اومیگا تھری کیپسول واقعی امراض قلب سے بچاتے ہیں، سچ کیا ہے؟

دنیا بھر میں مشہور ہے کہ مچھلی کے تیل والے اومیگا تھری کیپسول انسان کو ہارٹ اٹیک اور دیگر امراض قلب سے محفوظ رکھتے ہیں۔ اس دعوے کی حقیقت جانچنے کے لیے ایک لاکھ سے زائد افراد کی جانچ پر مشتمل سائنسی تحقیق کی گئی ہے۔

Omega 3 Kapseln Fotolia (Robinson / Fotolia)
دنیا بھر میں ہزاروں افراد گزشتہ کئی برسوں سے روزانہ کی بنیاد پر اومیگا تھری کیپسول استعمال کر رہے ہیں۔ ان کیپسولز کے حوالے سے یہ مشہور ہے کہ یہ دل کو مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔ ان کیپسولز کی تشہیر کرنے والی کمپنیاں بھی اسے خوراک کی کمی پورا کرنے والی دوا قرار دیتی ہیں جب کہ ماضی میں کیے گئے تجربات میں بھی یہی بتایا گیا تھا کہ یہ کیپسول دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔

اومیگا تھری کیپسولز میں فیٹی ایسڈز (چکنے ترشے) کی ایک معمولی مقدار ہوتی ہے۔ یہ فیٹی ایسڈز انسانی صحت کے لیے ضروری بھی ہیں لیکن یہ مختلف سبزیوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔ یہ فیٹی ایسڈز سامن مچھلی کے تیل اور کاڈ مچھلی کے جگر کے تیل میں پائے جاتے ہیں لیکن ان کے علاوہ یہ گری دار میووں اور بیجوں میں بھی ہوتے ہیں۔

Lachs Symbolbild Omega 3 Fettsäuren (Fotolia/Printemps)
لیکن اب بین الاقوامی سطح پر ایک تازہ تحقیق جاری کی گئی ہے، جس میں اومیگا تھری کیپسولز کے حوالے سے نئے انکشافات کیے گئے ہیں۔ اس تحقیق میں ایک لاکھ بارہ ہزار افراد کو شامل کیا گیا تھا اور نتائج کے مطابق یہ ایسا کوئی بھی ثبوت نہیں ملا کہ یہ اضافی فیٹی ایسڈز کسی بہتری کا سبب بنتے ہیں۔

ایسٹ انگلیا یونیورسٹی کی پروفیسر اور اس تحقیقی رپورٹ کی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر لی ہوپر کا کہنا تھا، ’’اس جائزے میں ایسے ہزاروں افراد کی معلومات شامل کی گئی ہیں، جو طویل عرصے سے ایسے کیپسول کھا رہے ہیں۔ تمام تر معلومات کا جائزہ لینے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس کے کوئی حفاظتی اثرات نہیں ہیں۔‘‘

سائنسدانوں کے مطابق مچھلی کا تیل کسی طور پر بھی ہارٹ اٹیک، دل کے دیگر امراض یا موت کے خطرے کو کم نہیں کرتا۔ ان محقیقین نے یہ تحقیق اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے کہنے پر کی ہے۔ ڈبلیو ایچ او ايسی حيوانی يا نباتاتی چربيوں کے بارے میں ایک رہنما فہرست تیار کر رہی ہے، جن سے خون میں کولیسٹرول کی مقدار میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

پروفیسر لی ہوپر کا کہنا تھا کہ ایسے کیپسولز کے حوالے سے جن تحقیقاتی رپورٹوں کا حوالہ دیا جاتا ہے، ان میں سے زیادہ تر اسی یا نوے کی دہائی میں کی گئی تھیں، ’’ہم سب ایسے نتائج پر ایک عرصے سے یقین رکھتے تھے۔ لیکن اب ان میں سے کسی بھی پرانی تحقیق نے ویسے نتائج فراہم نہیں کیے، جیسا کہ ماضی میں دعویٰ کیا گیا تھا۔‘‘

پروفیسر لی کہتی ہیں کہ ایسا کوئی بھی ثبوت نہیں ملا کہ زیادہ تیل والی مچھلی صحت کے لیے اچھی یا بری ہے۔ تاہم پروفیسر لی کا یہ بھی کہنا تھا کہ مچھلی میں بعض دیگر غذائی اشیا کی نسبت آئیوڈین، سیلینیم، کیلشیم اور وٹامن ڈی کی زیادہ مقدار ہوتی ہے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں