اسلامی ضابطہ حیات اور عورت

عورت قدرت کی حسین تخلیق ہے۔جس کا وجود آغاز سے صنف مخالف کا مرہون منت ہے۔جب اسے تخلیق کیا گیا تو سب سے پہلے رشتہ ازدواج سے منسلک کیا گیا۔عورت ذات زمانے کے ساتھ مختلف رشتوں سے منسلک ہو کر اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ساڑھے چودہ سو سال قبل دین اسلام نےجو مقام و مرتبہ عورت ذات کو دیا دنیا کے کسی اور مذہب میں نہیں دیا گیا۔ عورت ذات اپنا عرصہ حیات دو مراحل میں گزارتی ہے۔ جس طرح ایک بچہ مدرسے میں داخل ہو کر تربیت حاصل کرتا ہے پھر اسکی صلاحیتوں کو پرکھنے کے لئے اسے امتحان گاہ بھیجا جاتا ہے بالکل اسی طرح یہ دنیا عورت کے لئے درسگاہ ہے۔جب وہ دنیا میں آتی ہے تو اسکی زندگی کا پہلا دور میکے میں گزرتا ہے میکے کی مثال ایک کلاس کی سی ہے جہاں اسے دینی و دنیاوی دوں اصولوں پر تربیت دی جاتی ہے۔اس دور سے تربیت پانے کے بعد وہ زندگی کے دوسرے مرحلے سسرال میں داخل ہوتی ہے۔سسرال کی مثال ایک امتحان گاہ کی ہے جہاں کلاس(میکے) سے لی گئی تربیت کا امتحان ہوتا ہے ،جہاں اسے کلاس (میکے) میں سکھائی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہوتا ہے۔یہ امتحان سانسوں کی ڈور ٹوٹنے تک جاری رہتا ہے۔وہاں(سسرال میں) جتنا مرضی Excellent رہیں کوئی فرق نہیں پڑتا سراہا جائے گا مگر ذرا سی بھول چوک اگلا سارا وقت سزا کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے جہاں عورت کا ہر ٹیلنٹ پس منظر چلا جاتا ہے۔ صرف اس لئے کہ وہ عورت ذات ہے۔ عورت ذات اپنا کردار خود بناتی ہے۔صنف نازک ہونا ایک حوصلہ طلب کام ہے۔محرم رشتوں کا ساتھ ہو تو اسے حوصلہ ملتا ہے ورنہ زندگی کی ہر جنگ اکیلے لڑنا پڑتی ہے یہی قدرت کا اصول ہے۔عورت ذات کے لئے یہ بڑی سرخ روئی ہےکہ رب کائنات اپنی محبت کے لئے اس ہی کے ایک روپ کا حوالہ دیتا ہے،سبحان اللّٰہ۔
عورت زات کے کتنے ہی رنگ ہیں کہیں وہ بیٹی کی حیثیت سے والدین کے لئے باعث رحمت ہے تو کہیں ضعف الاعتقاد اسے زحمت تصور کرتے ہیں۔کہیں یہ بہن بھائیوں کی عزت و مان ہے تو کہیں یہ خود عزت کی چادر تار تار کرتی ہوئی مان کو قدموں تلے روند جاتی ہے۔کہیں یہ وفا کہ پیکر بنی ایک ہی نام پر ساری زندگی گزار دیتی ہے تو کہیں لفظ وفا کی دھجیاں اڑا دیتی ہے۔کہیں اپنے شوہر کے لئے باعث تسکین ہے تو کہیں نامحرموں کی تسکین کا سامان بنتی ہے۔کہیں یہ ماں جیسے عظیم مرتبے پر فائز ہے تو کہیں مادیت پرستی میں اپنی ہی اولاد سے منکر ہے۔۔۔۔۔۔الغرض قدرت کا یہ شاہکار “عورت” ہر لحاظ سے اپنا کردار ادا کرتی ہے۔موجود دور کی فرسودہ سوچ و افکار نے جہاں جاہلانہ رسم و رواج کو فروغ دیا ہے اس میں بھی عورت کا ہی ہاتھ ہوتا ہے کیوں کہ نسلیں عورت کی گود میں ہی پروان چڑھتی ہیں اور کردار کا پتہ تربیت سے لگتا ہے۔ایک صالح عورت ، زمانے کے غوث بھی تشکیل دے سکتی ہے اور بڑے بڑے جہلاء بھی اس کے ہاتھوں پروان چڑھ سکتے ہیں۔ساری بات عورت کے ضابط حیات پر آ کر ختم ہوتی ہے۔عورت کو یہ ضابطہ حیات آج سے ساڑھے چودہ سو سال قبل اسلام نے ایک منظم شکل میں اسے تھمایا ہے جس میں اسکی زندگی کے ہر ہر پہلوؤں پر راہنمائی موجود ہے۔اس سے بڑھ کر کیا اعزاز ہو گا کہ معجزہ خداوندی میں ایک پوری سورۃ “النساء” کے نام سے اتاری گئی ہے، سبحان اللّٰہ۔۔۔۔۔زمانے جیسے جیسے آگے سرکتے جا رہے ہیں اس ضابطہ حیات پر عمل کی ضرورت آج بھی اتنی ہی اہمیت کی حامل ہے جتنی ساڑھے چودہ سو سال قبل تھی اس میں ترمیم کی رتی برابر بھی گنجائش نہیں۔مگر آج کی عورت آزادی اور روشن خیالی کے نام پر مسلسل تباہی کی طرف گامزن ہے جس کے پیچھے کسی اور کا نہیں اسکا اپنا ہی کردار ہے۔رب کائنات کی طرف سے دیئے جانے والے ضابطہ حیات سے بری الذمہ ہو کر یا اس میں گنجائش کا تقاضا کر کے وہ اپنے لئے گھاٹے کا سودا ہی کرے گی اور اپنی دنیا و آخرت دونوں کے لئے تباہی کا سامان کرے گی۔اپنی اس تباہی پر فخر صرف وہی کر سکتی ہے جس کی عقل پر پردے پڑ چکےہوں اور صم بکم کے مصداق حق سے انکاری ہو۔قدرت کا یہ حسین شاہکار عورت اگر اپنے حسن کے جلوے بکھیرتے ہوئے دنیا و آخرت دونوں میں کامرانیاں چاہتا ہے تو اپنا کردار اسلام کے طے کردہ اصولوں پر ادا کرنا ہو گا ورنہ اس کے بغیر وہ عورت کہلانے کی بھی مستحق نہیں.

تحریر: بنتِ باجوہ

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں