اسلام کیا چاہتا ہے ؟؟

ہر پاکستانی مسلمان یہی چاہتا ہے کہ وطن عزیز میں اسلام کا نفاذ ہو، شرعی سزائیں اور معاشی نظام نافذ کیا جائے، شرعی احکامات پہ عمل در آمد کو یقینی بنایا جائے لیکن کیا کبھی ہم نے سوچا کہ اسلام ہم سے کیا چاہتا ہے ؟ کیا اسلام کے تقاضہ ہائے جات اور ان سے متعلقہ لوازمات کے بارے میں جاننا ہم نے گوارا کیا ؟ اسلام نے ایک نظریہ دیا، ضابطہء حیات دیا، معاشی نظام دیا اور اس پہ جب تک عمل در آمد ہوتا رہا، قرآنی تعلیمات کی روشنی میں سماجی ڈھانچہ تشکیل پاتا رہا ، مسلمان اوجِ ثریا پہ مقیم رہے ، روگردانی کی صورت میں جو ہوا ،وہ ہمارے اجداد کی چار نسلوں نے دیکھا اور بھگتا ۔آج بھی ہم دیکھ اور بھگت رہے ہیں اور شاید ہماری اگلی نسلوں کو بھی اسی عذاب سے گزرنا پڑے گا کیونکہ
؂ ہمارا حال وہ سب کچھ ہمیں بتا رہا ہے،
ہمارے ساتھ جو کچھ پیش آنے والا ہے۔
(روفی سرکارؔ )
فی زمانہ یہ پیمانہ بن چکا ہے کہ کسی بھی نظریے کی عزت اور اہمیت کا اندازہ اس کے پیروکاروں کے رویے اور کردار سے لگایا جا تا ہے۔ آج کا مسلمان کسی بھی حوالے سے اسلام کا نمائندہ نہیں ہے بلکہ بعض مسلمان تو یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ مسلمانوں کے کردار سے اسلام کے بارے میں مت رائے قائم کرو کیونکہ مسلمان برے ہو سکتے ہیں، اسلام نہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ موجودہ ترقی یافتہ اور عقل کی سربلندی والے دور میں کون اس انوکھی منطق کو تسلیم کرے گا؟ کیا ہمیں خود کو تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں ؟ کیا اسلام کے تقاضوں کو سمجھے بغیر ہم ترقی یافتہ دنیا میں اپنی بقا کی جنگ لڑ سکتے ہیں ؟
اسلام محض عبادات و رسومات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک زندہ نظریہ ہے جو یہ تقاضہ کرتا ہے کہ اس کے پیروکار اعلیٰ اخلاقی اقدار کے حامل ہوں، احساس ذمہ داری سے سرشار ہوں، دین کے ساتھ دنیا میں بھی کچھ کر دکھانے کے خواہاں ہوں، بدلتی دنیا کے جدید تقاضوں سے نہ صرف ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت رکھتے ہوں بلکہ تبدیلی اور جدت کے اس کاروان کی رہبری و رہنمائی کی کے بھی اہل ہوں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ اسلام کا پیروکار علم و ہنر کو صدقِ دل سے اپنی معراج سمجھے ، نئی ٹیکنالوجی اور جدید علوم پہ بھرپور دسترس حاصل کرے اور اس کے حصول کے لیے مشرق و مغرب، عرب و عجم کا فرق روا نہ رکھتے ہوئے جہاں سے یہ دولت میسر ہو حاصل کرے۔ موجودہ دور میں اسلام کو ایسے مسلمانوں کی ضرورت ہے جو صرف مسجد میں معتکف ہو کر نہ بیٹھیں بلکہ تجربہ گاہوں کا بھی رخ کریں شرعی علوم کے ساتھ جدید علوم کے حصول کے لیے بھی تگ و دو کریں۔ اسلام کو الخوارزمی، البیرونی، ابن الہیثم، فارابی اور ابنِ سینا جیسے مسلمانوں کی ضرورت ہے، جن کی رسد گاہوں میں مصلے ہوں اور مسجدوں میں تجربہ گاہیں ہوں، جن کے ایک ہاتھ میں اسلام ہو اور دوسرے ہاتھ میں سائنس ہو۔ وہ دونوں کو ساتھ لے کر چلیں اور دنیا کو بتا دیں کہ جس ترقی کے تم نعرے لگاتے ہو ،وہ ہماری میراث ہے اور ہم اسے حاصل کر چکے ہیں۔ کسی مسلمان کے شایانِ شاں نہیں کہ وہ کسی انٹلکچوئل کو محض کافر کہ کر رد کر دے بلکہ اس کا فرض ہے کہ اس کے علم و ہنر سے بھرپور استفادہ حاصل کرے جیسا کہ حضورﷺ نے کافر قیدیوں کو حکم دیا تھا کہ وہ مسلمانوں کے بچے پڑھائیں۔ اسلام یہ نہیں چاہتا کہ قرآن پاک کو محض ثواب کے لیے پڑھا جائے بلکہ اس کا تقا ضہ یہ ہے کہ قرآنی تعلیمات کے مطابق معاشرے کا سیاسی، معاشی اور سماجی ڈھانچہ تشکیل دیا جائے تاکہ عدم برداشت کا خاتمہ ہو، علوم کے حصول کی راہ ہموار ہو، مسلمانوں کے مل جل کر رہنے کی سبیل بنے اور اسلام کا پرچم بلند ہو۔
ہر پاکستانی مسلمان یہی چاہتا ہے کہ وطن عزیز میں اسلام کا نفاذ ہو، شرعی سزائیں اور معاشی نظام نافذ کیا جائے۔ شرعی احکامات پہ عمل در آمد کو یقینی بنایا جائے لیکن کیا کبھی ہم نے سوچا کہ اسلام ہم سے کیا چاہتا ہے ؟؟

تحریر: روفی سرکار ؔ

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں