امریکی فیصلے کیخلاف اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں قرارداد منظور

ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے باوجود مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق امریکی اعلان کے خلاف قرار داد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کثرتِ رائے سے منظور کر لی گئی ہے،قرارداد کے حق میں 128ووٹ آئے جبکہ مخالفت میں صرف 9 ووٹ ڈالے گئے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور اپنے سفارت خانے کی وہاں منتقلی کا اعلان کیا تھا ، اس اعلان پر دنیا بھر سے شدید مذمت کی جا رہی ہےاور پاکستان اور ترکی سمیت مسلم ممالک میں امریکی فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کیے جارہے ہیں ۔

امریکی فیصلے کے خلاف اسلامی تعاون تنظیم کا سربراہ اجلاس بھی ہوا، جس نے ٹرمپ کے اعلان کی مذمت کی اور فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی فیصلے کے خلاف قرارداد پیش کرنے میں ترکی اور پاکستان بھی شامل تھے ۔

اس سے پہلے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرار داد کو امریکا نے ویٹو کر دیا تھ،جس کے بعد قرار داد جنرل اسمبلی میں پیش کی گئی۔

UN-Resolution

دوسری جانب فلسطین نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مقبوضہ بیت المقدس پر امریکی فیصلے کے خلاف قرارداد کی منظور کا خیر مقدم کیا ہے ۔

فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ عالمی ادارے میں قرارداد کی منظوری کے بعد فلسطین کو ایک بار پھر عالمی برادری کی حمایت حاصل ہو گئی اور کسی بھی فریق کا فیصلہ حقائق کو نہیں بدل سکتا ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق امریکی فیصلہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، مقبوضہ بیت المقدس کی حیثیت بدلنے والا کوئی منصوبہ قبول نہیںاور حالیہ دھمکیوں کے باوجود فلسطینیوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔

جنرل اسمبلی کے غیر معمولی ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ملیحہ لودھی نے کہا کہ پاکستان مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق قرارداد کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم فلسطین اور ان کے جائز مطالبات کے حق میں ہیں، فلسطینیوں کی جدوجہد کی حمایت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہےاور ہم فلسطینیوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔

ملیحہ لودھی نے زور دیا کہ 2 ریاستی حل کے علاوہ فلسطینیوں کو کوئی فیصلہ قبول نہیں ہوگا، دارالحکومت القدس کے ساتھ آزاد خود مختار فلسطین ہی مشرق وسطیٰ امن کی ضرورت ہے اور اس کے علاوہ کوئی منصوبہ قابل قبول اور قابل عمل نہیں ہوگا۔

ادھر اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی کا کہنا ہے کہ امریکا اپنا سفارتخانہ یروشلم میں منتقل کرے گااور ووٹنگ سے امریکی فیصلے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

جنرل اسمبلی کے غیرمعمولی ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نکی ہیلی کا کہنا تھا کہ امریکا اقوام متحدہ کا سب سے بڑا کنٹری بیوٹر ہے، اقوام متحدہ کے لیے مخلصانہ کام کرتے ہیں، اقوام متحدہ کو بھی امریکی فیصلوں کا احترام کرنا چاہیےجبکہ امریکی سفارتخانے کی جگہ منتخب کرنا ہمارا جائز حق ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے ممالک نے ہماری امداد اور اثرور سوخ سے فائدہ اٹھایا ہے، آج کے دن امریکا کے خلاف ووٹ دے کر امریکی رسوائی کرنے والوں کو امریکا یاد رکھے گا۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں