انفرادی تربیت کا فقدان اور معاشرتی گراوٹ

پچھلے دنوں کسی کام کی غرض سے ایک سکول جانا ہوا تو دیکھا گلی میں دو بچے سکول جاتے جھگڑ رہے تھے۔یوں تو عبائیہ پہن کر گھر سے نکلے تھے مگر ہر آتے جاتے کی نظریں خود پر چبھتی محسوس ہو رہی تھیں۔منزل مقصودپر پہنچے تو ایک اماں جی با آواز بلند تبصرہ فرما رہی تھیں کہ میں نے اپنے بیٹے کو کہا تھا بچوں کو سکول چھوڑ جائے مگر بہو رانی نے جان بوجھ کر یہ مصیبت میرے گلے ڈالنی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔کان لپیٹ کر جو اندر داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں ،سکول آفس میں طالبعلموں کی ایک لمبی قطار کھڑی ہے جس کے سامنے پرنسپل صاحب سکول کی آیا کو باآواز بلند کسی کوتاہی پر ڈانٹ رہے ہیں اور طالبعلم اس بات کا مذاق بناتے ہوئے دبی دبی ہنسی ہنس رہے ہیں۔غرض سارا وقت ایسی بے شمار مثالیں دیکھتے ہوئے کام نمٹا کر گھر پہنچے اور سکون کا سانس لیا۔ذہن بار بار اس سوچ میں ڈوبا جا رہا تھا کہ آخر اس دنیا میں کوئی تہذیب کیوں نہیں ہے لوگ ایسا کیوں کرتے۔۔۔۔یہی سوچتے ہوئے کھانے کی غرض سے کچن کا رخ کیا تو کام والی ماسی جو بمشکل
پرائمری پاس تھی بڑے خوب صورت طریقے سے اپنی سات سالہ بیٹی کوکھانا بنا کر پیش کرنے کا طریقہ سمجھا رہی تھی بچی پوری توجہ سے ماں کے کام کو دیکھتے ہوئے عمل کر رہی تھی اس منظر کو دیکھ کر ہمیں اپنے ذہن میں ابھرنے والے ہر سوال کا جواب مل گیا تھا۔معاشرے میں جو کچھ ہو رہا ہے اسکی بڑی وجہ انفرادی تربیت کا فقدان ہے۔بچے کسی بھی ملک و
قوم کا بہترین سرمایہ ہوتے ہیں۔ملک میں تہذیب و تمدن کے سنہری اصولوں پر عمل درآمد کے لئے ان کی عملی تربیت ایک بنیادی اصول کا درجہ رکھتی ہے۔حالات حاضرہ کے پیش نظر اکثر والدین اور اساتذہ بچے کو نصابی تعلیم تو
دے دیتے ہیں مگر اسکے انفرادی کردار جو سنوارنے میں ناکام رہتے ہیں ۔نتیجًآ ایک بے راہ روی کا شکار معاشرہ تشکیل پاتا ہے جو انسانیت کی صفات سے کلی طور پر نا بلد ہوتا ہے۔اگر بعض اداروں میں تعلیم کے ساتھ تربیت سے بھی بہرہ ور کیا جاتا ہو تو وہاں والدین اپنے منفی کردار سے بچے کے بگاڑ میںایک ٹھوس وجہ ثابت ہوتے ہیں۔جس کے نتیجے میں بچے کی شخصیت دوہرے معیار کی حامل ہوتی ہے۔یہی دوہری شخصیت آگے معاشرے میں بہت سی برائیوں کا موجب بنتی ہے جس کا قصور وار بھی ہم۔خود معاشرے کو ہی قراردیتے ہیں۔ظاہر ہے جیسی تربیت دی جائے گی ویسا ہی انسان ہو گا اور معاشرہ تو انسانوں ہی سے مل کر بنتا ہے۔اگر ہم معاشرے میں ایک مکمل تہذیب چاہتے تو ہمیں تعلیم کے ساتھ ساتھ ایک اچھی تربیت بھی کرنا ہو گی جس میں اساتذہ اور والدین دونوں کو مل کر اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہو گا تبھی ہم تہذیب یافتہ قوموں کی صف میں کھڑے ہو سکتے ہیں۔

تحریر: بنت باجوہ

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں