تاریخ سوئی وہار : بدھ مت کی تاریخی درسگاہ پر نادر و نایاب کتاب

نام کتاب: تاریخ سوئی وہار
مصنف: ع۔م۔ چوہدری، ایم اے
صفحات: 512
رابطہ نمبر: 03037796970
ناشر: جٹ لینڈ پبلشرز

پاکستان کی سرزمین سرسبز و شاداب ہونے کے ساتھ ساتھ ثقافتی اور تاریخی ورثے سے بھی مالا مال ہے۔اس کے طول و عرض میں قدیم قلعے ، عبادت گاہیں اور تاریخی عمارات پھیلی ہوئی ہیں جو کہ مختلف ادوار کے عروج و زوال کی جھلک پیش کرتی ہیں۔اس کتاب میں ع۔م چوہدری نے ضلع بہاول پور کے ایک اہم تاریخی مقام “سوئی وہار” کو موضوع بناتے ہوئے اس کے ماضی کی تہذیب و تمدن کی ایک نمایا ں تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔بہاول پور شہر سے سترہ میل جنوب کی طرف مسافرخانہ سے متصل موسیٰ والا کے پہلو میں واقع سوئی وہار (سوئی کا سٹوپا) مولف کی تحقیق کے مطابق راجہ کنشک (جو بدھ مت کا پیروکار تھا) کی تاج پوشی کے گیارہ سال بعد یعنی 136ء میں تعمیر کیا گیا۔بدھ مت کی اس عظیم درس گاہ میں دنیا بھر سے لوگ طلب علم کے لیے یہاں آتے تھے۔

مستند روایات کے مطابق راجہ کنشک کے دور حکومت میں یہاں ایک ہندو رانی مالاجایا راج کرتی تھی جس کا تعلق سوئیوی قوم سے تھا۔اس رانی کے بطن سے بڑی مدت بعد اکلوتی بیٹی بالانندی نے جنم لیا جو کسی بدھ عابد کی دعا کا نتیجہ تھا جس کی خوشی میں رانی مالاجایا نے یہ وہار تعمیر کرایا۔مؤلف نے تاریخی و تحقیقی سفر کا آغازاس رانی کے بطن سے بڑی مدت بعد اکلوتی بیٹی بالانندی نے جنم لیا جو کسی بدھ عابد کی دعا کا نتیجہ تھا جس کی خوشی میں رانی مالاجایا نے یہ وہار تعمیر کرایا۔ یہ ایک تاریخی ورثہ ہونے کے علاوہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بھی ہے۔ماضی کا قابل فخر سرمایہ اور سنہرے مستقبل کی نوید بھی ہے۔

مؤلف نے تاریخی و تحقیقی سفر کا آغاز3800ق۔م کی ایک ملکہ سمورات کے ذکر سے کیا ہے اور کئی تاریخی سربستہ رازوں کو منکشف کیا ہے۔

Comments

comments

تاریخ سوئی وہار : بدھ مت کی تاریخی درسگاہ پر نادر و نایاب کتاب” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں