بنیادی اسلام (عبادات)……حصہ دوم

نماز
اصلاح عقیدہ کے بعد عبادات میں سب سے اہم نماز ہے۔ قرآن کریم اور احادیث میں بار بار نماز کی تاکید کی گئی ہے۔ بقیہ احکام اور عبادات کا حکم زمین پر نازل ہوتا رہا ہے لیکن نماز وہ عبادت ہے جس کی فرضیت شب معراج کے دوران عالم بالا میں ہوئی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے جان بوجھ کر نماز ترک کی وہ (عمل کے اعتبار سے) کافر ہوگیا۔ فرمایا کہ اللہ کی بندگی اور کفر کے درمیان نماز ہی کا فرق ہے۔ اور فرمایا کہ نماز دن کا ستون ہے، جس نے نماز ترک کر دی اس نے دین کی عمارت کو گرا دیا۔ نیز آنحضرتؐ نے وفات سے قبل بار بار فرمایا کہ نماز اور غلاموں کا خاص خیال رکھنا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عمّال اور حکام کو سرکاری حکم بھیج کر متنبہ فرمایا کہ میرے نزدیک تمہارے سب کاموں سے نماز بڑی اہم ہے۔ جس نے نماز قائم کی وہ دیگر امور کی بھی پابندی کرتا ہوگا، اور جس نے نماز کا خیال نہ رکھا اس سے اور کاموں میں کیا توقع کی جا سکتی ہے؟
نماز بیماری و تندرستی اور سفر و حضر کسی حالت میں معاف نہیں ہے۔ ہاں البتہ سفر میں (جو اڑتالیس میل یا اس سے زیادہ ہو) چار فرض رکعتوں کے بجائے صرف دو رکعتیں پڑھنی چاہئیں۔ اور بیماری میں اگر کوئی قیام نہیں کر سکتا تو بیٹھ کر پڑھے، اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو لیٹ کر اشارہ سے پڑھے۔ حدیث میں آتا ہے کہ جب بچے سات سال کی عمر تک پہنچ جائیں تو ان کو نماز کا حکم دو، اور جب دس سال تک پہنچ جائیں تو نماز ترک کرنے پر ان کی پٹائی کرو۔ نیز یہ بھی خیال رہے کہ اگر نماز تنہائی میں ادا کی جائے تو ایک نماز کا ثواب ملتا ہے مگر جماعت کے ساتھ پچیس یا ستائیس درجے کا ثواب حاصل ہوتا ہے۔ فجر اور خصوصاً عصر کی نماز ترک کرنے پر حدیث میں بڑی وعید آئی ہے۔
نماز میں صفوں کا درست کرنا اور پاجامہ، تہبند، شلوار وغیرہ کا ٹخنوں سے اوپر اٹھا لینا نہایت ضروری ہے۔ رکوع اور سجود کا اچھے طریقے سے ادا کرنا، نیز رکوع کے بعد قومہ اور دونوں سجدوں کے درمیان جلسہ ضروری ہے ورنہ شرعی قاعدہ کی رو سے نماز ادا نہ ہوگی۔ نماز میں دائیں بائیں دیکھنا، بدن و لباس وغیرہ سے کھیلنا، سر پر کپڑا ڈال کر بغیر باندھے لٹکا دینا مکروہ ہے، اس کو سدل کرتے ہیں۔ سجدہ میں بازو زمین پر نہ لگیں ورنہ نماز میں کراہت واقع ہوگی، پیشانی اور ناک اچھی طرح زمین پر لگے اور پورے اطمینان کے ساتھ سجدہ ادا کیا جائے۔ نماز میں دیگر شرائط کے علاوہ وقت مستحب کی پابندی بھی ضروری ہے ورنہ یہ منافق کی نماز کہلائے گی۔
نماز کی روح تو یہ ہے کہ پوری توجہ سے نماز ادا کرے گویا کہ رب تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ اگر یہ درجہ حاصل نہ ہو تو کم از کم یہ سمجھے کہ میں خدا تعالیٰ کے دربار میں حاضر ہوں، اس سے مناجات کر رہا ہوں، وہ مجھے دیکھ رہا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ہاں وہی نماز قبولیت کا درجہ پاتی ہے جو پوری توجہ کے ساتھ ادا کی گئی ہو۔ کیا ہی خوب کہا گیا ہے کہ
ارشاد ہے کہ شرک نہ کر اور نماز پڑھ
معنے یہ ہیں کسی کو نہ دیکھ اور ہمیں کو دیکھ

روزہ
ارکان اسلام میں سے ایک رکن روزہ بھی ہے جو رمضان المبارک کے مہینہ میں ہر مسلمان عاقل، بالغ، تندرست اور مقیم پر فرض ہے۔ ہاں اگر کسی کو ایسی بیماری لاحق ہو جس میں طبیعت یہ فیصلہ کرے کہ میرے لیے روزہ رکھنا اب نہایت دشوار ہے ، یا کوئی مسلمان اور دیندار حکیم یا ڈاکٹر یہ بتلائے کہ تمہارے لیے اس بیماری میں روزہ رکھنا مضر ہے تو اس صورت میں روزہ نہ رکھے۔ مگر صحت کے زمانہ میں ان چھوڑے ہوئے روزوں کی قضا لازم اور ضروری ہے۔ یہ قضا روزے لگاتار بھی رکھ سکتا ہے اور وقفوں کے ساتھ بھی، دونوں صورتیں درست ہیں۔ روزہ کی حالت میں جھوٹ، غیبت، گالی گلوچ، مکر و فریب وغیرہ زیادہ ممنوع ہیں، اسی طرح لڑنا جھگڑنا وغیرہ۔
یک طرفہ اڑتالیس میل یا اس سے زیادہ کے سفر میں اگر تکلیف ہو تو روزہ افطار سکتا ہے۔ یہ سفر ہوائی جہاز، بحری جہاز، ریل گاڑی، موٹر وغیرہ کسی بھی قسم کا ہو سکتا ہے۔ مگر چھوڑے ہوئے روزوں کی قضا ضروری ہے۔ عمر رسیدہ مرد یا عورت (بہت بوڑھے) اگر روزہ نہ رکھ سکیں تو فدیہ ادا کرتے رہیں۔ ایک مسکین کو سحری و شام کا کھانا کھلائیں، یا پونے دو سیر گندم یا اس کی قیمت دے دیں۔ اگر فدیہ کی استطاعت بھی نہ ہو تو پھر توبہ و استغفار کرتے رہیں۔ اسی طرح اگر حاملہ عورت کو اپنی جان اور بچے کا خطرہ ہو تو روزہ افطار سکتی ہے مگر قضا ضروری ہے۔ حیض اور نفاس میں روزہ رکھنا درست نہیں البتہ قضا لازم ہے۔
مسواک کرنے اور ٹیکہ لگانے سے روزہ میں کوئی خرابی لازم نہیں آتی۔ مگر رگ کے ٹیکہ سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اسی طرح شیشہ دیکھنے، سرمہ لگانے اور بدن پر تیل وغیرہ کی مالش کرنے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا۔ البتہ کان اور ناک میں دوائی نہ ڈالے کیونکہ اس سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے۔ تھوک اکٹھا کر کے نگلنے سے روزہ مکروہ ہو جاتا ہے۔ خودبخود قے آئے تو روزہ نہیں ٹوٹتا لیکن جان بوجھ کر قے کرنے سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے۔
رمضان المبارک میں نمازِ تراویح کا خاص اہتمام کرنا چاہیے جو جمہور امت کے نزدیک بیس رکعت اور سنتِ مؤکدہ ہیں۔ اور آخری عشرہ میں طاق راتوں کے اندر کثرت سے عبادت کرنا چاہیے کیونکہ ان میں ایک رات ہزار مہینہ سے بہتر ہے۔ ہمت اور توفیق ہو تو اعتکاف بیٹھے جو کہ سنت ہے۔ ایسی مسجد میں اعتکاف بیٹھے جہاں جماعت ہوتی ہے، جامع مسجد میں بیٹھنا بہت ہی افضل ہے۔ اگر کسی دوسری مسجد میں بیٹھا ہو تو جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لیے جا سکتا ہے لیکن نماز پڑھ کر فورًا واپس چلا جائے۔ اعتکاف کے دوران اس کا کھانا پینا اور سونا مسجد ہی میں ہو۔ طبعی یا شرعی ضرورت کے بغیر مسجد سے باہر نہ نکلے اور نہ نماز جنازہ میں شریک ہو۔

زکوٰۃ
اللہ تعالیٰ نے غریبوں کی اعانت کے لیے مالدار لوگوں پر چالیسواں حصہ زکوٰۃ فرض کی ہے۔ سونا، چاندی، سامان تجارت، نقد رقم پر زکوٰۃ آتی ہے۔ سونا اور چاندی کسی بھی شکل میں ہوں مثلاً زیور، سکہ، برتن وغیرہ تو ان پر زکوٰۃ لازم ہے۔ ادنیٰ نصاب ساڑھے باون تولہ چاندی ہے۔ اس کا جو بھاؤ بازار میں ہو اس کا اندازہ کر کے چالیسواں حصہ زکوٰۃ ادا کریں۔ اگر اور کوئی مالِ زکوٰۃ پاس نہ ہو تو سونا ساڑھے سات تولہ ہونا چاہیے۔ آج بین الاقوامی تجارت کی وجہ سے سونے کا بھاؤ بہت تیز ہوگیا ہے۔ جب زکوٰۃ فرض ہوئی تھی تو ساڑھے سات تولہ سونا اور ساڑھے باون تولہ چاندی کا تقریباً ایک ہی توازن تھا۔
جائیداد یعنی مکان وغیرہ اگر کاروبار کے لیے نہیں ہیں تو ان پر کوئی زکوٰۃ نہیں، اگرچہ ان کی قیمت لاکھوں کروڑوں تک پہنچ جائے۔ اسی طرح جواہرات اگر کاروبار کے لیے نہیں ہیں تو ان پر کوئی زکوٰۃ نہیں، اگرچہ وہ زیور کی شکل میں ہوں۔ مال پر زکوٰۃ سال گزرنے کے بعد فرض ہوگی بشرطیکہ وہ مال قرض چکانے کے بعد اور ضروریات سے زائد ہو۔
جو لوگ زکوٰۃ ادا نہیں کرتے قیامت کے دن ان کا مال گنجے سانپ کی صورت میں ان کے گلے کا ہار بن کر انہیں ڈسے گا۔ اور سونا و چاندی دوزخ کی آگ میں گرم کر کے ان کی پیشانی اور پیٹھ پر داغے جائیں گے۔ زکوٰۃ کے لیے رجب کا مہینہ کوئی شرعی مسئلہ نہیں ہے، جب بھی کسی کو مال ملے اور اس کا سال پورا ہو جائے تو اس پر زکوٰۃ فرض ہوگی، یہ سال چاہے کسی بھی مہینے میں پورا ہو جائے۔
زکوٰۃ اپنے اصول یعنی باپ، ماں، دادا، دادی، نانا، نانی کو دینا جائز نہیں۔ اسی طرح اپنے فروع یعنی بیٹا، بیٹی اور ان دونوں کی اولاد در اولاد کو بھی دینا جائز نہیں۔ باقی بھائی، بہن، چچا اور پھوپھی وغیرہ کو دی جا سکتی ہے بشرطیکہ وہ سید نہ ہوں۔ اسی طرح کافر کو بھی زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہے۔ اور نہ غنی کو دینا جائز ہے جو کہ خود قربانی اور صدقہ فطر کرنے کی استطاعت رکھتا ہو۔
اگر کسی شخص کے پاس گھر کا اتنا سامان یعنی کپڑے برتن وغیرہ ہو جو ضروریات اور قرض سے فارغ ہو تو اس پر قربانی اور صدقہ فطر دونوں واجب ہیں، اگرچہ وہ سامان تجارت کے لیے نہ بھی ہو۔ جبکہ سید لوگ زکوٰۃ، عشر، صدقہ فطر، نذر و منت وغیرہ یعنی واجب قسم کے صدقات نہیں لے سکتے۔ اور سید وہ لوگ ہیں جو حضرت علیؓ، حضرت عباسؓ، حضرت عقیلؓ، حضرت جعفرؓ، اور حضرت حارثؓ کی اولاد میں سے ہیں۔ ایک قبیلہ اور جگہ کی زکوٰۃ دوسری جگہ لے جانا مکروہ ہے۔ ہاں مگر جب کہ وہاں کے لوگ دین کے لیے زیادہ مفید ہوں یا زیادہ محتاج ہوں۔ زکوٰۃ میں سونا، چاندی، یا ان کی قیمت دینا جائز ہے۔ زکوٰۃ کی رقم مسجد یا بے وارث میت کے کفن پر نہیں صرف کی جا سکتی۔
زمین کی پیداوار میں بھی زکوٰۃ ہے جسے عُشر کہتے ہیں۔ بارانی زمین پر دسواں حصہ جبکہ چاہی وغیرہ پر بیسواں حصہ آتا ہے۔ اس میں نہ تو کوئی نصاب شرط ہے اور نہ قرض اور حاجت سے زائد ہونے کی کوئی قید ہے۔ اناج کے علاوہ تمام ترکاریاں اور پھلوں میں بھی بدستور عُشر ہے۔

حج
اگر کسی شخص کے پاس اتنا مال ہو کہ اس کے اہل و عیال کے خرچہ سے زائد ہے۔ اور وہ شخص مقروض بھی نہیں ہے یا قرض کی ادائیگی سے مال زائد ہے اور حج کے لیے اس کی آمد و رفت کا خرچہ بھی پورا کرتا ہے۔ اور وہ شخص آنکھوں اور ٹانگوں سے معذور بھی نہیں بلکہ تندرست ہے۔ اور راستہ بھی پر امن ہے تو اس شخص پر حج فرض ہے۔ اس میں کسی شرعی عذر کے بغیر تاخیر کرے گا تو گنہگار ہوگا۔ کیونکہ زندگی کا کوئی علم ہیں کہ کتنی باقی ہے۔ مگر حرام مال سے حج کرنا یا محض دنیا کو دکھانے کے لیے حج کرنا، اس پر بجائے ثواب کے الٹا عذاب ہوگا۔ اسی طرح مشترکہ مال سے حج کرنا سخت گناہ ہے یعنی وہ مال جو شرعی وارثوں پر تقسیم نہ ہوا ہو۔
ایک صحیح العقیدہ مسلمان جب حلال اور طیب مال سے شریعت کے بتلائے ہوئے طریقہ پر حج کرتا ہے اور حج کے سفر میں کوئی فسق و فجور و گناہ نہیں کرتا تو حدیث شریف میں آتا ہے کہ اس کی بخشش ہو جاتی ہے۔ وہ گناہوں سے اس طرح پاک و صاف ہو جاتا ہے جیسا کہ ابھی وہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے۔ لیکن یاد رہے کہ اللہ کے ہاں حقوق العباد معاف نہیں ہوتے جب تک کہ انہیں ادا نہ کر دیا جائے یا بندوں سے انہیں معاف نہ کرا لیا جائے۔

(جاری ہے)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں