برما کے مسلمان ماضی اور حال

میانمار میں مسلم اکثریتی علاقوں میں فوج کا آپریشن بدستور جاری ہے، رہائشی علاقوں میں اسپیکر کے ذریعے اعلانات کیے جا رہے ہیں کہ سیکیورٹی اداروں سے تعاون کیا جائے۔

ملک کے سرکاری اخبار میں بھی اس خبر کو نمایاں شائع کیا گیا ہے کہ مقامی افراد سیکیورٹی اداروں سے تعاون کریں۔

بین الاقوامی میڈیا کے ذریعے سامنے آنے والی خبروں کے مطابق اب تک کی جھڑپوں میں 400 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 58 ہزار افراد نے متاثرہ علاقے سے حالیہ بدامنی کے بعد نقل مکانی کی ہے۔

امدادی کارکنوں کے مطابق اکثر افراد بنگلہ دیش ہجرت کرنا چاہتے ہیں تاہم ان کو وہاں پناہ حاصل نہیں ہو پاتی۔

بنگلہ دیشی حکام کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے میں سمندر سے 53 روہنگیا افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں، یہ افراد دریائی راستے سے ہجرت کرنے والے افراد میں شامل تھے، جبکہ ہزاروں افراد اب بھی دریائے ناف کے راستے قریبی پڑوسی ملک پہنچنے کی کوششوں میں ہیں، دریائے ناف بنگلہ دیش اور میانمار کے درمیان سرحد کا کام کرتا ہے۔

خیال رہے کہ میانمار میں مسلمانوں کو نصف صدی سے مشکلات کا سامنا ہے، 1970 سے لے کر اب تک 10 لاکھ روہنگیا مسلمان شدید مشکلات اٹھانے کے بعد دنیا کے کئی ممالک ہجرت کر چکے ہیں۔

قطر کے خبر رساں ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق 50 سال میں 3 لاکھ 50 ہزار برمی پاکستان، 2لاکھ سعودی عرب، ایک لاکھ 50 ہزار ملائیشیا، 14 ہزار ہندوستان، 10ہزارمتحدہ عرب امارات، 5ہزار تھائی لینڈ منتقل ہوئے۔
1970 کے بعد سے مسلمان دیگر ممالک میں ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے ہیں،– اعداد وشمار بشکریہ الجزیرہ

اقوام متحدہ کی مئی 2017 میں جاری ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2012 سے لے کر اب تک ایک لاکھ 68 ہزار روہنگیا مسلمان میانمار سے نقل مکانی کر چکے ہیں، جبکہ یہ وہ اعداد وشمار ہیں جن کی کسی نہ کسی صورت تصدیق ہو سکتی ہے، غیر تصدیق شدہ افراد کی تعداد کے بعد یہ اعداد وشمار کئی گنا بڑھنے کے خدشات بھی ظاہر کیے جاتے ہیں۔

ہجرت کرنے والوں کی بین الاقوامی تنظیم کے مطابق گزشتہ برس میانمار میں فسادات کے بعد اکتوبر 2016 سے جولائی 2017 تک 87 ہزار افراد بنگلہ دیش منتقل ہوئے۔

بعض افراد خلیج بنگال کا خطرناک ترین بحری راستہ اختیار کرکے ملائیشیا بھی ہجرت کرتے رہے ہیں، اور ایک لاکھ 12 ہزار افراد اس راستے سے میانمار چھوڑ کر گئے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ کے آخر میں مسلم اکثریتی علاقے ارکان کے قریب کچھ چوکیوں پر حملے کیے گئے تھے جس میں اہلکاروں سمیت 90 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، فوج اس مسلح تحریک کو ختم کرنے کے لیے آپریشن حل قرار دے رہی ہے جبکہ کئی حلقے اس مسلح تحریک کو متواتر حق تلفی اور ناانصافی کا رد عمل قرار دے رہے ہیں۔
مسلم اکثریتی علاقے بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں – فوٹو : یو این ایچ سی آر

واضح رہے کہ 2014 میں میانمار میں مردم شماری کی گئی تھی جس میں روہنگیا مسلمانوں کو خود کو بنگلہ دیشی کے طور پر رجسٹر کرنے کا حکم دیا گیا تھا یا ان سے کہا گیا تھا کہ وہ خود کو مردم شماری کے فارم میں دیگر کے خانے میں رجسٹر کروائیں، تاہم بعد ازاں مسلم اکثریتی علاقوں سمیت دیگر کچھ مقامات پر مردم شماری کی ہی نہیں گئی۔

یاد رہے کہ برما میں روہنگیا نسل کے لاکھوں مسلمانوں کو پچھلے کئی سال سے مقامی بدھ مت کے پیروکاروں، حکومت اور فوج کی جانب سے وحشیانہ مظالم کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں روہنگیا مسلمان دوسرے ملکوں میں پناہ کی تلاش میں در بہ در کی ٹھوکیں کھا رہے ہیں۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران میانمار کے ان مسلمانوں کے خلاف مظالم اور پرتشدد حملوں کی لہر میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں انہیں اپنا آبائی وطن سے نکلنا پڑا ہے۔

میانمار، جسے برما بھی کہا جاتا ہے، میں بدھ مت مذہب کے ماننے والوں کی اکثریت ہے، روہنگیا کے مسلمان کئی دہائیاں قبل ہجرت کرکے بنگلہ دیش سے میانمار پہنچے تھے، میانمار کے لوگ ان کو بنگالی تسلیم کرتے ہیں۔

روہنگیا لوگوں کی بہت بڑی تعداد میانمار کی مغربی ریاست راکھائن (ارکان) میں رہائش پذیر ہے، 10 لاکھ سے زائد آبادی پر مشتمل روہنگیا لوگوں کو بنگلہ دیش کے لوگ برمی مانتے ہیں۔

ویسے تو روہنگیا مسلمانوں اور برما کی ریاست ارکان کے بدھ مت کے پیروکاروں کے درمیان جھگڑا ڈیڑھ صدی پر محیط ہے، جب انگریز کے دور میں بنگلہ دیش کے سرحدی علاقوں سے بڑی تعداد میں محنت مزدوری کرنے والے غریب مسلمان فصلوں میں کام کرنے کے لیے برما کی ریاست ارکان میں آباد ہونا شروع ہوئے، لیکن پچھلے چار پانچ عشروں سے برما میں قائم فوجی آمریت نے اس جھگڑے کو ایک بہت بڑے بحران میں تبدیل کر دیا ہے۔

کئی ہزار سالوں سے برما کے لوگوں کا اکثریتی مذہب بدھ مت رہا ہے، اور آج بھی وہاں کی 80 فیصد آبادی کا مذہب بدھ مت ہے۔ برما کی ریاست ارکان جسے ارکان بھی کہتے ہیں، کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی برما کوآرڈینیٹر کے مشیر ڈاکٹر یاک لیڈر کا کہنا ہے کہ اوائل میں مسلمان اس ریاست میں 16ویں صدی عیسوی میں آباد ہونا شروع ہوئے، البتہ اس بات پر اختلافِ رائے موجود ہے کہ وہاں آباد ہونے والے مسلمانوں کہاں سے آئے تھے۔

روہنگیا تحریک سے تعلق رکھنے والے کچھ ماہرین کا دعویٰ ہے کہ روہنگیا وہاں کے مقامی لوگ تھے جو بعد میں مسلمان ہو گئے تھے۔ کچھ کا دعویٰ ہے کہ وہ عرب تاجروں کی اولاد ہیں جو کچھ صدیوں پہلے یہاں آباد ہو گئے تھے۔ جبکہ برما کی فوجی حکومت کی قیادت میں برما کا سرکاری موقف ہے کہ روہنگیا مسلمان بنگالی آباد کار ہیں جو انگریز دور میں وہاں آباد ہوئے تھے، اس لیے انہیں واپس چلے جانا چاہیے۔

بشکریہ:‌ڈان نیوز

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں