انتظار حسین۔۔۔۔۔تہذیبِ گم گشتہ کا ‘آخری داستان گو’

7 دسمبر 1923ء کو پیدا ہوئے اور فروری 2016ء میں لاہور میں انتقال پا گئے ۔ بوقت انتقال ان کی عمر 92 سال تھی۔ انتظار حسین قیام پاکستان کے بعد لاہور آئے، اردو میں ماسٹرز کرنے کے بعد صحافت سے وابستہ ہوئے۔ ان کی طویل ترین وابستگی روزنامہ “مشرق” کے ساتھ رہی جہاں وہ لاہور نامہ کے عنوان سے کالم لکھتے تھے۔ افسانوں کا پہلا مجموعہ “گلی کوچے” کے نام سے 1951ء میں شائع ہوا۔ اس کے بعد 1957ء میں کنکری اور آخری آدمی، 1972ء میں شہر افسوس، 1975ء میں کچھوے، 1986ء میں خیمے سے دور اور 2008ء میں خالی پنجرہ کے نام افسانوں کے مجموعے شائع ہوئے اور بہت مقبول ہوئے۔ ان کے مشہور ناولوں میں چاند گہن 1952ء میں شائع ہوا اور 1980ء میں بستی اور 1987ء میں نے تذکرہ نے بھی خاصی شہرت حاصل کی۔ لیکن کراچی کے سیاسی حالات پر لکھے گئے ناول ‘آگے سمندر ہے’ نے مقبولیت کے ریکارڈز توڑ دیے۔ یہ 1995ء میں شامل ہوا تھا۔ 2012ء میں آپ نے اپنی خودنوشت ‘جستجو کیا ہے’ لکھی۔
ہجرت انتظار حسین کی زندگی کا سب سے ہم لمحہ تھی اور یہی وجہ ہے کہ اس زمانے کے ہر بڑے ادیب کی طرح ہجرت ان کی تحاریر پر غالب نظر آتی ہے لیکن انتظار حسین نئی مملکت کے مستقبل کے حوالے سے تشویش کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے ناولوں میں ‘آگے سمندر ہے’ اور ‘بستی’ کو اردو خاص مقام حاصل ہے۔ ناولوں کے علاوہ انہوں نے افسانے بھی بہت مشہور ہوئے۔ انہوں نے تنقید، شخصی خاکے اور ترجمے بھی کیے۔ ان کے ادبی کارناموں پر حکومت حکومت پاکستان نے ستارہ امتیاز اور اکادمی ادبیات پاکستان نے کمال فن ایوارڈ سے نوازا۔ 2013ء میں انتظار حسین مین بکر انٹرنیشنل پرائز کے لیے نامزد ہوئے جبکہ ستمبر 2014ء میں حکومت فرانس نے اعلیٰ شہری اعزاز ‘نشان علم و ادب’ دیا۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں