استقبال وفضیلت ماہ رمضان

ماہ رمضان اسلامی سال کانواں مہینہ ہے جسطرح ہم پر نمازفرض ہے اسی طرح ماہ رمضان کے روزے رکھنابھی فرض ہیں ۔امت مصطفیﷺپر روزے کی فرضیت ۲ہجرہی ۰۱شعبان المعظم میںہوئی اوراس کے مطابق سیدعالم نورمجسم شفیع معظم ﷺنے ۹رمضان المبارک کے مہینوں کے روزے فرضیت کے بعدرکھے اس کے بعدآپﷺکاوصال مبارک ہوا۔رمضا ن المبارک کامقدس مہینہ اللہ تعالیٰ کی تجلی ذاتی کامظہرہے ۔
حضرت سلمان فارسیؓ بیان کرتے ہیں کہ آخرشعبان میں نبی کریمﷺنے صحابہ کرام علہیم الرضوان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا”اے لوگوتم پرعظمت والامہینہ سایہ کررہاہے یہ مہینہ برکت والاہے جس میں ایک رات ایسی ہے جوہزارمہینوں سے بہترہے یہ و ہ مہینہ ہے جس کے روزے اللہ پاک نے فرض کیے اورجس کی راتوں کاقیام نفل بنایاجواس مہینہ میں کسی نفلی ،نیکی سے اللہ رب اللعالمین کاقرب حاصل کرناچاہے تواسے فرض اداکرنے کے برابرثواب ملے گااورجس نے اس مہینہ میں ایک فرض اداکیاتواسے دوسرے مہینوں کے سترفرضوں کے برابرثواب ملے گا۔یہ صبرکامہینہ ہے اورصبرکاثواب جنت ہے یہ ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی کامہینہ ہے یہ وہ مہینہ ہے جس میں مسلمانوں کارزق بڑھادیاجاتاہے جواس مہینہ میں کسی روزہ دارکوافطارکرائے تواس کے گناہوں کی بخشش ہوگی اورآگ سے اسکی گردن آزادہوجائے گی اورافطارکرانیوالے کوروزے دارکاثواب ملے گاروزہ دارکے ثواب میں کمی کے بغیرصحابہ کرام علہیم الرضوان ؓ فرماتے ہیں ہم نے عرض کیایارسول اللہﷺ!ہم میں سے ہرشخص کے پاس روزہ افطارکرانے کاانتظام نہیں توآقاﷺنے فرمایااللہ پاک یہ ثواب اس شخص کوبھی دے گاجودودھ کاایک گھونٹ یاکھجوریاگھونٹ بھرپانی سے کسی کوافطارکرائے اورجس نے روزے دارکوپیٹ بھرکرکھاناکھلایااللہ اسے قیامت کے دن وہ پانی پلائے گاجس کے بعدوہ جنت میں جانے تک کبھی پیاسانہ ہوگایہ وہ مہینہ ہے جس کے اوَل میں رحمت درمیان میں بخشش اورآخرمیں آگ سے آزادی ہے اورجواس مہینہ میں اپنے غلام (ملازم)سے نرمی کرے گاتواللہ پاک اسے بخش دے گااورآگ سے آزادکردے گا۔(مشکوٰة شریف)
یہ مہینہ کتنامقدس مہینہ ہے آقاﷺکے اس خطبہ میں اس بات پرتنبہیہ ہے کہ خبرداررمضان المبارک کاایک ایک سیکنڈاللہ پاک کی اطاعت وعبادت میں گزارنا۔کہیں ایسانہ ہوکہ ماہ رمضان المبارک کاچاندنظرآجائے اورتم غفلت میں پڑے رہو۔بلکہ غفلت کوچھوڑکراپناتن عبادت خدامیں مصروف کردو۔آپﷺ نے اس مہینہ کے آنے کی خبردیتے ہوئے یہ ارشادفرمایاکہ تم پرایک عظیم مہینہ سایہ کرنے والاہے ۔یعنی ما ہ رمضان ایک ایساسایہ داردرخت ہے کہ جومسلمان بھی اسکے نیچے تھکاہاراآتاہے اس کویہ سکون بخشتاہے دنیاوآخرت کے عذاب سے بچالیتاہے ۔اس مہینہ میں ایک ایسی رات جوہزارمہینوں سے افضل ہے یعنی کوئی شخص اگراس ایک رات جسے لیلة القدرکی رات کہتے ہیں میں اللہ پاک کی صدق دل سے عبادت کرے تواللہ پاک اسکوہزارمہینوں کی عبادت کاثواب عطاکردیتاہے ۔شعبان المعظم کامہینہ ختم ہونیوالاہے ہمیں بھی چاہیے کہ آج ہی سے ماہ رمضان المبارک کی آمدکی تیاری کرلیں تاکہ ماہ رمضان المبارک سے پہلے ہی ہم اپنے گناہوں کی اللہ پاک کی بارگاہ سے معافی مانگ لیں تاکہ یہ ماہ مقدس شروع ہوتے ہی اللہ پاک کی رحمت ہم پرسایہ فگن ہوجائے ۔ارشادباری تعالیٰ ہے۔ترجمہ©”رمضان کامہینہ جس میں قرآن اترالوگوں کے لئے ہدایت اوررہنمائی اورفیصلہ کی روشن باتیں توتم میں سے جواس مہینہ کوپائے تواسکے روزے رکھے اورجوبیماریاسفرمیں ہوتواتنے روزے اوردنوں میںاللہ تعالیٰ تم پرآسانی چاہتاہے دشواری نہیں چاہتااسلئے کہ تم گنتی پوری کرو”۔(سورة البقرة پارہ نمبر۲)
حضرت سیدُناابوسعیدخدری ؓ سے روایت ہے کہ آقاﷺنے ارشادفرمایا”جب ماہِ رمضان کی پہلی رات آتی ہے توآسمانوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اورآخررات تک بندنہیں ہوتے جوکوئی بندہ اس ماہِ مبارک کی کسی بھی رات میں نمازپڑھتاہے اللہ تعالیٰ اس کے ہرسجدہ کے عِوض (یعنی بدلہ میں )اس کے لئے پندرہ سونیکیاں لکھتاہے اوراس کے لئے جنت میں سُرخ یاقوت کاگھربناتاہے جس میں ساٹھ ہزاردروازے ہوں گے اورہردروازے کے پَٹ سونے کے بنے ہوں گے جن میں یاقوت سرخ جڑے ہوں گے ۔پس جوکوئی ماہِ رمضان کاپہلاروزہ رکھتاہے تواللہ مہینے کے آخردن تک اُس کے گناہ معاف فرمادیتاہے اوراُس کے لئے صبح سے شام تک سترہزارفرشتے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں ۔رات اوردن میں جب بھی وہ سجدہ کرتاہے اس کے ہرسجدہ کے عِوض(یعنی بدلے)اُسے (جنت میں)ایک ایک ایسادرخت عطاکیاجاتاہے کہ اُس کے سائے میں گُھڑسوارپانچ سوبرس تک چلتارہے ۔(شُعب الایمان)
عربی زبان میںرمضان کامادہ رمض ہے جسکامعنی سخت گرمی اورتپش ہے رمضان میں چونکہ روزہ داربھوک وپیاس کی حدت اورشدت محسوس کرتاہے اس لئے اسے رمضان کہاجاتاہے۔ارشادباری تعالیٰ ہے ۔اے ایمان والو!تم پرروزے فرض کیے گئے جیسے اگلوں پرفرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے۔(سورة البقرة )اس آیت کریمہ میں عربی زبان کالفظ صیام یاصوم اس کے لغوی معنی اوراصلاحی معنی لغت میں صوم کامطلب ہوتاہے۔” کسی شے سے رک جاناکسی شے سے بازرہنا”قرآن مجیدفرقان حمیدمیں حضرت مریم علہیاالسلام کاتذکرہ موجودہے کہ جب وہ قوم کی طرف آئیں توان کے پاس ان کے بیٹے حضرت عیسیٰ علیہ السلام موجودتھے اورانہیں خدشہ تھاکہ لوگ مجھ پرتنقیدکریں توخالق کائنات اللہ رب العالمین نے ان سے کہا۔ جب لوگ تم سے پوچھیں توتم کہہ دینا میں نے اللہ پاک کے روزے کی منت مانی ہے ۔تو میں کسی آدمی سے گفتگونہیں کروں گی ۔جوبھی تجھ سے پوچھے کہ شادی کے بغیریہ بچہ کیسے پیداہواتوتم اس سے کہہ دیناکہ میں نے رحمٰن کے لیے روزے کی نذرمانی ہے لہذامیں کسی سے گفتگونہیں کروں گی۔قرآن مجیدکے اس مقام پربات کرنے سے رکنااورجواب نہ دینااس کوصوم کہاگیاہے تویہ لغت میں صوم کامعنی ہے کہ کسی چیزسے بازرہنااوررک جاناخواہ کوئی چیزہوکوئی امرہواس لحاظ سے لفظ صوم کواستعمال کیاگیاہے ۔

تحریر:حافظ کریم اللہ چشتی پائی خیل (میانوالی)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں