انٹری ٹیسٹ استحصال کا نظام

بہاول پور(ڈسٹرکٹ‌رپورٹر)انٹری ٹیسٹ استحصال کا نظام ہے جس نے کالجز اور یونیورسٹیز میں داخلے کا نظام انتہائی مشکل اور پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایم کیٹ، ای کیٹ، نیٹ اور گیٹ جیسے انٹری ٹیسٹ کے نظام سے میرٹ کا قتل عام ہونے کیساتھ ساتھ غریب طالبعلموں کی حق تلفی ہو رہی ہے۔

پی پی ایس سی کے امتحانات میں نقل اور ایم کیٹ کے ٹیسٹ میں پیپر کا قبل از وقت آؤٹ ہوجانا اس نظام کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔یہ نظام ملک میں پرائیویٹ میڈیکل و انجینئرنگ کالجز اور اکیڈمی مافیا کو فروغ دے رہا ہے جس کی وجہ سے انٹری ٹیسٹ کی تیاری، کتابوں ، ہاسٹلز کی رہائش اور دیگر اخراجات کیلئے والدین کوہزاروں روپوں کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔

ان خیالات کااظہار مہر قیصر امیر،ملک امجد ایڈوکیٹ،خضر شاہ، ملک طاہر فیض، میاں عمر امجد، بلال ترک،داؤد ظفر، چوہدری ناصر ارائیں، آصف بلوچ دیگر طلباء نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ انٹری ٹیسٹ کا نظام کوئی بہتری نہیں لا سکا بلکہ یہ ایسا طریقہ کار بن گیا ہے جس کے ذریعے ہزاروں طالب علم بھی داخلوں سے محروم کر دیے جاتے ہیں۔میڈیکل اور انجینئرنگ کالجز میں داخلہ ایف ایس سی کے نمبروں کی بنیاد پر ہونا چاہئے اس کیلئے اضافی انٹری ٹیسٹ لینا طلباء کے ساتھ زیادتی ہے۔

کرپشن زدہ اور استحصالانہ نظام کی زد میں آکر غریب بچے ڈاکٹر و انجینئر بننے کا خواب دیکھتے رہ جاتے ہیں اور امیر طالبعلم سفارش اور پیسے کے بل بوتے پر آگے نکل جاتے ہیں۔طلباء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بورڈ کے امتحانی نظام کو بہتر کرتے ہوئے انٹری ٹیسٹ کے نظام پر فوری پابندی عائد کی جائے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں