اکیسویں‌صدی کا تاج محل ابو ظہبی کی جامع مسجد ، تحریر الیاس بابر محمد –

آنکھوں کو مسحور کرتی چاند کی روشنی جیسی سفید اور تاج محل جیسی بے انتہاء خوبصورت ابو ظہبی کی شیخ زید بن سلطان النہیان جامع مسجد عرب خطے کی بڑی مساجد میں سے ایک ہے ، یہ نہ صرف اپنے حجم میں بڑی بلکہ اپنی بہترین بناوٹ اور اندرونی سجاوٹ کی وجہ سے اپنی مثال آپ اور ماہرین تعمیرات کی فنکارانہ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے – مسجد کی سطح سمندر سے ایک طرف سے بلندی ١١ میٹر دوسری طرف سے ٩.٥ میٹر ہے ، مسجد کی تعمیر کے لیے ایسی جگہ کا انتخاب اس لیے کیا گیا تاکہ دیکھنے والے مسجد کی خوبصورتی کو ہر طرف سے دیکھ سکیں –

مسجد کی تعمیر متحدہ عرب امارات کے درالحکومت ابو ظہبی میں سنہ ١٩٩٦ میں شروع ہوئی اور ١٢ سال کی مدت میں سنہ ٢٠٠٧ میں دو حصوں میں مکمل ہوئی ، تعمیر کے پہلے حصے میں مسجد کا کنکریٹ سٹیکچر جب کے دوسرے حصے میں اندرونی و بیرونی سجاوٹ و فینشنگ کا کام کیا گیا تھا ، جس میں سپر وائٹ ماربل اور کرسٹل استعمال ہوئے ہیں – مسجد کی تعمیر پر تقریبا ٢٠٥ بلین درہم خرچ ہوئے ، تعمیر میں ٣٨ تعمیراتی کمپنیوں کے ٣ ہزار سے زیادہ کاریگروں نے حصہ لیا تھا – مسجد کا کل رقبہ ٢٢ ہزار ٤١٢ مربع میٹر ہے ، مسجد کا ڈیزائن ہندوستان کی مغل آرٹ اور مصر کی اسلامی تعمیرات کا حسین امتزاج ہے ، مسجد کے ڈیزائن میں پاکستان کی بادشاہی مسجد کی واضح جھلک دیکھائی دیتی ہے – مسجد کا صحن ١٧ ہزار ٤ سو مربع میٹر پر مشتمل ہے جسے خالص سفید ماربل میں دوسرے کئی رنگوں کے اطالوی مہنگے پتھروں کے ساتھ خوبصورتی سے مزین کیا گیا ہے –

مسجد کی تعمیر میں تقریبا ٣٣ ہزار ٹن سٹیل اور ٢لاکھ ٥٠ ہزار مکعب میٹر کنکریٹ استعمال کی گئی ہے ، مسجد ٦٥ ہزار فاونڈیشن ستونوں پر قائم ہے – مسجد کی تعمیر میں استعمال ہونے والا مٹیریل دنیا کے کئی ممالک سے منگوایا گیا ہے جن میں اٹلی ، ہندوستان ، پاکستان ، چین ، ایران ، ملائیشیا ، نیوزی لینڈ اور یونان شامل ہیں – مسجد کے اندرونی مرکزی ہال میں ٩٦ ستون جبکہ باقی ایریا ١ ہزار ٩٦ ستون اور ٨٢ گنبد ہیں –
مرکزی ہال کا گنبد دنیا کا دوسرا بڑا گنبد ہے جسکی اونچائی ٨٥ میٹر اور ڈایا یعنی گولائی ٣٢.٨ میٹر ہے اسکے ساتھ ساتھ دو ٧٥ میٹر اونچے گنبد بھی بنائے گئے ہیں ، مسجد کے چاروں اطراف میں ٤ خوبصورت مینار بنائے گئے جنکی اونچائی تقریبا ١٠٧ میٹر فی کس ہے – ایک اندازے کے مطابق مسجد میں کل ١٢٠ ہزار مربع میٹر سپر وائٹ ماربل کا استعمال ہوا ہے جو اٹلی اور یونان سے خصوصی طور پر مسجد کے لیے نکال کر لایا گیا تھا –

سالانہ ٣٠ لاکھ نمازیوں اور سیاحوں کی میزبانی کرنے والی یہ خوبصورت مسجد تقریبا ٤٠ ہزار سے زیادہ نمازیوں کی بیک وقت میزبانی کرتی ہے – مسجد کے تین دروازے عوامی داخلے اور ایک دروازہ وی آئی پی داخلے کے لیے بنائے گئے ہیں – مرکزی دروازے پر سفید ماربل میں خوبصورتی سے قران حکیم کی آیات مبارکہ کندہ کی گئی ہیں – مسجد کا مرکزی ہال تقریبا ٩ ہزار نمازیوں کے گنجائش رکھتا ہے اسکے علاوہ اسکے ساتھ ساتھ ١٥ سو نمازیوں کی گنجائش والے دو ہال ہے جن میں سے ایک خواتین نمازیوں کے لیے استعمال ہوتا ہے – مسجد کے اندر خوبصورت اسلامک کیلگرافی کی گئی ہے –

مسجد کے مرکزی ہال میں ١٢ ٹن وزنی فانوس نصب کیا گیا ہے جسکی مالیت تقریبا ٨ ملین امریکی ڈالر ہے اور اسی فانوس کے نیچے دنیا کا سبب سے بڑا کارپٹ بیچھایا گیا ہے جسے خصوصی طور پر ایران سے تیار کروایا گیا – مرکزی ہال کے فانوس کے علاوہ مسجد میں مزید سات فانوس بھی لگائے گئے ہیں – مسجد میں بچھے کاربٹ کی کل لمبائی ٥ ہزار ٧ سو مربع میٹر جبکہ وزن ٤٧ ٹن ہے جسے ١٢ سو ایرانی خواتین کاریگروں نے دو سال کے عرصے میں تیار کیا ، کارپٹ کے مکمل ٩ حصے ہیں جنھیں بعد میں مسجد میں ہی ایرانی کاریگروں نے جوڑ کر دنیا کا سب سے بڑا کارپٹ بنانے کا اعزاز حاصل کیا –

IMG-20170420-WA0014

مسجد میں لگائے گے کمپیوٹرائز ساونڈ سسٹم کا شمار دنیا کے بہترین سسٹمز میں ہوتا ہے ، کثیر تعداد میں گنبدوں کی موجودگی میں مسجد میں آواز کی گونج کو کنٹرول کرنا ایک بڑا مسلہ تھا جسے جرمن اکیوسٹک کنسلٹنٹ ڈاکٹر وولف نے لائن ایرے ( line array loudspeakers ) اعلی قسم کے لاوڈ سپیکرز نصب کر کے کنٹرول کیا – مسجد کے اندر ایل آی ڈی لائٹنگ کا سسٹم لگایا گیا ہے جبکہ باھر خصوصی طور پر چاند کے اتار چڑھاؤ کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسا سسٹم ڈیزائن گیا ہے جس سے پورے چاند کی راتوں میں مسجد اپنے پورے حسن کے ساتھ سفید رنگ کی نظر آتی ہے اور جیسے جیسے چاند کم ہوتا جاتا ہے سفید رنگ میں ہلکا نیلا رنگ بھی شامل ہو جاتا ہے جو چاند کے ہلال بننے پر اندھیری راتوں میں مکمل نیلا ہو کر روح پرور نظارہ دیتا ہے – مسجد میں گرمی کی شدت کو کم کرنے کے لیے بیسمنٹ میں سینٹرل اے سی یونٹ نصب کیئے گئے ہیں جو امارت کی شدید گرمی میں بھی مسجد کے موسم کو معتدل اور خوشگوار رکھنے کا سبب ہوتے ہیں – مسجد کے جنوبی دروازے کے سامنے اور بیسمنٹ میں وسیع کار پارکنگ موجود ہے، اسکے علاوہ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں آرمڈ فورسز سپورٹ ڈویژن اور وازرت داخلہ کے قریب ٣ ہزار تک کی عارضی کار پارکنگ بھی قائم کی جاتی ہیں –

شیخ زید جامع مسجد کے شمالی مینار کے قریب لائبریری بھی قائم کی گئی ہے جہاں ١٢ مختلف زبانوں میں اسلام ، اسلامی ثقافت و تاریخ ، تعمیرات اور سائنس کی کتابوں کے علاوہ دیگر کئی کتابیں موجود ہیں – عرب تاریخ اور قران حکیم کے قلمی مسودات اور ١٥٣٧ سے ١٨٥٧ تک یورپ میں پرنٹ ہونے والے قران حکیم کے کئی نایاب ایڈیشن بھی لائبریری میں موجود ہیں – لائبریری میں کتابوں کے علاوہ آڈیو ویڈیو مواد بھی دستیاب ہے جس سے نہ صرف طلباء فائدہ اٹھا رہے ہیں بلکہ ریسرجرز بھی مستفید ہو رہے ہیں –

مسجد میں سکیورٹی کا ایک مربوط نظام موجود ہے مسجد کی انتظامیہ و مسجد داخلی پرائیویٹ سکیورٹی کے علاوہ سی آئی ڈی ، پولیس ، پرائیویٹ سکیورٹی ڈپارٹمنٹ اور آرمڈ فورسز کے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں – تقریبا ساری مسجد ہی بہترین سرویلینس کیمروں کی مدد سے مانیٹر کی جا رہی ہوتی ہے ، گمشدہ اشیا ( لاسٹ اینڈ فاونڈ ) ڈیپارٹمنٹ کے علاوہ غیر مسلم مرد و خواتین سیاحوں کے لیے ضابطہ لباس طے کرنے کے لیے بھی لوگ موجو ہوتے ہیں –

شیخ زید جامع مسجد کے صحن میں وی آئی پی انٹرنس کے طرف متحدہ عرب امارات کے پہلے صدر جناب شیخ زید بن سلطان النہیان کا مقبرہ بھی موجود ہے جسے وہاں آنے والے تقریبا سب ہی لوگ وزٹ کرتے ہیں ( عام لوگوں کا مقبرے کے اندر جانا ممنوع ہے ) مقبرے میں موجود قراء حضرات سوائے ممنوع اوقات کے ہر وقت تلاوت کلام پاک میں مصروف رہتے ہیں –

تحریر: الیاس بابر محمد

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں