بیرا پجاری…….کینتھ اینڈرسن کی داستان

میں نے بندوق کو سیدھا رکھتے ہوئے اور ٹارچ کو جلائے ہوئے دوسرے ہاتھ سے جیب سے ٹارچ کا اضافی بلب نکالا جو میری جیب میں اس طرح کی صورت حال کے پیش نظر ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ میں نے ایک ہاتھ سے رائفل کی ٹارچ کو کھول کر اس کا بلب بدلا۔ اب ٹارچ جل پڑی۔ میں نے بندوق کی ٹارچ بجھا دی۔ ابھی بھی بندوق میرے قدموں میں سیدھی رکھی تھی۔شیر اب بھی دھاڑ رہا تھا۔ اب وہ میرے عقب میں آچکا تھا۔ مجھے اطمینان تھا کہ سامنے کے سوا میں ہر طرف سے محفوظ ہوں۔ سامنے کے حملے سے بچنے کے لیے مجھے مسلسل ٹارچ جلائے رکھنی ہوتی۔ صبح ہونے میں ابھی کم از کم پانچ گھنٹے باقی تھے۔ میری دونوں ٹارچیں اگرچہ نئے سیلوں والی تھیں لیکن پھر بھی پانچ گھنٹے تک انہیں مسلسل جلائے رکھنا ممکن نہ تھا۔ میں نے ٹارچ بجھا کر محض اپنے کانوں پر بھروسہ کیا۔ اگر لمبی خاموشی چھا جاتی تو میں ٹارچ جلا لیتا۔ ڈھائی بجے تک شیر دھاڑتا رہا، پھر آوازیں دور ہوتی چلی گئیں۔ یقینا وہ سخت ناراض اور مایوس ہوا ہوگا۔ مجھے اس کی مایوسی اور ناراضی بہت اچھی لگی کہ اس طرح میری جان بچ گئی۔
میں رات بھر چوکسی کی حالت میں شیر کی آمد کے لیے تیار رہا۔ شیر جو آدم خور بھی ہو، اس کے بارے میں کسی قسم کی پیشن گوئی کرنا آسان نہیں ہوتا۔ وقت گزرتا رہا اور آخرکار جنگلی مرغ کی آواز سنائی دی۔ یہ سورج طلوع ہونے کی نشانی تھی۔ مجھے ایسا لگا کہ کئی صدیوں کے بعد سورج کو دیکھنے والا ہوں۔ جلد ہی دریا کے پار سے میرے ساتھیوں کا نعرہ سنائی دیا۔ مجھے یہ آواز خوش کن موسیقی جیسی لگی۔ میں نے چلاّ کر انہیں کہا کہ مطلع صاف ہے، وہ آسکتے ہیں۔ اٹھنے سے قبل میں نے رات والی چائے کا تھرموس خالی کیا اور اس دوران ٹانگیں بھی ہلائی جُلائیں۔ اس کے بعد پائپ نے مجھے تازہ دم کردیا۔ اس دوران میں نے رات کے واقعات کی کڑیاں بھی ملائیں۔
میرے تینوں دوست مجھے بخوبی جانتے ہیں۔ انہوں نے مجھ سے کچھ کہا تو نہیں لیکن ان کے انداز سے صاف لگ رہا تھا کہ وہ مجھے زندہ دیکھ کر بہت حیران ہو رہے ہیں۔ رات گئے تک جاری رہنے والے آدم خور کے ہنگامے کو انہوں نے بخوبی سنا تھا اور رات بھر دم بخود رہے تھے۔
بیرا نے مجھ سے کہا کہ وہ چار میل دور جاکر اپنے شکاری کتے کو لائے گا جو شیر کو منٹوں میں ڈھونڈ نکالے گا۔ یہ کتا عام پالتو دیہاتی کتا تھا۔ اس کا رنگ سفید اور بھورا نما تھا۔ اس کا نام کُش کُش کریہا تھا۔ بیرا اس کا نام لیتے وقت جب کریہا پر پہنچتا تو اس کی آواز ایک لمبی چیخ میں بدل جاتی۔ میں اس کی نقالی آج تک نہ کر سکا۔ خیر خالی کُش کُش کرنے پر بھی وہ متوجہ ہوجاتا۔ یہ بھی غنیمت تھا۔میں نے اصرار کرکے سوری کو اس کے ساتھ بھیجا اور خود رانگا کے ساتھ اوتا ملائی کی طرف پلٹا۔ ناشتے کے بعد دریائے کاویری میں غسل کرکے سوگیا۔ دو بجے دوپہر کو میری آنکھ کھلی۔ بیرا، سوری اور بیرا کا کتا موجود تھے۔ کتے نے مجھے دیکھ کر اپنی دُم ہلائی اور اپنی ناک میرے کندھے سے رگڑی۔دوپہر کا کھانا بعجلت نگل کر ہم لوگ رات والی جگہ کی طرف پلٹے۔ متوفی کے لواحقین ہمارے ساتھ تھے جو اکیلے جانے سے کتراتے تھے۔ اب لاش اتنی متعفن ہوچکی تھی کہ اس کے رشتہ داروں نے طے کیا کہ وہ اسے اٹھا کر دریائے چنار کے پار دفن کردیں گے۔ ان کے جانے کے بعد بیرا کے کتے نے شیر کو تلاش کرنے کی کوشش کی۔ بمشکل سو گز ہی دور جا کر وہ رک گیا۔ شاید شیر کی بو پر لاش کی بو غالب آگئی تھی۔ رات ہونے سے ذرا قبل ہم کیمپ پلٹے۔اگلے دن کچھ نہ ہوا۔ اس سے اگلی صبح رانگا مرتے مرتے بچا۔
جیسا کہ میں نے پہلے بتایا تھا کہ بیرا، سوری اور میں مل کر شیر کو تلاش کرتے جبکہ رانگا کا کام بھینسوں کو چارہ، پانی دینا اور دیکھ بھال تھا۔ اس دن اس نے صبح جلدی کام کا آغاز کیا۔ اس کے ساتھ ایک اور دیہاتی بھی تھا۔ منداچی پالم کے کنویں والے بھینسے سے ہوکر وہ لوگ منداچی پالم سے نیچے اترے۔ اب ان کا رخ دوسرے بھینسے کی طرف تھا جو چنار دریا کے کنارے بندھا ہوا تھا۔ دیہاتی آگے آگے اور رانگا اس کے پیچھے پیچھے تھا۔ میل بھر دور آکر جب وہ ندی میں اترے تو ان سے پچاس گز ہی دور شیر کھڑا تھا۔دیہاتی نے گھاس کا گٹھڑ وہیں پھینکا اور نزدیکی درخت پر چڑھنے لگا۔ اسے مناسب بلندی تک پہنچنے میں چند ہی سیکنڈ لگے لیکن اس دوران رانگا کا راستہ رکا رہا۔ رانگا ابھی زیادہ بلند نہ ہوا تھا کہ شیر پہنچ گیا۔ اس نے پچھلے پنجوں پر بلند ہوتے ہوئے رانگا پر پنجہ مارا۔ رانگا کی دھوتی اس سے الجھ کر گری۔ شیر پل بھر کے لیے ہی دھوتی کی طرف متوجہ ہوا تھا کہ رانگا اب محفوظ مقام تک پہنچ گیا۔ شیر اب دھوتی کو چھوڑ کر ان کی طرف متوجہ ہوا اور دھاڑنے لگا۔ رانگا اور دیہاتی چلاّ چلاّ کر اپنی بپتا سنانے لگے۔خوش قسمتی سے اس وقت کافی سارے دیہاتی اکٹھے ہوکر ادھر سے گزر رہے تھے۔ انہوں نے رانگا اور دیہاتی کی آواز سنی، پیغام کو سمجھا اور پورا گروہ میرے پاس کیمپ کی طرف دوڑا اور چار میل طے کرکے مجھ تک پہنچے۔یہ جانے بغیر کہ یہ واقعہ رانگا سے متعلق ہے، میں بیرا اور سوری کی واپسی کا انتظار کیے بنا سرپٹ اس مقام کی طرف دوڑا۔ اس مقام کے نزدیک پہنچ کر میں نے صرف ان دونوں کے چلاّنے کی آواز سنی۔ دونوں اتنے خوفزدہ تھے کہ شیر کے چلے جانے کے بعد بھی اس کے حملے کا خطرہ تھا۔ ہر ممکن احتیاط سے آگے بڑھا تاکہ اگر آدم خور موجود ہو تو اسے اس کی بے خبری میں جا لوں۔ تاہم مجھے دیکھ کر رانگا محض حیران ہی ہوا۔ میں نے انہیں تمام صورت حال سے آگاہ کیا۔ پھر ہم نے شیر کا پیچھا کرنے کی ٹھانی۔ زمین اتنی سخت تھی کہ کوئی نشان نہ ملا۔ ہم نے دوسرے بھینسوں کی دیکھ بھال کا سوچا۔ دونوں جانور بحفاظت تھے۔ سہ پہر کو ہم کیمپ لوٹے۔ ہمارا خیال تھا کہ شیر ان بھینسوں کو گھاس نہیں ڈالنے والا۔ گزشتہ دو دن قبل والے واقعے کے بعد اب آدم خور کے شکار پر واپس آنے کے امکانات کم ہی تھے۔ منداچی پالم کا یہ آدم خور ان شیروں میں سے ایک تھا جو خطرہ بھانپ کر کسی دوسری جگہ اپنی خون آشام سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں۔
دو دن بعد صبح سات بجے اچانک اس کہانی کا اختتام ہوگیا۔ جیسا کہ میں نے پہلے بتایا، آغاز والی جگہ ہی اختتام والی جگہ بنی۔
ایک جماعت جو دس افراد پر مشتمل تھی، اسی جگہ، اسی کنویں پر رکی۔ منداچی پالم کی چڑھائی سے قبل وہ پانی پی کر ذرا دم لینا چاہتے تھے۔ چونکہ عورتیں ہمراہ تھیں، ایک مرد پیشاب کرنے کے لیے تھوڑی دور ہی رک گیا۔ پھر ہلکی سی غراہٹ اور ایک چھلانگ کے ساتھ ہی آدم خور اس کو لے کر غائب ہوگیا۔ خوش قسمتی سے میں، رانگا، بیرا اور سوری بھینسوں کی دیکھ بھال کے لیے میل بھر ہی دور تھے۔ جلد ہی ہم بقیہ نو افراد سے ملے۔ انہوں نے حادثے کی اطلاع دی۔ میں نے رانگا اور سوری کو ہدایت کی کہ وہ درخت پر چڑھ جائیں اور میرا انتظار کریں۔ بیرا اور میں اس طرف بڑھے جہاں آدم خور نے حملہ کیا تھا۔ یہاں ہم نے خون کی دھار دیکھی۔بیرا اب نشانات کا پیچھا کرتے ہوئے میرے آگے چل رہا تھا۔ سو ہی گز کے بعد ہمیں ہڈیاں چبانے کی آواز آئی۔ آواز بائیں طرف نالے سے آئی تھی۔ بیرا کو رکنے کا اشارہ کرتے ہوئے میں اس طرف رینگنے لگا جہاں سے آواز آئی تھی۔ اگر ایسے مواقع پر ساتھی ہمراہ ہو تو ایک اضافی جان کی حفاظت کرنا مہنگا بھی پڑ سکتا ہے۔
جنگل بالکل خاموش تھا۔ ہڈیاں توڑنے اور بھنبھوڑنے کی آوازیں اب بالکل صاف آ رہی تھیں۔ نہایت احتیاط اور خاموشی سے میں آگے بڑھتے ہوئے ہر قدم پھونک پھونک کر رکھ رہا تھا مبادا کہ میں کسی خشک پتے کو نہ کچل دوں، یا کوئی پتھر میری ٹھوکر سے نہ لڑھک جائے۔ پندرہ گز کا فاصلہ بہت دیر میں طے ہوا۔ یہاں مجھے آدم خور کا کچھ حصہ دکھائی دے رہا تھا۔ چند قدم اور۔ اچانک آدم خور اٹھ کر میری طرف مڑا اور اس کے منہ میں متوفی کا بازو تھا جو کندھے سے کٹا ہوا تھا۔ اس کی آنکھیں حیرت سے پھیلی ہوئی تھیں۔ پھر اچانک اس نے غضب ناک دھاڑ لگائی۔
میری ونچسٹر رائفل کی نرم سیسے والی گولی کے پیچھے تین سو گرین کارڈائٹ کی طاقت تھی جس نے اس گولی کو فی مربع انچ پانچ ٹن وزن کی قوت سے دھکیلا تھا۔ یہ گولی اس کی گردن کی جڑ میں لگی۔ بلوپ کی آواز کے ساتھ بازو اس کے منہ سے گرا۔ اس نے آگے جھکتے ہوئے غراہٹ کی آواز نکالی۔ تیزی سے گولی تبدیل کرتے ہوئے میں نے اپنی پرانی اور وفادار رائفل سے دوسری گولی چلائی جو اس کے دل میں ترازو ہوگئی۔ اس کا کمینہ دل پھر کبھی نہ دھڑکنے کے لیے رک گیا۔ منداچی پالم کا آدم خور اسی جگہ گرا جہاں وہ تھا۔ اس طرح اس آدم خور کا خاتمہ ہوا۔ یہ شیر نر اور بے عیب و بے داغ جانور تھا۔ شاید فطرتاً یہ شیر کمینہ تھا جو آدم خوری کی طرف اتفاقاً مائل ہوا۔ ایسے ہی اتفاقات بے شمار انسانی جانوں کے اتلاف کا سبب ہوتے ہیں۔میری عدم موجودگی سے پریشان میری بیوی اسی دن دوپہر کو بنگلور سے اپنی کار پر پہنچی کہ شاید میں گھر بار بھول چکا ہوں۔
ہم بیرا کو اپنے ہمراہ لیے اس کی کھوہ تک پہنچے۔ اسی وقت اس کے ہاں پانچویں بچے کی پیدائش ہونے والی تھی۔ اس بچے کی آمد کچھ یوں ہوئی۔ ایک گہرا گڑھا جو بیرا نے دریائے چنار کی نرم مٹی میں کھودا تھا۔ اس میں نرم سبز پتے بھر کر اس نے زچہ خانہ تیار کیا۔ بیرا ہی مڈ وائف بنا۔ کوئی دوائی نہیں، کوئی سوئی دھاگہ نہیں، نہ ہی گرم پانی اور نہ ہی کپاس۔ صرف سبز پتے اور پتھر کا تیز کنارہ جس سے اس نے بچے کی نال کاٹی۔ نال سے خون روکنے کے لیے اس نے راکھ استعمال کی۔ پیدائش کے دو گھنٹے کے بعد ہی زچہ و بچہ اپنے اصل گھر یعنی دوسری کھوہ میں منتقل ہوئے۔ بیرا نے نال وغیرہ کو وہیں گڑھا کھود کر دفن کردیا۔ بیرا خود بھی شاید اسی طرح پیدا ہوا ہوگا۔ اس طرح وہ زندگی گزار کر مرتے ہوں گے۔ حقیقتاً یہ جنگل کی اولاد ہیں۔ تہذیب سے نا آشنا یہ لوگ جنگل، پہاڑیوں، ندیوں، نالوں ہر جگہ بغیر کسی جھجھک کے گھومتے ہیں۔ جس خاموشی سے پیدا ہوتے ہیں، اسی خاموشی سے ایک دن اسی زمین میں دفن ہوجاتے ہیں۔
اس دن صبح کو میں نے ایک مور مارا۔ اس کو ہم نے جنگل کے طریقے سے پکایا۔ پَر اور آلائشیں وغیرہ نکال کر ہم نے اس کا سر اور گردن بمع پنجے کاٹ کر الگ کردیئے۔ اس کے گوشت میں چاقو سے چرکے لگا کر اس میں نمک اور مصالحے بھر کر اس پر ہر طرف سے دریا کی گیلی مٹی کا لیپ کردیا۔ مور اب گیند لگ رہا تھا۔ پھر آگ جلا کر انگاروں میں اس کو رکھ دیا۔ آگ متواتر جلتی رہی لیکن مور کو صرف انگاروں پر ہی رکھا گیا۔ جب مٹی ٹوٹ کر الگ ہونے لگی تو اسے آگ سے نکال لیا کہ کھانا تیار تھا۔ اس طرح ہلکی سی محنت سے اتنا لذیذ مور تیار ہوسکتا ہے کہ جو اچھے خاصے باورچی کو بھی شرمندہ کردے.

ترجمہ: منصور قیصرانی

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں