برمودا ٹرائی اینگل کا معمہ حل ہونے کے قریب

سنہء 1851 سے ماہرین کیلئے معمہ ثابت ہونے والا برمودا ٹرائی اینگل میں 8127افراد کی گمشدگی کا باعث بن چکا ہے۔ لیکن اب یہ معمہ تقریباًحل ہونے کو ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ان نتمام پراسرار حادثات کا گہرا تعلق میتھین گیس سے ہے۔
فلوریڈا، پورتو ریکو اور برموڈا کا درمیانی مثلثی علاقہ 3900000 مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے۔
اس شیطانی مثلث کے بارے میں آرکیٹک یونیورسٹی آف ناروے کے ماہرین کا خیال ہے کہ اس مثلثی علاقے میں ی بہت بڑے اور گہرے گڑھے ہیں، جو سمندر کی تہہ میں میتھین گیس کے جمع ہونے اور پھر دھماکہ ہونے کی وجہ سے بنے ہیں۔
برمودا ٹرائی اینگل میں گم ہونے والے جہازوں کی وجہ یہی گڑھے ہیں۔ یہ گڑھے بحیرہ بارنٹس کے مغربی حصے میں سمندر کی تہہ میں واقع ہیں۔ ان گڑھوں کا قطر نصف میل سے بھی زیادہ اور گہرائی سینکڑوں فٹ ہے۔
سمندر کی تہہ میں جمع ہونے والی میتھین گیس کے دھماکوں سے صرف گڑھے ہی نہیں بنتے بلکہ سمندری پانی کا درجہ حرارت بھی بڑھ جاتا ہے۔دھماکے کے بعد میتھین گیس کے بلبلے اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ وہ جہازوں کو بھی ڈبو دیتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان گڑھوں کی تہہ کا مشاہدہ کیا جا سکے تو گمشدہ جہازوں کی باقیات کا پتہ چلایا جا سکتا ہے۔
بشکریہ Express.co.uk

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں