تاریخ‌ عالم پر ایک نظر……..از جواہر لال نہرو

ایک انگریز مورخ ’’لین پول‘‘ سپین کے عربوں کے متعلق لکھتا ہے! صدیوں تک سپین تہذیب کا مرکز‘ علم و فن اور سائنس کا گھر ‘ غر ض یہ کہ ہر طرح کی روشن خیالی اور شائستگی کا منبع رہا‘ یورپ کا کوئی ملک اس وقت تک ’’موروں‘‘کی مہذب سلطنت کے لگ بھگ بھی نہیں پہنچا تھا۔ ’’فرڈی نینڈ‘‘ اور ’’زابیلا‘‘ کے زمانے کی چند روزہ آب و تاب یا ’’چارلس‘‘ سلطنت کی شان و شوکت کو یہ دائمی شہرت کہاں نصیب ہو سکتی ہے‘ ’’مور‘‘ سپین سے نکال دئیے گئے‘ اور وہاں عیسائی کچھ عرصہ کے لئے اس طرح چمکتے رہے جیسے چاند مستعار روشنی کی وجہ سے چمکتا ہے‘ پھر یہ چاند گہنا گیا‘ اور اس وقت سے آج تک سپین گھپ اندھیرے میں پڑا ہوا ہے۔ ’’موروں‘‘ کی سچی یادگاریں تو ان بنجر اور ویران میدانوں میں جا کر دیکھو‘ جہاں کبھی وہ افراط کے ساتھ انگور اور زیتون بوتے تھے‘ اور ہر طرف اناج کی پیلی پیلی بھری ہوئی بالیاں نظر آتی تھیں۔ دیکھو جہاں کبھی گھر گھر علم و دانش کا چرچا تھا وہاں آج جاہل اور احمق بستے ہیں۔ اسپینی قوم انحطاط اور زوال میں مبتلا ہے۔ اس کا درجہ اب دنیا کی سب قوموں کے مقابلہ میں بہت نیچا ہو گیا ہے اور وہ اس ذلت و رسوائی کی سزاوار بھی ہے۔اسلام نے ہندوستان کو جھنجھوڑ کر بیدار کر دیا۔ اس نے ایک ایسے سماج میں جس کی ترقی بالکل رک گئی تھی قوت اور ترقی کا جذبہ پیدا کر دیا۔ ہندو آرٹ زوال پذیر اور روگی ہو چکا تھا‘ اور تکرار و تفصیل کے بوجھ سے دبا جا رہا تھا۔ اب شمال میں اس میں ایک انقلاب رونما ہوا۔ یعنی ایک نیا آرٹ عالمِ وجود میں آیا۔ جسے ہندی مسلم آرٹ کہنا زیادہ صحیح ہوگا۔یہ آرٹ جوش عمل اور قوت حیات سے معمور تھا۔ پرانے زمانے کے ہندوستانی معمار مسلمانوں کے جدید خیالات سے بہت متاثر ہوئے۔ مسلمانوں کے عقیدے اور ان کی زندگی کی انتہائی سادگی اس زمانہ کے طرز تعمیر پر اثر کئے بغیر نہ رہی۔ چنانچہ اس میں از سر نو سادگی اور وقار پیدا ہو گیا۔
(کتاب ’’تاریخ عالم پر ایک نظر‘‘ از جواہر لال نہرو)

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں