برما کے مسلمان، جن کے لیے ہر روز ظلم کی داستان

ریاست اپنے تمام شہریوں کے حقوق کی ضامن اور محافظ ہوتی ہے۔اس کا فرض ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر بسنے والے تمام افراد اور گروہوں کی یکساں طور پر نگہ داشت کرے اور رنگ، نسل، جنس اور مذہب سمیت کسی بھی بنیاد پر شہریوں میں تفریق نہ کرے، لیکن انسانیت کا المیہ ہے کہ آج کے مہذب دور میں بھی ایسے ملک موجود ہیں جہاں شہریوں کا ایک بڑا طبقہ تعصب اور ظلم کا شکار ہے۔ برما، جس کا نام اب میانمار ہوچکا ہے، بھی ایک ایسا ہی ملک ہے۔ برما کے مسلمان، جن کی پہچان روہنگیا ہے، ایک مدت سے ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں۔ ان کے خلاف ہونے والے مظالم اس قدر خوف ناک ہیں کہ انھیں دنیا کی مظلوم ترین اقلیت قرار دیا گیا ہے۔

یکم اکتوبر 2013 کو میانمار کی مسلم اکثریتی ریاست اراکان کے ایک ساحلی قصبے میں چورانوے سالہ خاتون اور چار مسلمان مردوں کو بدھوں نے قتل کر دیا جب کہ اسّی کے قریب مکانات کو آگ لگا دی۔ ان واقعات کے بعد مسلمانوں نے اپنی جانیں بچانے کے لیے جنگل کا رخ کر لیا۔ یہ خاندان نہایت خوف کا شکار ہیں اور انہیں سخت حالات کا سامنا ہے۔

یوں تو برمی مسلمان طویل عرصے سے ظلم کا شکار ہیں، مگر حالیہ افسوس ناک اور دل خراش واقعات کا سلسلہ 2012 سے جاری ہے۔ اس ملک میں بدھوں کی اکثریت ہے، جب کہ مسلمان پانچ فی صد اقلیت ہیں۔ ان میں روہنگیا برادری کے مسلمانوں کی تعداد اسّی ہزار ہے۔ یہ ریاست اراکان میں آباد ہیں اور پچھلے سال جون میں شروع ہونے والے مسلم کش فسادات نے انہیں بے گھری کے عذاب سے دوچار کر دیا ہے۔ اب یہ سلسلہ ملک کی مختلف مسلمان آبادیوں تک پھیل چکا ہے۔ میانمار میں ہر طرف آگ اور دھوئیں کے بادل ہیں، خاموشی کا راج ہے۔

2012 میں جون کے مہینے میں بدھوں نے مسلمانوں پر تشدد کا جو راستہ اپنایا، اس نے اب تک کئی خاندانوں کو برباد کردیا ہے۔ اس وقت میانمار کے دارالحکومت رنگون میں 11 مسلمانوں کو ایک بس سے اتار کر قتل کیا گیا تھا، جس پر وہاں کے مسلمانوں نے احتجاج کیا، جس کے دوران برمی فوجیوں کی فائرنگ سے کئی مسلمان اپنی جان سے گئے۔

ریاست میں روہنگیا مسلمانوں کے اس قتل کے بعد مختلف شہروں اور دیہات میں مسلمانوں پر حملے کیے جانے لگے۔ تشدد، قتل اور املاک کو نقصان پہنچانے کا سلسلہ زور پکڑتا چلا گیا۔ برما کی حکومت اور سیکیوریٹی اداروں کی طرف سے خاموش تماشائی کا کردار ادا کیا جاتا رہا، لیکن دنیا کے شور مچانے پر مختلف علاقوں میں کرفیو اور ایمرجینسی نافذ کرنے کے اقدامات کیے گئے، تاہم حکومت قیمتی انسانی جانیں بچانے میں ناکام رہی۔

22 جون تک 57 روہنگیا مسلمان مارے گئے۔ ان واقعات میں 90 ہزار افراد بے گھر ہوئے۔ مسلمانوں کے 13 سو سے زیادہ گھر جلا دیے گئے۔ ان واقعات میں 31 بوھ مت کے پیروکار بھی ہلاک ہوئے تھے۔ بے گھر مسلمان خاندان مختلف خیمہ بستیوں میں بدترین حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور حقوق انسانی کی تمام عالمی تنظیموں نے برمی حکومت کو اس ظلم و ستم کو روکنے اور اقلیتوں کے تحفظ میں ناکامی پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ برمی صدر تھین سین نے اس تنقید پر عجیب بات کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ روہنگیا مسلمانوں کو کسی دوسرے ملک میں آباد کر دیا جائے تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔

ابھی جون کی خوں ریزی پر مسلمانوں کا خوف اور دہشت تازہ تھی کہ اکتوبر کے آخری دنوں میں برما کے مِن بیا اور مراؤک یو نامی علاقوں میں قتل و غارت اور جلاؤ گھیراؤ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ حالات اتنے بگڑے کہ 80 افراد اپنی جانوں سے گئے۔ سیکڑوں مکانات جلا دیے گئے اور ذرایع ابلاغ کے مطابق 22 ہزار افراد بے گھر ہوگئے۔ عالمی تنظیموں نے مظلوم اقلیت کے لیے ریلیف کیمپوں میں رہنے سہنے اور خوراک کے بہتر انتظامات یقینی بنانے کا مطالبہ زور پکڑ گیا تھا، لیکن برما کے صدر تھین سین اس میں بھی ناکام رہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ متاثرین کو امداد پہنچانے میں انہیں کئی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ پچھلے سال اکتوبر میں برما کے مسلمان فسادات کی وجہ سے عیدالضحیٰ بھی نہ مناسکے۔

ان برمی مسلمانوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ انہیں آج تک تارکین وطن کہا جاتا ہے۔ انہیں بنگلادیشی اور دیگر پڑوسی ملکوں کے مہاجرین میں شمار کیا جاتا ہے۔ روہنگیا مسلمانوں کی بات کی جائے تو انہیں مقامی لوگ بنگلادیشی کہتے ہیں جب کہ بنگلادیش انہیں اپنا نہیں مانتا۔ جنوری 2012 میں ایک بنگلادیشی اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ مختلف روہنگیا عسکریت پسند گروہ بنگلادیش میں داخل ہو رہے ہیں، جن میں روہنگیا سولیڈیریٹی آرگنائزیشن، اراکان موومنٹ، اراکان پیپلز فریڈم پارٹی اور اراکان نیشنل آرگنائزیشن بڑے نام ہیں۔ ان تنظیموں نے گٹھ جوڑ کرکے برما کے صوبہ اراکان کو الگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جون کے مہینے میں ریاست اراکان میں بودھ مسلم فسادات شروع ہو گئے اور اسی دوران بنگلادیش کے وزیر خارجہ دیپومونی نے بنگلادیش کی ایک مذہبی جماعت پر عسکریت پسند روہنگی مسلمانوں کی سرپرستی کا الزام عاید کر دیا۔ ستمبر میں ایک بنگلادیشی اخبار نے رپورٹ شائع کی کہ برما کے صوبے اراکان کی ایک جماعت ’’الاراکان‘‘ عسکری سرگرمیوں میں مصروف ہے اور اس کا تعلق ایک کالعدم بنگلادیشی مجاہدین کی جماعت سے ہے۔ ان حالات میں بنگلادیشی عوام برمی مسلمانوں کے لیے کیسے اپنے دل میں ہم دردی محسوس کرسکتے تھے۔ برما میں فسادات بڑھتے گئے اور جب روہنگیا مسلمانوں نے بنگلادیش کی سرحد کا رخ کیا تو انہیں مار پیٹ کر لوٹا دیا گیا۔ بنگلادیشی حکومت نے اس کی تردید کی اور کہا کہ انہوں نے ہزاروں برمی مسلمانوں کو پناہ دی ہے۔ میانمار میں مسلمانوں کو بنگلادیشی ہی نہیں بل کہ ہندوستانی ہونے کا طعنہ بھی دیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ 1921 میں میانمار میں مسلمانوں کی تعداد پانچ لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی اور اس میں سے نصف نے ہندوستان سے یہاں کا رخ کیا تھا۔ آج وہاں آٹھ لاکھ سے زیادہ مسلمان آباد ہیں۔

1962 میں فوج نے جمہوریت کا تختہ الٹا تو معاملات مزید بگڑ گئے۔ اس وقت فوج میں مسلمانوں کی بڑی تعداد شامل تھی، جنہیں فارغ کر دیا گیا۔ فوج کی آشیر باد پر انتہا پسند بدھوں نے مختلف موقعوں پر مسلمانوں کو بربریت کا نشانہ بنایا۔ 2011 میں برما میں جمہوریت نے قدم رکھا، لیکن موجودہ حکومت بھی مسلم کش فسادات روکنے میں ناکام نظر آتی ہے اور اسے عالمی اداروں کی طرف سے الزامات کا سامنا بھی ہے۔

رواں سال پھر مسلم کش فسادات نے سر اٹھایا اور مارچ کے مہینے میں رنگون سے پچاس کلومیٹر دور واقع قصبے میکتیلا میں تین سو افراد نے مسجدوں اور مکانوں پر دھاوا بول دیا۔ انہوں نے مسلمانوں کے مکانات اور دکانیں نذرِ آتش کر دیں جس کے بعد وہاں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی تھی۔ برما کے سرکاری ٹی وی چینل پر کہا گیا کہ ان فسادات کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ خبر رساں اداروں کے مطابق میکتیلا میں نسلی فسادات کے شروع ہونے کے بعد 30 افراد ہلاک ہوئے، لیکن یہ تعداد چند روز جاری رہنے والے تشدد کے واقعات میں بڑھ کر 43 ہوگئی، جن میں بیش تر مسلمان تھے۔

یہ فسادات میکتیلا شہر میں ایک مسلمان سنار کی دکان میں ہونے والی ایک بحث سے شروع ہوئے تھے جو بعد میں دوسرے شہروں تک پھیل گئے تھے۔ فوج کی موجودگی کے باوجود اسی قصبے کے قریب ایک مسجد اور پچاس کے قریب مکانات کو تباہ کردیا گیا۔

اطلاعات یہ بھی تھیں کہ پولیس نے ان تشدد کے واقعات میں ملوث ہونے کے الزام میں کئی بدھوں کو گرفتار کیا۔ اس تشدد کی وجہ ایک سنار کی دکان پر مسلمان اور بدھ مت کے پیروکار کے درمیان ہونے والی بحث بنی تھی، جس کی ویڈیو بعد میں منظر عام پر آئی۔ میڈیا کے نمائندوں کے مطابق ایک مرتبہ پھر ہزاروں کی تعداد میں پولیس اہل کاروں کی موجودگی کے باوجود آگ اور خون کی ہولی کھیلی جاتی رہی، لیکن ان کی طرف سے کوئی قابل ذکر کارروائی نہیں دیکھی گئی۔ اسی ماہ تین مسلمانوں کو تشدد کے واقعات میں ملوث ہونے کے جرم میں 14 برس قید کی سزا سنائی گئی، جب کہ کئی مسلمان اور بدھوں سے ابھی تفتیش کی جا رہی ہے۔

اپریل کے مہینے میں دارالحکومت رنگون کے قریبی قصبے اوکھان میں بدھ مت کے پیروکاروں نے مسلمانوں کی مساجد اور املاک کو نقصان پہنچایا۔ ان فسادات کا آغاز اس وقت ہوا جب ایک خاتون حادثاتی طور پر بھکشو سے ٹکرائی اور ٹکر کے نتیجے میں بھکشو کا کشکول زمین پر گر گیا۔

مئی کے مہینے میں ایک مرتبہ پھر اس وقت فساد برپا ہوا جب برما کے قصبے میکتیلا میں ایک راہب کو مبینہ طور پر ان کی موٹر سائیکل سے گرانے کے بعد مسلمان مردوں کے ایک گروپ نے تشدد کا نشانہ بنایا اور وہ ہلاک ہو گئے۔ ہلاکت کا یہ واقعہ برما کی مسلمان کی اقلیت پر تشدد کا باعث بنا۔ یہ تشدد بڑھتے بڑھتے تین دیگر قصبوں تک پھیل گیا جس کے نتیجے میں 12,000 سے زیادہ مسلمانوں کو بے گھر ہونا پڑا۔

اسی سال 29 مئی کو برما کی شمال مشرقی ریاست شان کے دارالحکومت لیشو میں بھی مسلمانوں اور بدھ مت کے پیروکاروں کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں، جس میں مسلمانوں کی ایک مسجد جلادی گئی۔ یہ فسادات اس وقت شروع ہوئے جب یہ خبر پھیلی کہ پیٹرول اسٹیشن پر ایک مسلمان نے ایک بودھ مذہب کی ماننے والی خاتون کو آگ لگا دی ہے۔ اس علاقے کے رہائشی افراد کا کہنا تھاکہ جس شخص پر بدھ خاتون کو نذر آتش کرنے کا الزام تھا اسے حراست میں لے لیا گیا، لیکن وہاں موجود لوگوں نے مطالبہ کیا کہ پولیس اسے ان کے حوالے کر دے۔ پولیس کے انکار پر ہجوم نے مسجد اور ایک مسلمان کی دکان کو آگ لگا دی تھی۔ اس کے بعد شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔

برما کے شہر کنبو میں 24 اگست 2013 کو ایک بدھ خاتون سے جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار مسلمان کو پولیس نے بلوائیوں کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا، جس پر مشتعل بدھوں نے44 گھروں اور15 دکانوں کو گرا دیا۔

تین اکتوبر کو ریاست میں بودھوں نے ایک گاؤں پر حملہ کیا، جس میں پانچ مسلمان ہلاک ہو گئے۔ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب برما کے صدر تھین سین اس علاقے کے دورے پر تھے۔ ایک بدھ ٹیکسی ڈرائیور کو شکایت تھی کہ ایک مسلمان نے اس کے ساتھ بدتمیزی کی ہے۔ اس کے بعد بدھوں نے درجنوں مکانات اور دکانوں کو آگ لگادی اور مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ ایک خبر کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ اس موقع پر پولیس موجود تھی، جو فقط تماش بین کا کردار ادا کرتی رہی۔

برما کی موجودہ صورت حال پر عالمی میڈیا، تنظیموں کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔ اسی سال ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ برما میں سیکوریٹی فورسز نے نہ صرف اپنے سامنے مسلمانوں کا قتل ِ عام ہونے دیا بلکہ وہ خود بھی اس میں شریک ہوئے۔ رپورٹ میں برما کی حکومت کو گذشتہ برس مغربی صوبے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور وہاں رہنے والے مسلمانوں کے قتل عام کا ذمے دار ٹھہرایا گیا ہے۔

وسائل کی تقسیم

برما کے مسلمان ہی غربت کا شکار نہیں بل کہ اس ملک میں افلاس عروج پر ہے، جس کی وجہ سے غربت کے شکار ہر ملک کی طرح برما میں بھی وسائل کی تقسیم پر تنازعات نفرتوں کا سبب ہے۔

میانمار قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے، جہاں قیمتی پتھر، گیس اور تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ چین اور بھارت کی حکومتیں اس ملک سے گہرے معاشی روابط چاہتی ہیں اور دیگر طاقتیں بھی معاشی فوائد حاصل کرنے کی خواہش مند ہیں۔ چند سال کے دوران چین اور بھارت نے تجارتی تعلقات کو وسعت دینے کوشش کی ہے، لیکن امریکا کو یہ بات پسند نہیں ہے۔

امریکا اور کینیڈا نے فوجی آمریت ہونے کے باعث میانمار پر مختلف قسم کی پابندیاں عاید کر رکھی ہیں جب کہ یورپی یونین نے اپنے ارکان سے کہہ رکھا ہے کہ وہ برما سے تجارتی تعلقات استوار نہ کریں۔

ہلاکتیں اور بے گھری

خبر رساں اداروں کے مطابق پچھلے سال جون سے اب تک فسادات میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد250 ہے، جب کہ ڈیڑھ لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔

ان کی بڑی تعداد میانمار کے مختلف حصوں میں حکومت اور مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں کے مہاجر کیمپ زندگی گزار رہے ہیں۔ انہیں خوراک اور رہن سہن کے کئی مسائل کا سامنا ہے۔ ہلاکتوں سے متعلق اعدادوشمار خبر رساں اداروں کے ذریعے دنیا بھر میں میڈیا کے نمائندوں تک پہنچ رہے ہیں، لیکن سوشل میڈیا پر اس سلسلے میں شکوک کا اظہار کیا جارہا ہے۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ دنیا تک ہلاکتوں کی درست تعداد نہیں پہنچائی جارہی اور عالمی میڈیا بھی مسلمانوں کے خلاف سازش میں برمی حکومت کا ساتھ دے رہا ہے۔ ان میں سوشل میڈیا کی مختلف ویب سائٹس استعمال کرنے والے مسلمان اور دیگر مذاہب کے افراد شامل ہیں۔

اپنے وطن میں بے وطن روہنگیا مسلمانوں کی تاریخ

برما (میانمار) کی کل سات کروڑ کی آبادی میں اکثریت بدھ مت کے ماننے والوں کی ہے۔ برما میں یہاں نسلی، مذہبی اور قومی اعتبار سے بہت زیادہ اقلیتیں رہتی ہیں، جب کہ دیگر مذاہب کے مقابلے میں مسلمان ایک بڑی اقلیت شمار ہوتے ہیں۔

135 جدا گانہ شناخت رکھنے والی مگر کل آبادی کا محض 5 فی صد ہونے والی نسلی قومیتوں اور پھر چھے کے قریب ایسے نسلی گروپوں کی موجودگی، جن میں سے اکثریتی نسل 68 فی صد ہو اور باقی قومیتیں دوسے نو فی صد تک ملک میں وجود رکھتی ہوں،کے باہمی تعلق کو جوڑنے والا کوئی نظریہ یا وحدت نہ ہوتو پھر ان کی باہمی آویزش کوئی عجیب بات نہیں ہے۔ یہ آویزش اس باعث اور شدت اختیار کرگئی ہے کہ مختلف علاقوں میں ترقی کا تناسب انتہائی غیر ہم وار اور متعصبانہ ہے۔

برما کا نام ایک قومیتی گروپ کی مناسبت سے 1989ء میں میانمار رکھا گیا۔ یہ چین، تھائی لینڈ، بنگلا دیش، ہندوستان اورلاؤس کا ہم سایہ ہے۔ برما کا ایک تہائی رقبہ خلیج بنگال اور انڈیمان سمندر کے کنارے پر واقع ہے۔ موجودہ برما کی جغرافیائی حدود کا تعین فروری 1947ء میں آنگ سانگ کے تحت برمی حکومت اور کاچن، شان اور چن لوگوں کے نمائندوں کے ساتھ پینگ لانگ معاہدے کے ذریعے ہوا۔ رقبے کے لحاظ سے یہ جنوب مشرقی ایشیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔

برما کے صوبے اراکان میں مسلمان اکثریت میں آباد ہیں۔ 1886ء سے 1948ء تک برما پر برطانوی سام راجی نظام قائم رہا۔ 1948ء میں جب برما کو آزادی ملی تو صوبہ اراکان ایک مکمل آزاد مسلمان ریاست تھی، جس میں بدھ مذہب کے پیروکاروں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی، جس کا برما سے قطعی کوئی تعلق نہ تھا۔ صوبہ اراکان کے مسلمانوں کا مطالبہ تھا کہ ان کا الحاق مشرقی پاکستان کے ساتھ کردیا جائے، تاہم 1948ء میں برما کے راجا نے اراکان پر حملہ کر کے اسے اپنا صوبہ بنالیا۔

اراکان کے مسلمان 1824ء سے بھی پہلے سے اس علاقے میں موجود ہیں۔ تاہم کچھ برمی تاریخ داں اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک 1824 میں روہنگیا مسلمان برما میں موجود نہیں تھے، بلکہ یہ لوگ برطانوی راج کے دوران 1950ء کی دہائی میں اس وقت کے مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلا دیش) سے ہجرت کر کے برما کے علاقے ’’اراکان‘‘ میں آباد ہوئے۔ اسی طرح معروف روہنگیا تاریخ داں ’’خلیل الرحمان‘‘ لکھتے ہیں کہ روہنگیا عربی زبان کے لفظ ’’راہما‘‘سے نکلا ہے، جس کے معنی ’’رحم‘‘ کے ہیں۔

ان کے مطابق آٹھویں صدی عیسوی میں ایک عرب بحری بیڑا ’’رامری‘‘ جزیرے کے پاس پھنس گیا، جس میں عرب تاجر سوار تھے۔ یہ جزیرہ اراکان کے علاقے میں واقع ہے۔ اراکان کے بادشاہ نے تمام تاجروں کو مارنے کا حکم دیا، جس پر وہ سب ’’راہما، راہما‘‘ چلانا شروع ہو گئے۔ یہاں سے ہی ان لوگوں کا نام راہما پڑ گیا، جو وقت کے ساتھ بدلتا بدلتا روہنگیا بن گیا، لیکن کچھ مسلمان تاریخ داں جن میں بنگلا دیش سے تعلق رکھنے والے ظہیر الدین احمد بھی شامل ہیں، خلیل الرحمان کی بات سے اختلاف کرتے ہیں، لیکن وہ اس بات سے متفق ہیں کہ روہنگیا مسلمان 1824ء سے بھی پہلے برما میں موجود تھے۔

برما میں بدھ مت سے تعلق رکھنے والے روہنگیا مسلمانوں کو بنگلادیش سے آئے ہوئے غیرقانونی مہاجرین سمجھتے ہیں اور ان کو برما سے نکالنا چاہتے ہیں۔ برما کی حکومت روہنگیا مسلمانوں کو ملک کا شہری تسلیم کرنے سے اس بنیاد پر انکار کرتی ہے کہ ان لوگوں کے آبا و اجداد اس وقت یہاں آباد نہیں تھے، جب میانمار برطانوی نو آبادی تھا، تاہم روہنگیا مسلمانوں کا کہنا ہے کہ ان کے آباواجداد برطانوی دور سے بھی پہلے اس علاقے میں آباد تھے۔ مسلمانوں کو یہاں صرف ایک شناختی کارڈ ملتا ہے، جس پر انہیں ’مہمان‘ بتایا جاتا ہے۔

ماضی میں متحدہ ہندوستان اور برما کے درمیان کوئی سرحد نہیں تھی اور لوگ آزادانہ آیا جایا کرتے تھے۔ حکومتِ برطانیہ نے اپنی ضرورت کے تحت برصغیر کے لوگوں کو برما میں سہولتیں دیں اور انہیں فوج، پولیس اور دیگر سرکاری اور غیر سرکاری دفاتر میں ملازمتیں بھی دلائیں اور یوں برما میں لوگ آباد ہوتے گئے۔ ان میں مسلمان بھی شامل تھے۔ دوسری عالمی جنگ میں برصغیر اور برما کے لوگوں نے برطانیہ کا ساتھ دیا۔ دوسری عالمی جنگ کے آغاز میں ہی جاپان نے برما پر قبضہ کیا اور روایات ہیں کہ 1942ء میں بھی مسلمان خاصے متاثر ہوئے اور انہیں نقل مکانی بھی کرنا پڑی۔

اقوام متحدہ کے اداروں نے بھی 2008ء اور 2010ء میں جاری اپنی رپورٹوں میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی نشاندہی کی اور برما سے اس سلوک کے خاتمے کے لیے قوانین میں ترامیم کی سفارش کی۔ اقوام متحدہ نے ان مسلمانوں کو ایک ایسی مظلوم اور ستم رسیدہ قوم قرار دیا کہ جسے نہ صرف وہاں کی شہریت سے محروم رکھا گیا، بلکہ اسے برما کے دوسرے صوبے میں سفر کی بھی اجازت نہیں۔ اس کے علاوہ پرسنل لا سے متعلق کارروائی کرانے جیسے شادی بیاہ، بچوں کی پیدایش کے سلسلے میں ایسی کڑی شرطیں ہیں جس کی وجہ سے وہ لوگ غیرقانونی طور پر بھارت اور بنگلا دیش ہجرت پر مجبور ہو رہے ہیں۔

وہاں کا شہری نہ ہونے کی وجہ سے انہیں غذا خورونوش، صحت کی سہولتیں اور تعلیم کے مواقع فراہم نہیں۔ امریکا کی طرف سے دنیا بھر میں مذہبی آزادی کے حوالے سے جاری سالانہ رپورٹ میں بھی کہا گیا ہے کہ میانمار کے روہنگیا مسلمان صحت و تعلیم جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں اور انہیں بدترین امتیازی سلوک کا سامنا ہے، روہنگیا مسلمانوں کو اگرچہ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے اور امتحانات دینے کی اجازت ہے، لیکن انہیں تعلیمی اسناد جاری نہیں کی جاتیں اور نہ ہی انہیں سرکاری اداروں میں ملازمتیں دی جاتی ہیں۔ رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ مسلم باشندوں کو بیماری کی صورت میں علاج کے لیے بھی ریاست سے باہر جانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا جاتا ہے۔

روہنگیا مسلمان بدھوں کی جانب سے سماجی قطع تعلقی کا بھی شکار ہیں، جس کی وجہ سے ان کے لیے بازاروں سے اشیا خریدنا خاصا مشکل ہے۔ مسلمان صرف کھیتوں میں کام کر سکتے ہیں اور فصل کٹنے کے بعد حکومت ان سے پچاس فی صد فصل لے لیتی ہے۔ میانمار کی حکومت نے مسلمانوں کے خلاف نہایت غیرانسانی رویے اپنا رکھے ہیں۔ بیگار لیاجانا، مسلمان خواتین کی بے حرمتی، روہنگیا مسلمانوں کو ہر طرح کے انسانی حقوق سے محروم رکھنے اور دیگر مظالم کا سلسلہ ایک مدت سے جاری ہے۔

تحریر:رضوان طاہر مبین

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں