ترپ کا کارڈ اور اسلامی دنیا (محمد اقبال عباسی )

تاش کے کھلاڑی اور اہل علم اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ کھیل کے دوران بعض اوقات چھوٹے سے چھوٹا کا رڈ بھی اتنی اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ اس کو کوئی بھی کارڈ مات نہیں دے سکتا جس کو ہم ترپ کا کارڈ یا ٹرمپ کارڈ کہتے ہیں۔ حال ہی میں ریاستہائے متحدہ امریکہ میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے نتائج میں کامیاب ہونے والے ڈونلڈ ٹرمپ بھی اسم با مسمیٰ ثابت ہونے کی پوری کوشش کر رہے ہیں ۔امریکی تاریخ میں شاید یہ پہلا موقع ہو گا کہ صدارتی الیکشن کے نتائج پر پورا امریکہ ہی نہیں بلکہ اس کے اتحادی بھی انگشت بدنداں ہیں ۔ترپ کے پتے (دونلڈ ٹرمپ) نے اپنے بیانات اور پالیسیوں سے نہ صرف پوری اسلامی دنیا کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے بلکہ خود مغربی ممالک اور امریکی عوام کی بھی نیند یں اڑ گئی ہیں۔21 جنوری کو صرف واشنگٹن میں ٹرمپ کے خلاف 5 لاکھ خواتین نے احتجاج کیا جبکہ امریکہ کی تمام ریاستوں میں 400 مقامات پر احتجاجی مظاہرے ہوئے جن میں لگ بھگ 22 لاکھ سے زیادہ نفوس موجود تھے۔ صدر امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ریسلنگ رنگ والے لہجے میں دہشت گردی کو اسلام اور مسلمانوں سے جوڑتے ہوئے کہا “اسلامی دہشت گردوں کا نام و نشان مٹا دوں گا”۔ اپنے پہلے خطاب میں اسلامی دہشت گردی کو اپنی اولین ترجیح بناتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ امریکا روس کے تعاون سے ان علاقوں کو اپنے زیر اثر لے آئے گا جہاں اسلامی دہشت گردی کے مراکز قائم ہیں اسی تعصب ، نسل پرستی اور اسلام سے نفرت کے نتیجہ یہ نکلا کہ ریاست ہیوسٹن کے علاقے وکٹوریہ میں نامعلوم افراد نے مسجد کو آگ لگا دی۔ ٹرمپ نے دہشت گردی کو اسلام سے جوڑ کر خود ہی ایک اصطلاح “Muslim Ban”متعارف کروائی ہے جو کہ ان کی مسلم دشمنی کا واضح ثبوت ہے۔ محترم صدر امریکہ نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ایران ، عراق ، لیبیا ، صومالیہ، سوڈان، شام اور یمن سمیت ان سات ممالک کے افراد پر 90 دن تک امریکہ میں داخلے کی پابندی بھی لگا دی ہے اور اپنے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے فوج کی تنظیم نوکے ساتھ ساتھ اس کو جدید آلات اور وسائل مہیا کرنے کے علاوہ امریکی بحری بیڑے نئے بحری جہاز بنانے کا بھی حکم نامہ جاری کر دیا ہے ۔ لیکن ٹرمپ کے ان انتہا پسندانہ اقدامات نے نہ صرف پوری مسلم امہ کو پریشانی مبتلا کیا ہوا بلکہ دنیا کے سب سے بڑے مقروض ملک امریکہ کی اپنی معیشت کا یہ حال ہے کہ حالیہ ماہ میں امریکی ڈالر کی قدر میں 30 سالوں میں ریکارڈ کمی واقع ہوئی ہے جو اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ یہ ترپ کا پتہ اتنا کارگر ثابت نہیں ہو رہا بلکہ ٹرمپ کارڈ ہولڈر ز کو بھی اس سے شدید خطرات لا حق ہیں جیسا کہ فرانسیسی وزیر خارجہ نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ فرانس اور جرمنی کو ٹرمپ کے فیصلوں پر تشویش ہے۔
امریکی تاریخ کا بغور جائزہ لیا جائے تو آنے والے تمام صدور نے اپنی انتخابی مہم میں کامیابی کے لئے صرف اور صرف لوگوں کے خون سے ہولی ہی کھیلی ہے کبھی ویت نامی عوام کے خون سے تو کبھی عراقیوں کے خون سے اور کبھی اٖفغان عوام کا خون بہا کر وائیٹ ہاؤس تک پہنچنے کی کامیاب مہم سر انجام دی ہے لیکن ان تمام جنگوں کا کوئی بھی فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا بجائے اس کے کہ صرف اور صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ تمام اقوام عالم امریکی عوام سے نفرت کرتے ہیں۔موجودہ امریکی صدر محترم نے بھی اپنے آباء و اجداد کی روایت کو برقرا رکھتے ہوئے
20 جنوری کو بطور امریکی صدر حلف اٹھانے کے بعد سمندر پار حراستی مرکز میں غیر ملکی قیدیوں پر تشدد اور سی آئی اے گوانتا مو بے میں داعش سمیت دیگر تنظیموں کے جنگی قیدی رکھنے اور ہلال احمر کو ان تک رسائی نہ دینے کا آرڈر بھی تیار کر لیا ہے۔ موجودہ امریکی حکومت کے ان جارحانہ اقدامات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے دل میں عالم اسلام کے خلاف بہت بغض بھرا ہوا ہے جس کا اظہار ٹرمپ نے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے اور ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کی منسوخی کا اعلان کر کے کیا ہے۔ بین السطور ٹرمپ نے دوبارہ ایرانی صدر کو دھمکی دی ہے لیکن ایرانی حکام نے اینٹ کا جواب پتھر سے دیا ہے کہ ہم بھی امریکی افراد سے ویسا ہی سلوک کریں گے جوسلوک وہ ایرانی عوام سے کرے گا۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان تابڑ توڑ حملوں کے سامنے اسلامی ممالک کب تک ٹھہر سکیں گے؟ ٹرمپ نے جان بوجھ کر نفرت اور تعصب کی کھلے عام جو مہم چلائی وہ تاریخ عالم نے نہ کبھی سنی اور نہ کبھی دیکھی ہو گی۔ موصوف نے انتخابات جیتنے کے لئے یہ ڈرامہ تو رچا دیا لیکن وہ اس جارہانہ انداز میں حکومت نہیں چلا سکتے جس کے ساتھ انہوں نے اپنی انتخابی مہم چلائی۔
اگر اہل دانش اور سیاسی مبصرین کی رائے کو دیکھا جائے تو وہ بر ملا کہتے نظر آتے ہیں کہ دہشت گردی کی آگ کا اصل موجد خود امریکہ ہے اگر یہی طالبان جب روس کے ٹکڑے کریں تو وہ مجاہدین اور جب امریکہ کے خلاف بر سر پیکار ہوں تو دہشت گرد کہلائے جاتے ہیں اسامہ بن لادن ہو یا صدر صدام حسین وہ جب امریکی ایجنٹ ہوں تو ہیرو اور مطلب براری کے بعد زیرو کہلائے جاتے ہیں لیکن جب آگ بھڑکتی ہے تو وہ تنکوں کے ساتھ ساتھ فولادی ساز و سامان کو بھی پگھلا کر جلا دیتی ہے اور مجھے ڈر ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی نفر ت کی یہ بھڑکائی ہوئی آگ ان کے اپنے نشیمن کو ہی نہ جلا کر خاکستر کر دے۔ طاقت اور گھمنڈ کے برملا استعمال اور انتہا پسندانہ پالیسیوں کی و جہ سے امریکی عوام کے خلاف مسلمانوں کے جذبات بھی ڈھکے چھپے نہیں کہ مسلم ملکوں میں یہی عوام اکیلے سفر بھی نہیں کر سکتے اور انہی متشددانہ پالیسیوں کی وجہ سے امریکہ اقوام عالم میں بھی تنہا ہو تا جا رہا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار خود اسلامی ممالک ہیں مشرق بعید میں داعش کی شکل میں ایک اژدہا اسلامی ممالک کو نگلنے کے درپے ہے تو بوکو حرام بھی اپنی کار گزاریوں میں کسی سے پیچھے نہیں اور پاکستان و افغانستان میں طالبان کی شکل میں گاہے بگاہے مسلم امہ کو دہشت گردانہ حملوں کی زدمیں لایا جارہا ہے۔
امریکہ میں اپنے چھ ماہ کے قیام کے دوران میں نے مشاہدہ کیا کہ امریکی عوام کا احساس برتری ان کو تبا ہی کے دھانے کی طرف لے کر جا رہا ہے۔ امریکی عوام کو بھی یہ بات باور کروانا ہو گی کہ مسلمانوں کے بارے میں جو تصویر کشی ان کا میڈیا اور سیاستدان کر رہے ہیں وہ تصویر کا غلط رخ ہے میرے اکثر امریکی دوست مجھ سے پاکستانی صورت حال اور طالبان کے بارے میں سوالات کرتے تھے اور ان کو ایک ما ورائی مخلوق خیال کرتے ہیں جس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ میڈیا اور خود غرض عناصر نے امریکی باشندوں کو درست اور زمینی حقائق سے آگاہ ہی نہیں کیا ان کو تو صرف اسلامی ممالک کا سفر کرنے سے منع کیا جاتا ہے کہ یہ غیر محفوظ ممالک ہیں اور وہ بیچارے خوفزدہ ہو جاتے ہیں۔
اب یہ مسلم مما لک کے عمائدین اور او آئی سی کا فرض ہے کہ وہ کھل کر سامنے آئیں اور ٹرمپ انتظامیہ کو اپنے موقف سے آگاہ کریں ۔ دہشت گرد کا نہ کوئی مذہب ہوتا ہے ور نہ ہی کوئی فرقہ، وہ صرف چند روپوں کی خاطر ہی یہ قبیح فعل سر انجام دیتا ہے۔حیرانی کی بات یہ ہے کہ جہاں پر بھی کوئی دہشت گردی کی واردات ہوتی ہے اس کی ذمہ داری صرف اور صرف کوئی اسلامی تنظیم ہی قبول کرتی ہے لیکن کبھی بھی کسی نے غور نہیں کیا کہ کہیں کچھ شیطان مسلمانوں کو بدنام کر کے تیسری عالمی جنگ تو شروع نہیں کرانا چاہتے؟۔ اس کے علاوہ ڈونلڈ ٹرمپ کا واضح جھکاؤ بھی اسرائیل اور بھارت کی طرف نظر آ رہا ہے اور بھارت کی نظر میں پاکستان تقسیم کے وقت سے ہی کھٹک رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ چین کو بھی اپنا مسقل خطرہ سمجھتا آرہا ہے یہی وجہ ہے کہ ہندو بنیا اپنے مقاصد کی تکمیل کی خاطر کچھ بھی کر گزرنے کو تیار ہے۔
ٹرمپ کی حالیہ اسلام دشمن پالیسیوں کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا نظر آرہا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے منافقت کا وہ ماسک اتار پھینکا ہے جس کی مدد سے وہ اپنے آپ کو مسلمانوں کا بہی خواہ اور ہمدرد کہتے تھے اور ہو سکتا ہے اسلام مخالف یہی پالیسیاں ہی ایک ایسی لات کا کام کریں جو کبے کا کب نکلنے کا باعث بن جائے اور خواب غفلت میں ڈوبی مسلم قوم بھی کسی ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو جائیں ۔
****

تحریر۔ محمد اقبال عباسی
abbasi.avisina@gmail.com

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں