انما الاعمال بالنیات

سوشل میڈیا پر بھی، اور براہ راست بحث و مباحثے میں بھی، ایک حدیث کا اکثر حوالہ دیا جاتا ہے ۔ ۔ ۔
’’انما الاعمال بالنیات‘‘ یعنی اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔
اس حدیث میں اچھی نیت کی اہمیت ضرور بتائی گئی ہے، لیکن اعمال کی نفی کہیں نہیں۔ اس کا سیدھا اور صاف مطلب یہی ہے کہ آپ بظاہر کتنے ہی نیک اعمال کریں، اگر آپ کی نیت خالص نہیں تو یہ اعمال اچھے نظر آنے کے باوجود اللہ کی بارگاہ میں مقبول نہیں ہوں گے۔
لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی کو غلط کام، یا نماز وغیرہ جسے اعمال میں کوئی غلطی دکھائی جائے تو وہ کہتے ہیں کہ ہماری نیت تو اچھی تھی، اور ساتھ اس حدیث کو پیش کر دیتے ہیں۔ یہ اس حدیث کا نہایت غلط استعمال ہے۔
اگر کسی نے نماز کا درست طریقہ سیکھا ہے تاکہ اللہ کی بارگاہ میں قبول ہونے والی نماز پڑھی جائے، اور اس کے بعد بھی کوئی غلطی ہوجائے تو یقیناً اس کا حوالہ دیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ انسان کوشش کا مکلف ہے نتیجے کا نہیں۔
لیکن اگر کوئی شخص درست نماز سیکھنے کی کوشش ہی نہ کرے، یا کوشش کے باوجود کوئی چیز رہ جائے اور کسی کے اس طرف توجہ دلانے کے باوجود اپنی اصلاح کرنے کی بجائے اس حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہے کہ میری نیت تو خالص تھی، تو جو غلطی ہو چکی اس کے لیے تو نیت درست ہونا ٹھیک ہو سکتا ہے، اور عمل میں غلطی ہونا قابل معافی ہے۔ لیکن اصلاح کی بجائے غلط طریقہ جاری رکھتے ہوئے یہ کہنا کہ ’’انما الاعمال بالنیات، اس لیے میرے غلط عمل میں بھی کوئی مسئلہ نہیں‘‘ حدیث کا انتہائی غلط استعمال ہے۔ جب تک درست طریقہ معلوم نہ ہو اور اس کے لیے کوشش جاری ہو، تب تو یقیناً یہ کہا جا سکتا ہے۔ لیکن غلطی پر توجہ دلائے جانے کے باوجود اس حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے غلطی جاری رکھنا جہالت ہے۔

تحریر: محمد انور میمن (جاپان)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں