تحریک بحالی صوبہ بہاول پور اور سیاسی اتار چڑھاو

پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام اور بہاولپور صوبہ کی بحالی پر ایک تسلسل کیساتھ آوازیں بلند ہو رہی ہیں ۔جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبہ کی تحاریک صوبائی اسمبلی سے منظوری کے بعد سرد خانے کی ہوا کھا رہی ہیں لیکن عوامی سطح پر ان کے قیام کے مطالبے کے لیے درجہ حرارت بلند ہورہا ہے۔سرائیکی صوبہ کی بازگشت بھی کہیں کہیں سنائی دے رہی ہے لیکن مؤثر اور متفقہ قیادت نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک واضح خدوخال اور سیاسی پزیرائی حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔سرائیکی ثقافت اور اجرک کا دن منا کر سرائیکی صوبہ کا قیام جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ہزارہ صوبہ والے بھی گہری خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں ۔جبکہ حکومت گلگت بلتستان صوبہ کے لیے کافی کام کرچکی ہے۔اس پس منظر میں اگر ہم۔صوبہ بہاولپور کی تحریک کا جائزہ لیں تو صورتحال یوں ہے کہ نصف درجن کے قریب مختلف ناموں سے بہاولپور صوبے کی بحالی کا مطالبہ بڑے زور شور سے اٹھایا جاتا رہا ہے۔صوبہ بہاولپور اتحاد، متحدہ محاز، متحدہ تحریک بحالی صوبہ بہاولپور، تحریک بحالی صوبہ بہاولپور، صادق دوست موومنٹ اور کئی ناموں سے بحالی صوبہ کے لیے جدوجہد کی جارہی ہے۔صوبہ بہاولپور اتحاد کی طرف سے تمام گروپوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرکے مشترکہ اجلاس بھی بلایا گیا ہے۔جس سے بات عیاں ہے کہ اب یہ تحریک عملی اقدامات کیساتھ ساتھ اتحادی جماعتوں کے نئے الائنس کے زریعے معرکہ لڑنے جارہی ہے۔حکمران جماعت نے بہاولپور صوبہ کی بحالی کا وعدہ دے کر ووٹ لیے تھے لیکن ابھی تک معنی خیز خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔بہاولپور سے ایم این اے اور وفاقی وزیر میاں بلیغ الرحمٰن نے اس حوالے سے دو تین مثبت بیان دیئے ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ۔انہوں نے یہ بیان صرف عوام کو۔خوش کرنے کیلیے دیئے ہیں جبکہ قومی اسمبلی میں انکی طرف سے کوئی قرارداد یا مطالبہ پیش نہیں کیا گیا۔جماعت اسلامی نے بہاولپور میں اجتماع عام منعقد کیا جس میں بہاولپور صوبہ کہ بحالی انکا مرکزی نعرہ تھا۔امیر جماعت نے بڑے واضح انداز میں بہاولپور صوبے کی بحالی کا مطالبہ کیا اسی جماعت کے اکلوتے ایم پی اے ڈاکٹر وسیم اختر نے صوبائی اسمبلی میں قرارداد پیش کی جسے حمایت نہ مل سکی ۔یہاں یہ بات بھی قابل زکر ہے کہ جماعت اسلامی عوامی سطح پر بہاولپور صوبے کے لیےتحریک کیوں نہیں چلا رہی ۔پاکستان مسلم لیگ ق کے ایم۔این۔اے طارق بشییر چیمہ نے اسمبلی فلور اور بعد ازاں ملتان کے جلسہ میں بہاولپور صوبہ کی بحالی کے ایشو پر کھل کر بات کی اور اسکی حمایت کا بھی اعلان کیا۔تحریک انصاف بھی اس مطالبہ پر یکسو ہے اور مقامی قیادت اس حوالے سے بہاولپور صوبہ کی بحالی کا مطالبہ کرتی رہتی ہے۔اس صورت حال میں یہ بات تو واضح ہے کہ بہاولپور صوبہ بحالی کا مطالبہ دن بدن زور پکڑ رہا ہے۔بڑے سیاستدان جنہوں نے اس تحریک سے بڑے فائدے حاصل کیے ہیں اب بہاولپور صوبے کے ایشو پر چپ دھارے بیٹھے ہیں اور ان پرعوامی سطح پر طنز کےنشتر چلائے جارہے ہیں ۔عوام الناس سیاسی عمائدین سے مایوس ہوچکے ہیں لیکن عوام ہی میں سے مختلف مکاتب فکر اور سیاسی جماعتوں کے کارکنان نئے اتحاد تشکیل دے رہے ہیں اسکی وجہ یہ ہے کہ انتخابات میں بہاولپور صوبہ کے ایشو پر ووٹ لیے جاتے ہیں اگلے انتخابات سے پہلے سیاسی اور عوامی دباؤ بڑھا کر ایگزیکٹو آرڈر کے زریعے صوبہ بحال کرایا جائے ۔صوبہ بہاولپور اتحاد اس وقت صہیح معنوں میں عوامی نمائندگی کا حق ادا کرہی ہے۔ اس وقت یہی تنظیم جلسوں اور عوامی رابطہ مہم کے زریعے صوبہ بحالی کے لیے کام کرہی ہے۔حال ہی میں پورے ڈویژن کا۔دورہ اور پریس کانفرنسوں کے زریعے اس مطالبے اور بہاولپور صوبہ تحریک کو تیز کردیا ہے ۔لیکن ابھی بھی بڑا کچھ کرنے کو باقی ہے۔ انیسو ستر میں عوام اور خواص نے مل کر صوبہ بحالی کی تحریک چلائی تھی جسکے نتیجے میں تمام قومی اور صوبائی کی نشستوں پر واضح اکثریت حاصل کی تھی۔دوہزار دس گیارہ میں چلنے والی تحریک خواص کی تحریک تھی جس میں عوامی نمائندگی کا تناسب کم تھا ۔اب عوام نے اس تحریک کا بیڑہ اٹھایا ہے لیکن خواص کی طرف سے عملی شرکت نہ ہونا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ چوبیس اپریل کو یوم شہداء کے موقع پر اہلیان بہاولپور تمام تنظیمیں صوبہ بحالی کے شہداء کو خراج عقیدت بھی پیش کرتی ہیں اور اپنے مقصد کی تجدید کا عہد بھی کرتی ہیں۔اس تحریک میں محمد عظیم اور محمد شفیق کا مقدس لہو شامل ہے جس کی تاثیر کی بدولت یہ تحریک ابھی تک زندہ ہے۔ اور اپنے حقیقی و آئینی مطالبے کے لیے جدوجہد کرہی ہے۔پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام اور بہاولپور صوبہ کی بحالی نہ صرف وقت کی ضرورت ہے بلکہ پاکستان کی 63%آبادی کے حامل صوبہ پنجاب کو تین سے چار، سندھ کو دو سے تین بلوچستان کو دو اور خیبرپختونخوا کو دو نئے انتظامی یونٹ کے قیام سے اور بہاولپور صوبہ کو بحال کرکے عوام کو حقوق دینے سے پاکستان مضبوط ہوگا۔اسکے ساتھ ساتھ سندھ اور بلوچستان کے قوم پرستوں کو بھی قومی دھارے میں شامل ہونے کا موقع ملےگا ۔نئے صوبوں کے قیام کے لیے پارلیمانی سطح کی کمیٹی اور قومی ہم۔آہنگی کونسل برائے نئے صوبے بنائی جائے اور اس میں ہر نئے صوبے کے اسٹیک ہولڈرز کو نمائندگی دی جائے ۔جبکہ بہاولپور صوبے کو ایگزیکٹو آرڈر کے زریعے بحال کرکے یہاں کی عوام کے دیرینہ مطالبہ کو تسلیم کیا جائے ۔

تحریر:‌راجہ شفقت محمود

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں