افسانہ ” ایک ادھوری رہ جانے والی ملاقات جو آج چاند رات پر مکمل ہوئی ” ، الیاس بابر محمد

ارے واہ ، آخر تب کے گئے آج نظر آ ہی گے ہو – وہ میرے سامنے جا رہا تھا میں نے اسے آواز دی تو پیچھے مڑ کر مسکرانے لگا –

ہم دونوں چکلالہ سکیم تھری کے کمرشل ایرے میں عاصم کی سابقہ دکان ( جہاں کبھی چاند رات کو عاصم سٹال لگائے کڑیوں کے ہاتھوں میں چوڑیاں چڑھایا کرتا اور ہم اسے خوش قسمت سمجھ کر آہیں بھرا کرتے تھے ، اگرچہ اب الله تعالیٰ کا شکر بھی ادا کرتے ہیں کہ ہم نے صرف آہیں ہی بھری ہیں ورنہ اگر عاصم کی طرح چوڑیاں بھی چڑھائی ہوتی تو آج ہاتھوں کی لکیریں مٹ چکی ہوتیں اور کمر بھی چاند رات کی چاند کی طرح خمدار ہوتی ) کے سامنے سے گزر رہے تھے –

میں :- سنا کیسی رہی تیری چھٹیاں ؟
وہ :- ابے یار کیا بتاؤں ، کام ہی بہت تھا –

میں :- یارا تیری تو چھٹیاں تھیں نا

وہ :- ابے کاہے کی چھٹیاں ، تم لوگوں نے میرے لیے تو یہ بھی حرام کر دی ہوئی ہیں –
میں :- یارا وہ کیسے ؟

وہ :- تھوڑی سی طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ ، تمہیں نہیں پتا ؟

میں :- ابے یار میری تیری دوستی ضرور ہے مگر مجھے تیرے چھٹیوں کے معاملات کا علم نہیں ، لہذا بتاؤ کیا رپڑا ہے ؟
ابے ہاں یاد آیا سنا اس دن تیرے جس بچے کی طبیعت خراب تھی جسکی جگہ تو ڈیوٹی دینے کا کہہ کر گیا تھا ، اسکا کیا بنا ؟

وہ :- روکھے سے انداز میں ، ٹھیک ہے اب وہ –

میں :- اب بتا بھی دے ہوا کیا ہے چھٹیوں میں ؟

ہم دونوں اب گلشن سویٹ ہاؤس کے پاس کھڑے ہیں ————

میں :- کچھ کھاؤ گے ؟ انکا پتیسہ بڑا زبردست ہوتا ہے ، کیا خیال ہے –
وہ :- تم لوگوں کا بس ایک ہی کام ہے ہر وقت کھاتے جاؤ ، کھاتے جاؤ ، کہیں سے بھی مل جائے ، چاھے کسی کا بھی ہو بس کچھ مت چھوڑنا –

میں :- اچھا چولیں نہ مار بول کچھ کھانا ہے تو ؟

وہ :- نہیں ، کچھ سوچتے ہوئے ، چل علی بھائی دہی بھلے سینٹر پر چلتے ہیں –

ہم اب ٹیلی نار کے فرنچائز کے سامنے پہنچ چکے ہیں ———

وہ :- پتا نہیں یہاں کیوں رش بنا ہوا ہے ؟
میں :- مجھے کیا پتا ، چل آ پوچھ لیتے ہیں
وہ :- نہیں چھوڑ

ہم علی بھائی دہی بھلے سینٹر پر پہنچ چکے ہیں – ————-

وہ :- آج رش کچھ کم نظر آ رہا ہے یہاں ، شاید رمضان کی وجہ سے بے حس لوگوں کی حس نمکین ہو گئی ہوئی ہے –

میں نے دو پلیٹ دہی بھلے آرڈر کیئے جو چند منٹوں بعد ہمارے سامنے تھے –

میں :- ہاں اب بتا کیا مسلہ ہوا تیری چھٹیوں میں ؟

وہ :- دہی بھلے مکس کرتے ہوئے ، یارا ہونا کیا تھا بس یوں سمجھ اب کی بار تو چھٹیاں صرف کاغذی تھیں ، جو کام میرے کرنے کے ہوتے تھے وہ تیرے ہمزادوں نے خوب نبھائے ہیں ، اگرچہ میں یہاں موجود تو نہ تھا مگر میرے کام ، جو پچھلی امتوں میں صرف میں ہی کرتا رہا ہوں تیرے ہمزادوں کو کرتے دیکھ ذہنی اذیت میں مبتلا رہا ہوں –

میں اسکی باتیں سنتے ہوئے مصالحے دانی سے اپنی پلیٹ میں جیسے ہی مصالحہ ڈالنے لگا ، مصالحے دانی کا ڈھکن لوز ہونے کی وجہ سے سارا مصالحہ پلیٹ میں ایسے آ کر گرا جیسے رمضان میں گراں فروشوں کی گود میں ناجائز منافع آ کر گرتا ہے –

میں :- پھر ، اب ؟

وہ :- اب خود ہی دیکھ نا رمضان المبارک کے شروع ہوتے ہی تیرے ہمزادوں نے وہ ہی چیزیں پانچ گناہ تک منافع سے بیچی ہیں جو رمضان سے پہلے کم قیمت تھیں ، مضر صحت گھی میں تلی ہوئی اشیا ، ملاوٹ شدہ دودھ ، دہی ، مہنگا پھل ، مردار مرغی اور گدھوں کا گوشت تو سر عام بکے ہیں ، اور چھوڑ تیری حکومت نے جو سستے بازار لگائے تھے انہوں نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی اپنے ہی ہمزادوں کی کھال ادھیڑنے میں –

تجھے پتا تیرے لوگوں نے تیرے ملک کے بینکوں سے ماہ صیام کے شروع ہوتے ہی اپنی رقوم نکال لی تھیں کہ کہیں ان پر زکات نہ کاٹ لی جائے ، اگرچہ تیرا سارا بینک کا سسٹم بھی سودی ہے مگر کیا ہے نا وہ عرشی نیتوں کو جانتا ہے –

تیرے ٹی وی چینلوں پر رمضان ٹرانسمیشن کے نام سے تیرے ملک کے علماء نے دین کا صبح شام مذاق اڑایا ہے ، رحمان کے احکام کی ایسی ایسی تشریح کی ہے کہ الامان الحفیظ ، اپنی دوکانداری چمکانے کے لیے ایسے ایسے فروعی مسائل پر بات کی ہے جو امت مسلمہ کو دیمک کی طرح چاٹ چکے ہیں ، رب ذوالجلال کی کتاب پر گنجائشی تنقید ، سید کونین علیہ السلام کے فرمان کی من چاہی تشریح یہ سب تم لوگوں نے ہی تو کیا ہے نا –

تیرے ٹی وی چینلوں پر مخلوط پروگرام تو عشروں سے ہوتے ہی ہیں مگر تجھے پتا اس بار کعبتہ الله جانے کے لیے بھی غیر محروموں کو ایک دوسرے کے دامن پکڑنے کے لیے ایک دوسرے کے پیچھے ایسا دوڑایا گیا ہے جیسے زلیخا یعقوب علیہ السلام کے چاند کے پیچھے دوڑی تھی –

تیرے ہاں اہل ثروت کی افطار پارٹیوں میں غریب ایسے دھتکارے گے ہیں جیسے فرعون کے دربار سے اسرائیلی دھتکارے جاتے تھے ، توں جانتا تھا نا کہ تیرے ہمسائیوں کے ہاں کھانے کو کچھ نہیں مگر تم لوگوں نے اپنی نمرود جیسی ناک اونچی رکھنے کے لیے مسجد میں افطاریاں بھیجوا کر واہ واہ کروائی –

اور چھوڑ ابھی کا دیکھ ، تم لوگ صبح عید پڑھو گے اور ابھی تک بیشمار ایسے ہیں جنھیں صدقه فطر ادا کرنے کا بھی یاد نہیں – ابھی کچھ دیر بعد فاطمی بک والوں کے سامنے دیکھیو ڈھول کی تال پر مہندی لگے گی ، نامحرم مرد لڑکیوں کا ہاتھ پکڑ کر ان کے گھر والوں کے سامنے چسکوں سے انہیں چوڑیاں چڑھائیں گے – تیرے جیسے جوان جو سارا رمضان گھر سے تراویحوں کا کہہ کر نکلتے تھے مگر معشوقوں کو اس وعدے پر آئسکریم کھلاتے تھے کہ چاند رات کو وہ انکی چاندی کروائے گی ، تو دیکھ وہ کیسے دوسروں کے گھروں کی عزتوں کو تاراج کرتے ہیں ، اور تجھے تو پتا ہی ہے کہ آج فلیش مین میں بھی خاص رش ہو گا آخر انگور کے نچوڑ کو تم لوگ چاند رات پر کیسے بھول سکتے ہو –

اب میں اسکی کڑوی کسیلی باتیں سن کر بور ہونے لگا تھا ، دہی بھلے بھی ختم ہو چکے تھے لہذا یہاں سے اٹھنے میں ہی عافیت سمجھی ، کاونٹر پر ادائیگی کر کے باہر آئے تو اسے سگریٹ کی طلب ہوئی ، ہم دائیں طرف کو چلنے لگے جہاں کبھی یونائیڈ بیکری ہوا کرتی تھی اسکے ساتھ سگریٹوں کی شاپ کا مجھے پتا تھا ، میں نے سگریٹ خریدے اور اسے سگریٹ سلگا کر دیا پہلا کش لگاتے ہی کہنے لگا کمبختو ! تم لوگ تو زہر بھی اصلی نہیں بھیجتے –

ہم لوگ سگریٹ شاپ کے سامنے سیڑھیوں پر کھڑے ہیں –

میں :- ہاں یارا یاد آیا ! ہماری کرکٹ ٹیم چمپئین بن کر لوٹی ہے ، سنا ہے اپنے میاں صاحب نے فی کس کھلاڑی ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا ہے ، کیا کہتے ہو ؟

وہ :- سیڑھیاں نیچے اترتے ہوئے ، تھوڑا توقف سے —- ابے بھائی جس ملک کے جرنیل فلموں کے ٹریلر رلیز کریں ، جہاں کی جیلوں میں سگنل جیمر لگے ہونے کے باوجود موبائیل فون کی سہولت قیدی اپنے گھر کی طرح استعمال کر رہے ہوں ، جہاں کا وزیر اعظم پاڑا چنار اور کوئٹہ میں مرنے والے بے گناہوں کو کندھا دینے کے بجائے کعبے میں خدا ڈھونڈنے نکل پڑا ہو ، جہاں خوشی اور لالچ حادثے کی صورت اختیار کر لیں وہاں ایسے اعلان نہیں ہوں گے تو اور کیا ہو گا ؟؟

باتوں باتوں میں وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا عشاء کا وقت کب کا گزر چکا ہے ، حسب روایت اب کمرشل مارکیٹ میں خوب دھوم دھڑکا شروع ہو چکا ہے ، سی ایس ڈی والی سڑک پر لگے مہندی کے سٹال پر پریوں کی آمد کو دیو خوب سیلبریٹ کر رہے ہیں ، اس کا ارادہ جامع مسجد کی طرف جانے کا تھا اور میرا حسب روایت چاند رات پر لگے مہندی لگواتی پریوں کے ٹینٹ کی طرف ———-

اس نے میرا ارادہ بانپتے ہوئے مجھے ہر عید کی طرح اپنے گلے سے لگایا اور کہنے لگا تیرے سمیت تیرے ہمزادوں کو ” شیطان ” کی طرف سے کل کی عید مبارک ، اور پھر سڑک کراس کر کے وہ مسجد کی طرف چل دیا ، میں پوچھتا رہا کہ اب کب ملو گے مگر شاید منچلوں کی موٹر سائیکلوں کے پھٹے سائلنسروں کی آواز نے میری آواز دبا دی تھی ——-

مجھے اب پھر واپس اسی طرف جانا تھا جہاں سے لے کر وہ مجھے چلا تھا ——————-

میرے ہمزادوں کو ” شیطان ” کی طرف سے صبح کی عید مبارک –

شہداء کوئٹہ ، پاڑا چنار اور احمد پور شرقیہ کے درجات کی بلندی کے لیے الله تعالیٰ سے دعا گو ہوں –

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں