بول پر پابندی صحافتی اداروں کے لیے وارننگ؟؟

تین مئی کودنیا بھر میں صحافتی ادارے اور تنظیمیں صحافت کاعالمی منارہی تھی ، میڈیا کی آزادی کا دن جوش و جذبے سے منانے کے لئے پروگرامات جاری تھے،ہونا تو یہ چاہی تھا کہ حکومت پاکستان اس روز صحافیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ان کے لئے سہولیات کا اعلان کرتی ،مگر اسی دن پاکستان سے دنیا بھر کومسلم لیگ ن کی نام نہادجمہوری حکومت نے منفی پیغام دیا ، پاکستان کے ابھرتے ایمج کوخراب کرنے کی کوشش کی گئی، پاکستان میں صحافت کے عالمی دن کے موقع پر بول چینل پر پابندی لگا دی گئی ،جس سے تقریبا تین ہزار گھرانے متاثر ہونے کا خد شہ ہے، سوال کئی ہیں ،بول پر پابندی اگر لگانا تھی تو دون پہلے یا دو دن بعد بھی لگائی جاسکتی تھی مگر صحافت کے عالمی دن کے موقع پر ہی کیوں ؟ کیا یہ تمام صحافی برادری کے لئے واضح پیغام ہے؟ کیا سیکورٹی کلئرینس اگر اتنی اہم ہے ۔تو سچن جندل جیسے مریم نواز اپنے والد کادوست کہتی ہے ،جبکہ بھارتی میڈیا نے اسے ہندوستانی وزیر اعظم نریندرمودی کا خاص پیغام رساں کہہ دیا ہے ،جو بھارتی جاسوس کلبہوشن یادیو کی رہائی کے لئے آیا تھا،اس کی سیکورٹی کلئیرینس کی گئی ؟ اسے ملٹی پل ویزہ جاری کرتے ہوئے پولیس رپورٹنگ سے مستثنی کیا گیا ،؟ کیوں؟کیاچوہدری نثار نے اس کی سیکورٹی کلئیرینس کروائی ؟اور شوگر ملز میں کام کرنے والے بھارتی انجنیئرز کی سیکوریٹی کلئیرنس کی گی ؟کیا چوہدری نثار مسلم لیگ ن اور میاں نواز شریف کی مدد کررہاہے ؟ یا پھر مسلم لیگ کی حکومت میں تابوت کے آخری کیل ٹھونک رہاہے،؟ہاں یہ بات تو طے ہے ،پاکستان میں ستر برس گزرنے کے باوجود بظاہر یہ طے نہیں ہوسکا ہے کہ ریاست اور میڈیا کے درمیان تعلقات کیسے ہونے چاہیءں۔ میڈیا کاکردار کیا ہوگا؟حکومت اور عوام میں پل کاکردار ادا کرنے سے حکمران اس کے خلاف نہیں ہونگے ،دنیا بھر کی طرح یہاں بھی میڈیا ریاست کے مفادات کو مدنظر رکھے گا، یا پھر حکومت ہمیشہ ذاتی پسند ناپسند کے تناظر میں اس آزادی کی حد کا تعین کیا کرے گی؟
خبر سامنے ہے پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے نگران اور منتظم ادارے پیمرا نے نجی ٹی وی چینل ‘بول’ اور بول انٹرٹینمنٹ (پاک نیوز) کے لائسنس منسوخ کر دیے ہیں۔پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ نے پیمرا کے اِس فیصلے کو بدنظمی پر مبنی فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آزادیِ صحافت کے عالمی دن پر ایسا فیصلہ حکومت کی انتظامی حالات کی عکاسی کرتا ہے ۔صحافی تنظیموں نے احتجاج کی حمایت کااعلان کردیا ہے ،جو کہ اچھی خبر ہے ،عوامی اور سیاسی حلقوں میں بھی اس پابندی کو نا خوش گوار محسوس کیا جارہاہے پیمرا کایہ ا قدام وزارتِ داخلہ کی جانب سے ان چینلز کی مالک کمپنی لبیک پرائیویٹ لمیٹڈ کے ڈائریکٹرز کی سکیورٹی کلیئرنس مسترد کیے جانے کے بعد اٹھایا گیا ہے کمپنی کے ڈائریکٹرز میں ایگزیکٹ گروپ اور بول گروپ کے مالک شعیب شیخ اور ان کی اہلیہ عائشہ شعیب کے علاوہ وقاص عتیق اور ثروت بشیر شامل ہیں۔بول ٹی وی کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پیمرا کی جانب سے لائسنس منسوخ کرنے کا فیصلہ غیر قانونی ہے کیونکہ عدالت نے پیمرا کو ادارے کے خلاف کوئی قدم اٹھانے سے روکا ہوا ہے ۔سوشل میڈیا پر اپنی مختلف ٹویٹ کے ذریعے بول ٹی وی کے میزبان اور سینئرصحافی عامر ضیا نے جو کہ انتظامیہ کا حصہ بھی ہیں، نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت بول کے خلاف اِس لیے کارروائیاں کر رہی ہے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ یہ ادارہ پاکستان کا بیانیہ آگے بڑھا رہا ہے اور حزبِ اختلاف کی آواز کو اٹھاتا اور حقائق پیش کرتا ہے ۔عامر ضیا کا کہنا تھا کہ ‘سکیورٹی کلیئرنس ایک بہانہ ہے ۔ آج تک کسی کو کلیئرنس دے کر واپس نہیں لی گئی تو یہ صرف بول کے ساتھ کیوں اور جب کاروبار کرنے کی اجازت مل جاتی ہے اور سرمایہ کاری ہو جاتی ہے تو آپ ایسے فیصلے نہیں کرسکتے علاوہ اِس کے آپ کے پاس ٹھوس ثبوت ہوں اور اگر ایسا ہے تو پیش کریں ۔
قارئین یہ وہ صورت حال ہے کہ جو حکومت کے مستقبل کے ساتھ ساتھ صحافتی تنظیموں کے کردار کے بارے میں بھی بڑا سوال ہے ،کیوں کہ ادارے مشکل سے بنتے ہیں اور ان کو صرف ذاتی پسند و ناپسند کے پیمانوں پر ایک حکم نامے سے بند کردینا، یہ ان ہزارو ں گھرانوں سے بھی زیادتی ہے جن کا روزگار ان سے وابستہ ہے ،اور رہی بات حکمرانو ں کی تو ان کے کاروبار ،جائدادسے لیکر اہل وعیال بھی ملک سے بھر ہیں ،اوردوسری جانب جن کا مرنا جینا اس ملک کے لئے ہے، ان کے ساتھ ایسا کیا جائے گا تو پھر کیا ہوگا مستقبل ،بات صرف بول نیوز کی نہیں بات صحافتی اصول کی ہے ،بات اخلاقیات کی ہے ،بات جمہوری اصولو ں کی ہے ،تنقید برداشت کرنے کی ہے ،پاکستان کے نظریاتی دفاع کی ہے ،ملکی اداروں کے دفاع کی ہے ،ملکی مسائل پر قومی بیانیہ کی ہے ،بات کشمیر کی ہے ،اور یہ سب ریاست کی ضرورت تھی او ر ہے ،
وقت کا تقاضہ ہے کہ صحافتی برداری ایک ہوکر اپنے لوگوں کے مفادات او ملکی مفادات کوترجیع دیں ،حکمرانوں سے ذاتی مفادات حاصل کرنے کے بجائے صحافتی اخلاقیات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے آزادی صحافت او اظہار رائے پر پابندی کے خلاف متحد ہوں ،کیونکہ یہ مسئلہ بول کا یا کسی اور صحافتی ادارے کا نہیں ،یہ مسئلہ ہے پاکستان میں ریاست کے ایک اہم ستون صحافت کا ہے ،اگر ایسا نہیں کیا گیا ،تو کل کوئی دوسرا حکمران کسی دوسرے چینل کے ساتھ ایسا کرنے کی کوشش کرے گا ،اور نقصان صحافی طبقے کا ہی ہوگا ، اور بہت سے صحافی بے روزگار ہونگے ،وہ نوجوان جو ڈگریاں لئے ملک بھر میں گھوم رہے ہیں ،ان کے مستقبل کا سوال ہے ،ملک سے کرپشن تب ہی ختم ہوگی جب تبدیلی آئے گی ،صحافی اور صحافت دونوں کا مثبت کردار ہی تبدیلی میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے ،اور جیسے کالم کے شروع میں لکھا ہے کہ ،مسلم لیگ ن اور بالخصوص میاں برداران اس پر بھی غور کریں کہ یہ وزرات داخلہ آخر کیا کررہی ہے ،ایسے اقدامات سے کہییں ان کے مستقبل اور تابوت میں آخری کیل تو نہیں ٹھونک رہی ،،؟کہیں ؛ بروٹس ؛ کے ساتھ غداری والا کردار تو نہیں ادا کیا جارہا،رہی بات ریاستی اداروں کی تو ان کے لئے بھی کئی سوالات ہیں ،اور وہ خوب سمجھتے ہیں کہ کون ملک کی بولی بول رہا ہے۔اور کون امن کی آشا کے آڑ میں بھارتی ثقافت اور ہندستان کی بولی بول رہا ہے ،یہ معاملہ سیٹھوں کے ذاتی مفادات اور کاروبار کا نہیں ،ملک کے قومی بیانیہ اور مستقبل ، کا ہے ،سوال کئی ہیں ،اور سب کے جواب ریاست،حکمرانوں،سیاسی جماعتوں،اور بالخصوص صحافی برادری کے پاس ہیں ،دیکھنا یہ ہے کون کیا کرتا ہے ،
رہے گا نام باقی صرف ایک اللہ کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور وہ شاعر نے کیا خوب کہا ہے
دل یزداں میں کھٹکتا ہے تو کانٹے کی طرح

تحریر:بادشاہ خان

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں