تاریخ میں 5 رمضان المبارک یوم پیدائش فاتح اندلس ، صقر قریش ، اموی شہزادہ عبد الرحمن بن معاويہ بن ہِشام بن عبد الملک بن مروان

تاریخی محقق وسیم عفیفی کے مطابق جب بھی اندلس کی تاریخ کا ذکر آئے گا تو عبدالرحمن الداخل جن کو صقرِ قریش (قریش کا باز) کا خطاب دیا گیا تھا . ان کا نام سرفہرست ہو گا – عفیفی کا کہنا ہے کہ عبدالرحمن الداخل کو یہ خطاب ان کے سخت ترین دشمن اور سیاسی مخاصم یعنی دوسرے عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے دیا تھا۔

عبدالرحمن الداخل کا پورا نام عبد الرحمن بن معاويہ بن ہِشام بن عبد الملک بن مروان ہے۔ وہ 5 رمضان 113 ہجری میں شام میں پیدا ہوئے۔ وہ دمشق میں اموی خلافت کے زیر سایہ پروان چڑھے۔ عبدالرحمن پانچ برس کے تھے تو ان کے والد فوت ہو گئے جس کے بعد ان کے دادا اور بھائیوں نے ان کی پرورش کی۔

Spain during the Arabic umayyad reign (Al-Andalus) el Andalucia لنک پر کلک کر کے ویڈیو دیکھیں

اموی ریاست کے سقوط کے بعد عبدالرحمن الداخل ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل ہوتے رہے۔ اس دوران افریقہ کے والی عبدالرحمن بن حبیب الفہری نے اموی خلافت کے سقوط سے فائدہ اٹھاتے ہوئے افریقہ پر اپنی حکم رانی کو خود مختار بنا لیا – اس موقع پر عبدالرحمن الداخل نے اندلس میں داخل ہونے کی تیاری کا فیصلہ کیا ، انہوں نے ایک مضبوط فوج تیار کی اور اپنے ایک اہل کار کو جائزہ لینے کے لیے اندلس بھیجا جس کا نام بدر تھا ، بعد ازاں انہوں نے بربروں کے ساتھ رابطہ کر کے اپنے منصوبے سے آگاہ کیا جس پر وہ آمادہ ہو گئے – بربر اموی ریاست سے محبت رکھتے تھے جب کہ یوسف بن عبدالرحمن الفہری سے شدید نالاں تھے –

ربیع الثانی 138 ہجری میں عبدالرحمن الداخل اپنی فوج کے ساتھ آبنائے جبلِ طارق کو عبور کرتے ہوئے اندلس میں داخل ہو گئے۔ ان کے تمام حامی بھی ہم راہ ہو گئے تو پورا ملک ہی جھکتا چلا گیا یہاں تک کہ دھیرے دھیرے اِشبیلیہ پہنچ کر اُس کو فتح کیا اور وہاں کے لوگوں نے عبدالرحمن الداخل کی بیعت کر لی۔ بعد ازاں یوسف بن عبدالرحمن الفہری کی فوج کو ہزیمت سے دوچار کر کے عبدالرحمن الداخل نے 10 ذو الحجہ 138 ہجری کو دارالحکومت قرطبہ بھی فتح کر لیا۔ اس طرح پورا اندلس ان کے زیر حکمرانی آ گیا۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں