بنیادی اسلام (ایمانیات)……حصہ اول

اللہ تعالیٰ نے اپنی ساری مخلوق میں سے انسان کو جو رتبہ اور شرف عطا فرمایا ہے وہ کسی اور مخلوق کو نہیں دیا۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کے معصوم فرشتے بھی حضرت انسان کے سامنے سربسجود ہوئے اور انہوں نے انسان کے فخر و مرتبہ کو نہ صرف یہ کہ پہچانا بلکہ صاف طور پر تسلیم کیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے انسان کو علوم و معارف، عقل و فراست، قوت و توانائی اور دیگر ظاہری و باطنی، جسمانی و روحانی نعمتوں سے اس طرح نوازا ہے کہ کسی دوسری مخلوق کو یہ شان اور عظمت اس نے نہیں بخشی۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین کی خلافت سپرد کی اور عقل سلیم سے بہرہ ور کیا۔ انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام ان میں مبعوث کیے اور کتابیں ان پر نازل کر کے انہیں اپنی مرضی اور نامرضی کی تمام باتوں سے آگاہ کیا۔ امر و نہی کے صریح احکام نازل فرما کر ان کی رہنمائی کی اور بدنی و مالی عبادات ان پر عائد کر کے انہیں بلند مرتبے حاصل کرنے کی توفیق مرحمت فرمائی۔ جنت اور دوزخ کی راہیں ان پر واضح کی گئیں تاکہ اپنے اختیار سے ہر شخص اللہ کو راضی کر کے اس کی دائمی رضا اور خوشنودی حاصل کر سکے اور جہنم کے ابدی عذاب سے اپنے نفس کو بچا لے۔ اگرچہ احکام خداوندی تو بہت کچھ ہیں تاہم نہایت اختصار کے ساتھ ہم بعض ضروری احکام کا ایک خاص ترتیب سے ذکر کرتے ہیں۔ ان کو ٹھنڈے دل سے پڑھ کر ان پر عمل کریں تاکہ دنیا و آخرت کی کامیابیوں کے دروازے کھل سکیں اور انسان صحیح معنوں میں انسان بن سکے۔

توحید
سب سے پہلے انسان اس بات کا زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق کرے کہ وحدہ لا شریک لہ وہ اللہ اکیلا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہی خالق، مالک، رازق ہے۔ وہی حاجت روا، مشکل کشا، عالم الغیب، حاضر و ناظر ہے۔ وہ اپنی ذات و صفات اور افعال میں یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہ قدیم ہے، نہ اس کی ابتداء ہے اور نہ انتہاء۔ نہ اس کی ماں ہے اور نہ باپ، نہ بیوی ہے اور نہ بیٹا۔ وہ نہ کھاتا ہے اور نہ پیتا ہے، نہ سوتا ہے اور نہ اس پر اونگھ طاری ہو سکتی ہے۔ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اس پر کبھی فنا نہیں آئے گی۔
بادشاہ و فقیر بنانا، عزت و ذلت دینا، فتح و شکست دینا، اولاد دینا، دی ہوئی اولاد کو لے لینا، مقدمہ میں کامیاب و ناکام کرنا، ملازمت دینا اور چھیننا، نفع و نقصان پہنچانا، بارش نازل کرنا اور ہوائیں چلانا، رحمت یا عذاب نازل کرنا، تمام جہاں کا مدبر و مالک ہونا، عرش سے فرش تک اور ثریٰ سے ثریّا تک تمام عالم کی نگرانی کرنا، یہ سب کچھ اسی اللہ کا کام ہے۔
وہی فریاد رس اور مختار کل ہے، وہی سجدہ اور طواف کے لائق ہے، وہی نذر و منت کا مستحق ہے۔ اسی کا قانون محکم اور اٹل ہے۔ سب کائنات اس کی محتاج ہے مگر وہ کسی کا محتاج نہیں ہے۔ جہاں تک انسان کی عقل رسائی کر سکتی ہے وہ اس سے بھی ماوراء ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ کیا ہے؟ بس تھک ہار کر یہی کہہ سکتے ہیں کہ
دل میں تو آتا ہے، سمجھ میں نہیں آتا
بس جان گیا میں، تیری پہچان یہی ہے

فرشتے
اللہ تعالیٰ کی ایک پاک اور معصوم مخلوق ہے جن کو ملائکہ اور فرشتے کہا جاتا ہے۔ وہ عموماً ہماری نظروں سے غائب رہتے ہیں۔ نورِ مخلوق سے اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے۔ نہ وہ مرد ہیں اور نہ عورت، نہ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں، نہ تو وہ خدا کی بیٹیاں ہیں اور نہ شریک۔ اللہ تعالیٰ نے مختلف قسم کے کام ان کے سپرد کیے ہیں جنہیں وہ بہ دل و جان پورا کرتے ہیں۔ کوئی فرشتے زمین پر ہیں اور کوئی آسمان پر، کوئی عرش کو تھامے ہوئے ہیں، کوئی بیت المعمور کا طواف کرنے میں مشغول رہتے ہیں، کوئی انسان کے اعمال و اقوال کی نگرانی کرنے اور لکھنے پر مامور ہیں، کوئی نافرمانوں اور مجرموں پر لعنت بھیجنے کے لیے مسلط ہیں۔ ان کو پیدا کرنے والے کے سوا کسی کو ان کی صحیح تعداد معلوم نہیں ہے۔
سب فرشتوں میں اعلیٰ شان اور رتبہ کے مالک حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں جو اللہ تعالیٰ کے سچے نبیوں پر وحی لایا کرتے تھے اور ان پر کتابیں نازل کیا کرتے تھے۔ حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی طرح فرشتے بھی معصوم اور تمام عیوب و نقائص سے پاک و صاف ہیں۔ اور وہ طَرْفَۃَ عَیْن (آنکھ کے اشارے) کے برابر بھی خدا کی نافرمانی نہیں کرتے۔ سورۃ التحریم میں ہے کہ لَا یَعَصُوْنَ اللّٰہَ مَا اَمَرَھُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ کہ وہ اللہ کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔

کتابیں
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی اصلاح اور ہدایت کے لیے اپنے رسولوں اور نبیوں پر عام وحی کے علاوہ کچھ کتابیں اور صحیفے بھی نازل کیے ہیں۔ پورے وثوق سے تو ان کی صحیح تعداد بتانی مشکل ہے، ہاں کتبِ عقائد میں یہ لکھا ہے کہ کل ایک سو چار (۱۰۴) کتابیں اور صحیفے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائے ہیں جن میں مشہور یہ ہیں: (۱) قرآن کریم (۲) تورات (۳) انجیل (۴) زبور۔
اس وقت قرآن کریم کے علاوہ کوئی دوسری آسمانی کتاب ایسی نہیں جس کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جا سکے کہ وہ تحریف و تغیر سے محفوظ رہی ہے۔ یہ صرف قرآن کریم کا زندہ معجزہ ہے کہ چودہ سو سال گزرنے کے بعد بھی یہ ہر قسم کی تبدیلی و تحریف سے پاک ہے۔ اس میں تمام اصولی احکام اور قوانین درج ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بقول گبن صاحب قرآن نجاتِ روح اور صحتِ جسمانی، حقوق عامہ اور حقوق شخصی، نفع رسانی اور خلائق، نیکی اور بدی، سزا دینی اور دنیوی، سب چیز پر حاوی ہے۔ مگر کاش کہ ہم بھی اس پر عمل پیرا ہو کر روح و جسم کا سکون پا سکیں اور دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کر سکیں۔

انبیاءؑ
ہر آدمی میں یہ قابلیت اور استعداد موجود نہ تھی کہ وہ براہ راست اللہ تعالیٰ سے احکام لے کر ان پر عمل کر سکتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر مہربانی کرتے ہوئے انہیں میں سے انسانوں کو رسول بنا کر بھیجا۔ تاکہ ہم قوم اور ہم جنس ہونے کے لحاظ سے ان سے انسان پوری طرح فائدہ اٹھا سکیں۔ نوری یا کوئی اور قسم کی مخلوق ہرگز انسان کی راہنمائی کے لیے مفید نہ ہو سکتی تھی۔ جب زمین کی خلافت انسان کے حصہ میں آئی تو لازم تھا کہ انسانوں ہی میں سے رسول اور نبی بھیجے جاتے۔ اللہ تعالیٰ نے بے شمار نبی اور رسول مبعوث کیے، بعض روایات کے پیش نظر ان کی تعداد (کم و بیش) ایک لاکھ چوبیس ہزار تھی۔ مگر قطعی اور یقینی علم تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔
سب سے پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام جبکہ سب سے آخری نبی اور خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپؐ پر ہر قسم کی نبوت ختم کر دی ہے۔ نہ تو آپؐ کے بعد کوئی ظلی نبی پیدا ہو سکتا ہے اور نہ بروزی۔ اور نہ تو کسی کو آپ کے بعد غیر تشریعی نبوت مل سکتی ہے اور نہ کوئی امتی نبی بن سکتا ہے۔ قرآن کریم، صحیح احادیث اور تمام امت کے اتفاق و اجماع سے یہ ثابت ہے کہ آنحضرتؐ پر ہر قسم کی نبوت و رسالت ختم کر دی گئی ہے۔ اور نبوت و رسالت کے سلسلہ میں آپؐ کے بعد کسی پر تا قیامت وحی نہیں آسکتی۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام ابھی تک اپنے جسد عنصری کے ساتھ آسمان پر زندہ ہیں۔ وہ قیامت کے قریب زمین پر نازل ہوں گے اور دجال لعین کو قتل کریں گے۔ مگر ان کا آنا ختم نبوت کے منافی نہیں ہے کیونکہ ان کو آپؐ سے پہلے نبوت ملی تھی نہ کہ بعد میں۔
اللہ تعالیٰ کے سب نبی معصوم ہوتے ہیں (اجتہادی لغزشوں کا معاملہ جدا ہے)۔ آنحضرتؐ اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق میں اعلیٰ و افضل ہیں۔ اور ساری کائنات میں آپؐ کا کوئی نظیر اور مثالی موجود نہیں اور نہ قیامت تک کوئی مثال ہو سکتی ہے۔
رخ مصطفیٰ ہے وہ آئینہ کہ اب ایسا دوسرا آئینہ
نہ ہماری بزم خیال میں نہ دوکان آئینہ ساز میں

تقدیر
کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ عقیدۂ تقدیر پر ایمان نہ لائے۔ حتیٰ کہ اگر ساری زندگی عبادت میں بسر کر دے اور احد پہاڑ جتنا سونا بھی اللہ تعالیٰ کے راستہ میں صرف کر دے، مگر جب تک تقدیر پر ایمان نہ لائے تو وہ کبھی بھی مسلمان نہیں ہو سکتا۔ بعض ملحدین کا یہ بے بنیاد نظریہ ہے کہ تقدیر کا مسئلہ ایرانیوں اور مجوسیوں کی ایجاد ہے۔ یہ نظریہ خالص کفر اور نرا زندقہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے ملحدوں سے بچائے۔ اس میں شک نہیں کہ تقدیر کا مسئلہ بڑا مشکل اور پیچیدہ ہے مگر عام لوگوں کی سمجھ میں نہ آنے کا یہ مطلب تو ہرگز نہیں کہ اس کا سرے سے انکار ہی کر دیا جائے۔ اس عقیدہ کے مشکل ہونے کی بنا پر ہی آخر آنحضرتؐ نے بھی صحابہ کرامؓ کو اس میں بحث و گفتگو کرنے سے منع کیا ہے۔
اس مسئلہ کو یوں سمجھیں کہ تمام اقوال و افعال کے صادر ہونے سے قبل ہی اللہ تعالیٰ کو ازل میں یہ علم تھا کہ فلاں شخص فلاں وقت اپنے کسب و اختیار سے یہ کام کرے گا۔ اور اسی وسعت علمی کے مطابق اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں بھی اس کو درج کر دیا تھا۔ چنانچہ اب جو کچھ اس جہان میں ہوتا ہے اسی کے مطابق ہوتا ہے۔ لیکن انسان کو جو ملامت اور گرفت ہوگی اس بناء پر ہوگی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس کو عقل سلیم دی ہے، نبی و رسول بھیجے ہیں، کتابیں نازل کی ہیں، کسب و اختیار بھی دیا ہے، خیر و شر کے راستے بھی متعین کر کے بتا دیے ہیں، اپنی پسند و ناپسند کی تمام چیزیں بھی واضح کر دی ہیں، تو پھر انسان فاعل مختار ہو کر اس کی خلاف ورزی کیوں کرتا ہے؟
رہا یہ سوال کہ انسان کو بدی کا اختیار ہی کیوں دیا گیا ہے، صرف نیکی ہی کا اختیار کیوں نہ ملا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو انسان بنانا تھا تو اس میں نیکی اور بدی کی قوتیں بھی رکھنا لازمی تھیں۔ ورنہ انسان پھر انسان نہ ہوتا بلکہ فرشتہ ہوتا جس میں بدی اور برائی کا اختیار ہی نہیں ہے۔
یہ ہے مسئلہ تقدیر کا خلاصہ۔ اور تقدیر کا عقیدہ کسی طرح نقل و عقل کے خلاف نہیں ہے اور اس سے زیادہ کے ہم مکلف بھی نہیں ہیں۔ باقی سست و کاہل بن کر اللہ کے دیے ہوئے کسب و اختیار سے کام نہ لیتے ہوئے اگر کوئی شخص مسئلہ تقدیر میں افراط و تفریط سے کام لیتا ہے تو اس میں بھلا اس مسئلہ کا کیا قصور ہے؟ سچ ہے کہ
شکوہ کرنا ہو تو اپنا کر مقدر کا نہ کر
خود عمل تیرا ہے صورت گو تیری تصویر کا

قیامت
بنیادی عقیدوں میں سے ایک عقیدہ قیامت اور موت کے بعد کی زندگی کا بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی سب کتابیں اور تمام نبیوں کی تعلیم اس پر مشتمل رہی ہے کہ قیامت آکر رہے گی۔ اور قرآن کریم میں بار بار مختلف طریقوں اور متعدد دلیلوں سے قیامت کا اثبات کیا گیا ہے اور عقلی طور پر بھی اس کو ثابت کیا گیا ہے۔ مثلاً یہ کہ بہت سے مومن اور نیک لوگ اس جہان میں کوئی خوشی نہیں دیکھ سکے اور یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے وفادار بندے تھے۔ اسی طرح بہت سے نافرمان اور غدار اپنی بدکرداری کا بدلہ بھی اس جہان میں نہیں پا سکے۔ اگر کوئی ایسا جہان تسلیم نہ کیا جائے جس میں نیکی و بدی، ایمان و کفر، وفادار و غدار کا امتیاز ہو تو اس کا مطلب تو یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی حکومت اندھیر نگری ہے، اس کے ہاں کوئی عدل و انصاف ہی نہیں (العیاذ باللہ)۔ چنانچہ جس مقام، جس کچہری، جس عدالت میں عملی طور پر ایسی باتوں کا فیصلہ ہوگا اسی کا نام شریعت کی زبان میں آخرت اور قیامت ہے۔
مرنے کے بعد قبر میں منکر نکیر کا سوال، کافروں کے لیے عذابِ قبر، مومنوں کے لیے خوشی، قیامت کے دن میدان محشر میں حساب، نیکیوں اور بدیوں کا میزان پر تلنا، پل صراط پر سے گزرنا جو بال سے باریک اور تلوار سے تیز تر ہے، یہ سب امور حق اور صحیح ہیں۔ اسی طرح انبیاء کرامؑ ، حوض کوثر، ملائکہ، شہداء، حفاظ کرام، نابالغ بچوں وغیرہ کی اپنے اپنے درجہ کے اعتبار سے شفاعت بالکل حق اور ثابت ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ نے مختلف قسموں کے عذابوں والی جو ہولناک دوزخ بتائی ہے، وہ بالکل حق اور صحیح ہے۔ نہ تو دوزخ کبھی فنا ہوگی اور نہ جنت۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اہل جنت میں شامل کرے نہ کہ اہل نار میں۔ اللّٰھم انا نسألک الجنۃ ونعوذ بک من النّار۔
مگر یہ یاد رہے کہ قیامت کا ٹھیک وقت اللہ تعالیٰ کے بغیر اور کسی کو معلوم نہیں ہے۔ جس طرح قیامت حق ہے اسی طرح علامات بھی حق ہیں۔ مثلاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نازل ہونا اور حضرت امام مہدی علیہ السلام کا ظاہر ہونا۔ یاجوج و ماجوج، دابۃ الارض، دجال کا خارج ہونا۔ اسی طرح سورج کا مغرب کی طرف سے طلوع ہونا وغیرہ۔ ان جیسے بے شمار امور ہیں جو صحیح احادیث سے ثابت ہیں۔

معجزات و کرامات
خدا تعالیٰ اپنے رسولوں اور نبیوں کی تصدیق کے لیے ان کے ہاتھوں پر حسی طور پر ایسی چیزیں صادر کرتا رہا ہے جن کے صادر کرنے سے تمام لوگ عاجز رہے ہیں۔ اور وہ چیزیں انبیاء و رسولوں کی تصدیق کا ذریعہ بنتی رہی ہیں۔ مگر ان کے صادر کرنے میں حضرات انبیاء کرامؑ کا کوئی دخل نہیں۔ ہر فوق العادت چیز یعنی ایسا کام جو انسان کے بس سے باہر ہو، دراصل اللہ تعالیٰ کا فعل ہوتی ہے جو نبی اور رسول کے ہاتھ پر صادر ہوتی ہے۔ جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ نے آگ کو ٹھنڈا کر دیا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا کو اللہ تعالیٰ نے سانپ اور اژدھا بنا دیا تھا، ان کے ہاتھ کو سورج کی طرح چمکیلا بنا دیا تھا، ان کے لیے دریا پھاڑ کر ان کو پار کرا دیا تھا، ان کی دعا کی برکت سے ستر آدمی زندہ کر دیے تھے، ان کے لیے من و سلویٰ نازل کیا تھا، پتھر سے بارہ چشمے بہا دیے تھے وغیرہ وغیرہ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام باذن اللہ مردوں کو زندہ کر دیتے تھے، مادر زاد اندھوں کو بینا کر دیتے، کوڑھیوں اور برص والوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے تندرست کر دیتے تھے، مٹی کی چڑیاں بنا کر ان میں پھونک مارتے تو وہ اللہ کے حکم سے زندہ ہو کر اڑ جاتی تھیں۔ آنحضرتؐ کی انگلی کے اشارے سے اللہ تعالیٰ نے چاند کو دو ٹکڑے کر دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو ایک ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک اور پھر وہاں سے ساتوں آسمانوں اور سدرۃ المنتہیٰ تک جسم مبارک کے ساتھ بیداری کی حالت میں سیر کرائی، پھر جنت اور دوزخ کی سیر کرائی۔ اس کے علاوہ بے شمار حسی معجزات تواتر کے ساتھ آپؐ سے ثابت ہیں جن کا انکار کرنا الحاد اور کفر ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنے بعض نیک اور پابند شرع بندوں کے ہاتھ پر جو فوق العادت چیزیں صادر کر دیتا ہے، ان کو کرامات کہا جاتا ہے۔ یہ ان بندوں کا اپنا فعل نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ کا فعل ہوتا ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے صحابی (آصف بن برخیا) کا لمحہ بھر میں بلقیس کا تخت لے آنا۔ حضرت مریم علیہا السلام کے لیے بے موقع کھانے کا انتظام، انہیں بغیر خاوند کے حضر ت عیسیٰ علیہ السلام جیسا لڑکا ملنا۔ اسی طرح اصحاب کہف کا تین سو نو برس تک بغیر کھائے اور پیئے زندہ رہنا وغیرہ۔ یہ تمام کرامات ہیں اور قرآن کریم میں مذکور ہیں۔ ان کا انکار کرنا انتہائی بے دینی اور نرا کفر ہے۔
الغرض تمام وہ عقائد جو اللہ تعالیٰ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائے ہیں وہ سب حق اور صحیح ہیں۔ ان میں سے کسی ایک عقیدہ کا انکار کرنا بھی بجائے خود کفر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارا ایمان محفوظ رکھے، آمین۔
الٰہی خیر ہو کہ فتنہ آخر زماں آیا ہے
رہے ایماں و دیں باقی کہ وقت امتحاں آیا ہے

(جاری ہے)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں