بہاول پور کی معدوم ہوتی تہذیب

پاکستان دنیا کے اہم ترین جغرافیائی حدود میں واقع وہ ملک ہے جو قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور جس میں مناسب آب وہوا ،ذرخیزذرعی میدان،معدنیات کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ان بیش بہا وسائل کی موجودگی سے اصولاً پاکستان کو دنیا کا امیر ترین ترقی یافتہ ملک ہونا چاہیے تھا مگر یہ خطہ معرض وجود میں آنے کے ساتھ ہی کبھی سیاسی تو کبھی اقتصادی تو کبھی داخلی و خارجی بحرانوں کی زد میں رہا۔تاریخی وتنقیدی جائزہ لیا جائے تو ان بحرانوں کے ذمہ دار پاکستان کے کوتاہ بین حکمرانوں کا کردار نمایاں نظر آتا ہے ۔آج بھی پاکستان کو دہشت گردی،بدعنوانی اور توانائی کے بحران کے ساتھ ساتھ متوقع شدید آبی بحران کا سامنا ہے۔ مگر ہمارے کم فہم اور مفاد پرست حکمران آنے والے اس سنگین نوعیت کے بحران کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔
یہ ایک عیاں حقیقت ہے کہ حیوانی و نباتاتی زندگی کی بقاء کا دارومدار پانی پر ہے یہی وجہ ہے کہ خالق کائنات نے زمین پر خشکی سے تین گناہ زیادہ آبی ذخائر پیدا کیے۔نہ صرف سطح زمین پر بلکہ زیر زمین بھی پانی کے وسیع ذخائر موجود ہیں جو حیوانی و نباتاتی استعمال میں آنے والے پانی کی افادیت کو بڑھانے میں معاونت کرتے ہیں مگر جہاں اس قدرتی نعمت کی غیر منصفانہ تقسیم کی گئی ہے وہیں پر زندگی کی بقاء داؤ پر لگ گئی۔ماضی کی نسبت آج ملک کی بڑھتی آبادی کے پیش نظر آبی ضروریات کا استعمال کئی گنا بڑھ چکا ہے لہذا آبی ذخائر نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں آنے والے دنوں میں شدید آبی بحران کا سامنا کر نا پڑے گا۔وطن عزیز کو اس وقت جس آبی بحران کا سامنا ہے اس کے سب سے زیادہ اثرات بہاول پور پر پڑ رہے ہیں بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ دریا کنارے آباد خطہ بہاول پور کی تہذیب غالباًاپنی آخری صدی دیکھ رہی ہے۔
بہتے دریا تہذیب وتمدن کہ پروردہ ہوتے ہیں خشک و بنجر دریا گم گشتہ تہذیبوں کا سبب بنتے ہیں۔دریا ہاکڑہ کی مثال اس عمل کی منہ بولتی تصویر ہے۔صحرائے چولستان میں دریائے ہاکڑہ کی گزرگاہ کے اطراف میں وادی سندھ کی تہذیب سے پرانی تہذیب کے اثرات موجود ہیں ۔یہ آثار بتاتے ہیں کہ یہ علاقہ سر سبز اور آباد علاقہ تھا۔یہاں پر کوئی صحرا نہ تھا مگر دریا کی لہروں نے کیا دم توڑا سر سبز وشاداب علاقے نے ریت کا لبادہ اوڑھ لیا ۔ یوں لگتا ہے کہ اس خطے میں تہذیب اپنے آپ کو ایک بار پھر دہرانے کے عمل سے گزر رہی ہے۔ بہاول پور سے گزرتا 300کلو میٹر طویل دریا ستلج صحرا بنتا جا رہا ہے جس کی وجہ اس کے کنارے آباد تہذیب ایک با ر پھر اپنے اختتام کے دہانے پر ہے۔
بہاول پور جو کہ تہذیب و ثقافت کا حامل ہے۔جس میں واقع قلعہ دراوڑ کو عالمی ورثہ قرار دیا گیا ہے بہاول پور کے خوبصورت محل شاندار شاہی دور کے عکاس ہیں بڑے بڑے سات دروازوں کے درمیان ایک قدیم شہر آباد ہے۔ ماضی کی خوشحال ریاست جس کے پاکستان کے قیام و استحکام پر ان گنت احسانات ہیں۔آج آبی استحصال کی وجہ سے اپنا وجود کھو رہی ہے۔جو علاقہ اپنے جنگلات اور باغات کی وجہ سے جانا جاتا تھا وہاں اب کئی درختوں کی نسلیں نا پید ہوتی جا رہی ہیں۔زیر زمین پانی کی سطح تیزی سے کم ہونے کی وجہ سے زیر کاشت رقبہ بھی نمکیات کی وجہ سے بنجر ہو رہا ہے۔ایک وقت تھا کہ جو بھی مسافر بہاول پور کا پانی پی لیتا تھا وہ اس کی چاشنی کی وجہ سے یہیں کا ہو کر رہ جاتا تھا۔آج اسی پانی میں بڑھتی آرسینک کی مقدار کی وجہ سے بہاول پور کا ہر تیسرا فرد کالے یرقان اور گردوں کے امراض میں مبتلا ہے۔
بہاول پور ایک زرعی خطہ ہے اور یہاں کے رہنے والوں کا بنیادی پیشہ زراعت ہے۔یہاں کا محنت کش کسان نہ صرف اپنی اور اپنے خاندان کی کفالت کرتا ہے۔بلکہ ملک کی زرعی ضروریات پوری کرنے میں معاونت کرتا ہے یہاں کے پھل امرود،آم،اور کھجور کو بیرون ملک برآمد کر کے زر مبادلہ بھی حاصل کیا جاتا ہے۔پھر بھی یہاں کا کسان اپنی زرعی بقاء کی جنگ لڑرہا ہے۔ دریا میں پانی نہ ہونے کی وجہ سے کسان اپنے کھیتوں اور باغات کو سیراب کرنے کے لیے زیر زمین پانی کے آخری سطح کو استعمال میں لانے پر مجبور ہے۔
سر سبز وشاداب بہاول پور کے آبی استحصال کا آغاز سندھ طاس معاہدہ سے شروع ہوتا ہے۔جب ستلج کو دیگر دو دریاؤں راوی اور بیاس کے پانی پر بھارت کو اختیار دے دیا گیا۔بھارت نے اس معاہدے سے فائدہ اٹھایا اور اپنے ملک میں سبزانقلاب لے آیا۔دوسری طرف ہمارے غیر ذمہ دار حکمرانوں نے اس معاہدے کی رو سے ملنے والی بیرونی امداد سے تین بڑے آبی ذخائر چشمہ،تربیلا ا ور منگلا ڈیم تو تعمیر کر لیے مگر دریائے ستلج کے کناروں پر تعمیر علاقے بالخصوص بہاول پور کے لیے تعمیر کیے جانے والا نہری لنک انخلاء میں ڈال دیا گیا۔معاہدے کی رو سے ستلج کو پانی فراہم کرنے کے لیے تریموں کے مقام پر اسلام لنک بنایا جانا تھا ۔جس سے بہاول پور کی زمینوں نے سیراب ہونا تھا۔مگر نصف صدی گزر جانے کے باوجود یہ منصوبہ انخلاء کا شکار ہے۔
اسلام لنک تعمیر نہ کر کے نہ صرف بہاول پور کا آبی استحصال کیا جا رہا ہے بلکہ پاکستان کے سر سبز و شاداب مستقبل کو بنجر اور ویران کرنے کی بھارتی سازش کا بھی بھرپور ساتھ دیا جا رہا ہے۔خطہ بہاول پور کو بھارت خیر پور ہیڈورکس بنا کر ستلج کے پانی کو روک کر پاکستان میں شامل ہونے کی سزا دے رہا ہے۔پاکستان میں شامل ہونے سے قبل بہاول پور کا شاندار سنہری نظام موجود تھا۔جس کی وجہ سے لہلاتے کھیت یہاں کی خوش حالی کے ضامن تھے مگر المیہ تو یہ ہے کہ جس منصوبہ پر انسانی زندگی کا انحصار تھا اور جس کی مالی امداد بھی میسر تھی حکمرانوں کی نظر التفا کا منتظر ہے آج کے ترقی یافتہ دور میں جبکہ انسان اس قابل ہے کہ وہ قدرتی آبی گزرگاہوں سے نہریں نکال کر دور درازکے علاقوں کو سیراب کر سکتا ہے مگر حکمرانوں کے استحصلانہ رویے اور کوتاہ بینی کی وجہ سے قدرتی آبی گزرگاہ ستلج کنارے آباد بہاول پور پانی کی بوند بوند کو ترس رہا ہے یہی صورتحال رہی تو قدیم خوشحال تہذیب عنقریب لق و دق صحرا میں تبدیل ہو جائے گی ہمارے حکمران اپنے من پسند علاقوں میں اپنے ذاتی شوق و ترجیحات کے کثیرالوسائل منصوبے تو مکمل کر رہے ہیں مگر جن منصوبوں پر پاکستان کی بقاء کا انحصار ہے وہ اپنی کوتاہ بینی کی وجہ سے نظر انداز کیے بیٹھے ہیں کیونکہ دریائے ستلج کی ویرانی اور معدوم ہوتی بہاول پور کی تہذیب صرف بہاول پور کا المیہ نہیں بلکہ یہ آنے والا وہ بحران ہے جس کی زد میں پاکستان کی سا لمیت ہے۔

تعارف: مسز آسیہ کامل بہاول پور کی معروف سیاسی و سماجی شخصیت ہیں.بہاول پور کے مسائل اور مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے قلم کا سہارا لیتی ہیں.

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں