوران ملازمت بھی جاری رہے۔ اساتذہ کے لیے ان کے کیریئر کی ترقی کے لیے باضابطہ پروگرام تیار کیا جائے۔

4۔ اساتذہ کو ان علاقوں میں بھیجا جائے جہاں ان کی شدید ضرورت ہے۔ دور دراز علاقوں میں کام کرنے والے اساتذہ کو ترغیبات فراہم کی جائیں، انہیں سفری الاؤنس دیا جائے، صحت کی سہولتیں حاصل ہوں اور مدت ملازمت مکمل ہونے کے بعد پینشن اور دیگر مراعات دی جائیں۔

5۔ ملازمت کے دوران انہیں ہر طرح سے سپورٹ کیا جائے، ان کے ساتھ تعاون کیا جائے، ان کی رہنمائی کی جائے، ان کے حالات کار اطمینان بخش ہوں، اچھی کارکردگی کو سراہا جائےاور ان کے معیار کو جانچنے کا طریقہ کار صاف و شفاف ہو۔ انہیں با اختیار بنایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:تصوف‘ صوفی ازم اور اصل حقائق

اس سال اساتذہ کے عالمی دن کا موضوع ہے” اساتذہ میں سرمایہ کاری کریں، مستقبل میں سرمایہ کاری کریں”۔

اس سال عالمی تنظیموں کا ایجنڈہ ہوگا:

نئی نسل کی تعلیم و تربیت میں اساتذہ کا رول۔

اساتذہ کی تعداد میں اضافہ کے لیے اقدامات کرنا۔

معاشرے میں استاد کی اہمیت کو واضح کرنا۔

دنیا میں امن قائم کرنے، غربت اور افلاس کا خاتمہ کرنے، مسلسل ترقی اور قوموں اور نسلوں کے درمیان مفاہمت پیدا کرنے میں تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ آج کل دنیا کے مختلف خطے کئی طرح کے تنازعات کی لپیٹ میں ہیں، دہشتگردی اور جنگیں ہورہی ہیں، آئے دن ممالک قدرتی آفات کا شکار ہوتے رہتے ہیں، کہیں سیلاب ہیں تو کہیں زلزلے۔ غرض یہ کہ دنیا کی آبادی کا خاصہ بڑا حصہ ہنگامی حالات کی زد میں ہے جس سے سب سے زیادہ بچے متاثر ہوتے ہیں۔

یہ بچے کیمپوں میں محصور ہوجاتے ہیں جہاں انہیں تعلیمی سہولتیں نہیں ملتیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انہیں تعلیم و تربیت کی سہولتیں فراہم کی جائیں، انہیں جنگوں اور خونریزیوں کے دائرے سے باہر رکھا جائے اور ان کے لیے پیشہ وارانہ تعلیم کا انتظام کیا جائے تاکہ یہ جلد از جلد اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکیں۔

کیا استاد کا کوئی نعم البدل ہوسکتاہے؟ کیا آپ کسی ایسے معاشرے کا تصور کرسکتے ہیں جہاں اسکول نہیں، ٹیچرز نہیں؟ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کو چھوڑ کر بیشتر مالک میں، خاص طور پر غریب ممالک میں، اساتذہ انتہائی مشکلات کا شکار ہیں۔ انہیں وہ سماجی مرتبہ حاصل نہیں جس کے وہ مستحق ہیں۔

دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ غریب ممالک میں تعلیم ایسے افراد کے ہاتھوں میں ہے جو اپنی تعلیمی قابلیت کی بنیاد پر اس کے اہل نہیں سمجھے جاتے۔ ان کی تنخواہیں کم ہیں اس لیے یہ پیشہ تعلیم یافتہ افراد کی نظروں میں پرکشش نہیں۔ پالیسی ساز نہ تو انہیں شریک کرتے ہیں نہ ہی ان کے معاملات کا فیصلہ کرتے وقت ان سے مشاورت کی جاتی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ابتدائی لازمی تعلیم کے لیے 5,420,000 اساتذہ کی خدمات درکار ہیں ۔ ان میں سے 1,760,000 نئے اساتذہ ہوں گے اور 3,660,000 اساتذہ ان لوگوں کی جگہ لیں گے جو مختلف وجوہات کی بناء پر اپنے عہدے سے سبکدوش ہوجائیں گے۔

ابتدائی لازمی تعلیم کو ہمارے ملک میں بری طرح نظرانداز کیا گیا ہے۔ ملینیم ڈیولپمنٹ گولز کو پورا کرنے میں ہم ناکام رہے۔ بجٹ میں تعلیم کا حصہ دنیا میں مروجہ اصولوں کے مقابلے میں کم ہے۔ تعلیمی نظام ناقص ہے۔ سیاسی مداخلت ہے جس کے نتیجے میں بدعنوانیاں، اقربا پروری اور جانبداری زور پکڑ رہی ہے۔ اساتذہ کی جوابدہی نہیں ہوتی، انہیں تنخواہیں کم ملتی ہیں، نصاب تعلیم فرسودہ ہے۔

پنجاب آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے جہاں اسی تناسب سے اساتذہ کی تعداد سب سے زیادہ ہے، یعنی54.71 فیصد جبکہ گلگت بلتستان میں یہ سب سے کم ہے، صرف 0.74 فیصد۔ سندھ میں اساتذہ کی تعداد مجموعی تعداد کا 20.81 فیصد ہے جبکہ کے پی میں 13.61 فیصد، بلوچستان میں 3.82 فیصد، اسلام آباد میں 1.12 فیصد، فاٹا اور آزاد کشمیر اور جموں میں بالترتیب 1.82اور 3.40 فیصد ہے۔ جنس کی بنیاد پر دیکھا جائے تو خواتین اساتذہ کم ہیں جس کی وجہ ہمارے ملک کا جاگیرداری اور قبائلی نظام ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کامیاب لکھاری بننے کے راہنما اصول

پنجاب میں خواتین اساتذہ کی تعداد ملک بھر میں سب سے زیادہ، یعنی 56 فیصد ہے۔ اور سندھ میں 52 فیصد ہے۔ کے پی اور بلوچستان میں صورت حال بالکل برعکس ہے۔ کے پی میں مرد اساتذہ 61 فیصد اور عورتیں 39 فیصد ہیں جبکہ بلوچستان میں مرد اساتذہ 64 فیصد اور خواتین اساتذہ 36 فیصد ہیں۔ اسلام آباد میں خواتین اساتذہ کی تعداد ملک بھر میں سب سے زیادہ 68 فیصد ہے، جبکہ فاٹا میں سب سے کم ہے جہاں خواتین اساتذہ صرف 28 فیصد ہیں۔

پاکستان میں تعلیمی قوانین کے مطابق پرائمری اسکولوں میں پڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ امیدوار گریجویشن کی ڈگری کے ساتھ بی ایڈ کی ڈگری اور مڈل اور ہائی اسکول میں پڑھانے کے لیے بی ایڈ کی ڈگری کے ساتھ ماسٹرز کی ڈگری کا حامل ہو۔ لیکن زمینی حقائق اس سے مختلف ہیں۔ اساتذہ کی بڑی تعداد اس معیار پر پوری نہیں اترتی۔

پاکستان کے چھوٹے چھوٹے پرائیویٹ اسکولوں میں اساتذہ کی تنخواہیں سرکاری اسکولوں کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ اشرافیہ کے اسکولوں میں تنخواہیں سرکاری اسکولوں کے مقابلے میں بہتر ہیں۔ یونیسکو اور عالمی ادارہ محنت نے سفارش کی ہے کہ اساتذہ کی تنخواہیں ان کی تعلیمی قابلیت کے لحاظ سے کم از کم اتنی ہونی چاہیئں جتنا کہ دوسرے شعبوں میں۔ انہیں اتنے وسائل فراہم کیے جائیں کہ وہ اپنے خاندان کی کفالت کرسکیں اور مالی لحاظ سے اتنے مضبوط ہوں کہ مزید تعلیم کے ذریعے اپنی قابلیت میں اضافہ کرسکیں۔

پاکستان میں تعلیم کے مسئلے کو ہنگامی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اساتذہ نظام تعلیم میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جب تک ان کے حالات کار بہتر نہیں ہوں گے ان سے اچھی کارکردگی کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ ایک خوشحال استاد ہی صحت مند تعلیمی ماحول کی ضمانت دے سکتا ہے۔

تحریر:سیدہ صالحہ

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں