تصوف‘ صوفی ازم اور اصل حقائق

اسلام کی شمع کو بجھانے اور مسلمانوں کو راہ ِ راست سے بھٹکانے کی کوششیں ، تاریخ میں کوئی نئی بات نہیں لیکن یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ :
نورِ خدا ہے کفر کی حرکتوں پر خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
قرآن مجید نے یہ اعلان آج سے چودہ سو سال پہلے کر دیا تھا کہ :
یا ایھا الذین امنوا من یرتد منکم عن دینہ فسوف یأتی اللہ بقوم یحبھم ویحبونہ اذلۃ ً علی المومنین اعزۃ علی الکافرین یجاھدون فی سبیل اللہ ولا یخافون لومۃ لائم ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء واللہ واسع علیمٌ ( المائدہ)
( اے ایمان والو! جو کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھرے گا تو اللہ تعالیٰ عنقریب ایسے لوگوں کو لے آئیں گے جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور انہیں اللہ سے محبت ہو گی ، مسلمانوں پر وہ مہربان ہوں گے اور کفار کے لیے سخت ہوں گے ، وہ اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے اور وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے وہ جسے چاہے دیتا ہے اور اللہ وسعتوں کا مالک اور سب کچھ جاننے والا ہے ) ۔
قرآن مجید نے جن لوگوں کا تذکرہ اس آیت میں کیا ہے ، وہ کم و بیش ہر دور میں رہیں گے اور دین اسلام اُن کے ساتھ قائم و دائم رہے گا ۔ یہ لوگ استقامت کا ایسا عملی نمونہ ہوں گے کہ مصائب کی آندھیاں اُنہیں اپنے دین سے برگشتہ نہ کر سکیں گی اور نہ ہی طعنے و ملامت کے تیر ، انہیں اُن کے مؤقف سے ہٹا سکیں گے ۔
گزشتہ چند سالوں سے عالم کفر کے سازشی ذہنوں نے ’’ صوفی ازم‘‘ کے نام پر پوری دنیا میں ایک فتنہ برپا کر رکھا ہے ۔ ’’صوفی اسلام‘‘ کے نام پر وہ ایسا ’’معجون مرکب‘‘ تیار کر رہے ہیں ‘ جو یہودیوں ‘ عیسائیوں ‘ ہندوئوں ‘ سکھوں اور تمام مذاہب ِ باطلہ کیلئے قابلِ قبول ہو ، حالانکہ ایک کم علم مسلمان بھی یہ بات جانتا ہے کہ اسلام کا اعلان جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے سر زمین ِ مکہ پر کیا تو اُسی وقت سے اس کی مخالفت کا سلسلہ شروع ہو گیا اور پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد پوری زندگی ہی باطل قوتوں کے ساتھ برسرِ پیکار رہے ۔ اگر اسلام کا کوئی ایسا ’’ایڈیشن‘‘ ممکن ہوتا جو سب کفار کیلئے قابلِ قبول ہوتا تو نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم ضرور اُسے پیش فرماتے لیکن آپ نے تو تمام تر دبائو اور دھمکیوں ہی نہیں‘ بڑی بڑی پیشکشوں کو بھی مسترد فرمادیا اور کفار کی خواہش اور مطالبے پر دین اسلام کا کوئی معمولی سے معمولی حکم بھی تبدیل نہیں فرمایا ۔ اس لیے اب ہم پورے یقین سے کہہ سکتے ہیںکہ جو مذہب اور نظریہ، سب کیلئے قابل قبول ہو وہ خالص کفر تو ہو سکتا ہے‘ اسلام ہرگز نہیں ۔
’’تصوف‘‘ کے نام سے کفار کو فائدہ اٹھانے کی کیوں سوجھی ؟ اس لیے کہ یہ لفظ پہلے ہی بہت مظلوم ہے ۔ کسی نے ناچ گانے اور دیگر خرافات تک کو تصوف کے نام پر جائز قرار دے دیا اور کسی نے خود تصوف کو ہی عجمی تصورات کی پیداوار اور شروع سے آخر تک غلط کہہ دیا ۔ عوام بے چارے ان دونوں انتہائوں کے درمیان حیران و سرگرداں رہے کہ اصل حقیقت کیا ہے؟
صحیح بات یہ ہے کہ صوفیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے نزدیک تصوف شعبدہ بازیوں‘ رسوم و رواج ‘ مزارات اور عرس و قوالویوں کا نام نہیں ۔ یہ توتزکیہ اور احسان کا ہم معنی اور اخلاقی و باطنی تربیت کا مترادف ہے ۔ رذائل کو دور کر کے حصولِ فضائل اور اوصاف ذمیمہ کا ازالہ کر کے اوصافِ حمیدہ اپنے باطن میں پیدا کرنا ‘ یہی اس کی غرض و غایت اور منتہی و مقصود ہے ۔ یہاں مناسب ہو گا ‘ اگر ہم اپنی بات کو واضح کرنے کیلئے امام العارفین ‘ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی کی آپ بیتی کا ایک دلچسپ اقتباس پیش کردیں ۔ حضرت تحریر فرماتے ہیں:
’’ایک مرتبہ دس بجے صبح کو میں اوپر اپنے کمرہ میں نہایت مشغول تھا ، مولوی نصیر نے اوپر جاکر کہا کہ ’’رئیس الاحرار آئے ہیں رائپور جارہے ہیں ، صرف مصافحہ کرنا ہے‘‘میں نے کہا ’’جلدی بلاوے‘‘مرحوم اوپر چڑھے اور زینے پر چڑھتے ہی سلام کے بعد مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھا کر کہا ’’رائپور جارہا ہوں اور ایک سوال آپ سے کرکے جارہا ہوں اور پرسوں صبح واپسی ہے ، اس کا جواب آپ سوچ رکھیں واپسی میں جواب لوں گا…
’’ یہ تصوف کیا بلا ہے؟ اس کی کیا حقیقت ہے؟ ‘‘
میں نے مصافحہ کرتے کرتے یہ جواب دیا کہ ’’صرف تصحیح نیت ، اس کے سوا کچھ نہیں، جس کی ابتداء
انما الاعمال بالنیات
(تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے)
سے ہوتی ہے اور انتہاء
ان تعبد اللہ کانک تراہ
(تم اللہ کی عبادت ایسے کروکہ گویا تم اُسے دیکھ رہے ہو)ہے ‘‘۔
میرے اس جواب پر سکتہ میں کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے ’’دلی سے یہ سوچتا آرہا ہوں کہ تو یہ جواب دے گا تو یہ اعتراض کروںگا ، اوریہ جواب دے گا تو یہ اعتراض ، اس کو تو میں نے سوچا ہی نہیں ‘‘۔
میں نے کہا ’’جاؤ تانگے والے کو بھی تقاضا ہوگا ، میرا بھی حرج ہورہا ہے ، پرسوں تک اس پر اعتراض سوچتے رہیو ، اس کا خیال رہے کہ دن میں مجھے لمبی بات کا وقت نہیں ملنے کا ، دو چار منٹ کو تو دن میں بھی کرلوںگا۔ بات لمبی چاہوگے تو مغر ب کے بعد ہوسکے گی ‘‘۔
مرحوم دوسرے ہی دن شام کو مغرب کے قریب آگئے اور کہا کہ:
’’کل رات کو تو ٹھہرنا مشکل تھا اس لئے کہ مجھے تو فلاںجلسہ میں جانا ہے اور رات کو تمہارے پاس ٹھہرنا ضروری ہوگیا ، اس لئے ایک دن پہلے ہی چلاآیا ‘‘۔
اور یہ بھی کہا :’’ تمہارے کل کے جوا ب نے مجھ پرتو بہت اثر کیا،ا ور میں کل سے اب تک سوچتا رہا ، تمہارے جواب پر کوئی اعتراض سمجھ میں نہیں آیا ‘‘۔میں نے کہا:’’ان شاء اللہ، مولانا اعتراض ملنے کا بھی نہیں ‘‘
’’انما الاعمال بالنیات ‘‘سارے تصوف کی ابتداء ہے اور ’’ان تعبد اللہ کانک تراہ ‘‘ سارے تصوف کا منتہاء ہے ، اسی کو نسبت کہتے ہیں، اسی کو یادداشت کہتے ہیں ، اسی کو حضوری کہتے ہیں ۔
میں نے کہا ’’مولوی صاحب سارے پاپڑ اسی کے لئے بیلے جاتے ہیں ذکر بالجہر بھی اسی واسطے ہیں ،مجاہدہ ، مراقبہ بھی اسی واسطے ہے، اور جس کو اللہ جل شانہ اپنے لطف وکرم سے کسی بھی طرح سے یہ دولت عطا کردے اس کو کہیں کی بھی ضرورت نہیں ۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر کیمیا اثر سے ایک ہی نظر میں سب کچھ ہوجاتے تھے اور ان کو کسی چیز کی بھی ضرورت نہ تھی ، اس کے بعد اکابر اور حکماء امت نے قلبی امراض کی کثرت کی بناء پر مختلف علاج جیسا کہ اطباء بدنی امراض کے لئے تجویز کرتے ہیں ، روحانی اطباء نے روحانی امراض کے لئے ہر زمانے کے مناسب اپنے تجربات جو اسلاف کے تجربات سے مستنبط تھے نسخے تجویز فرمائے ہیں جو بعضوں کو بہت جلد نفع پہنچاتے ہیں ، بعضوں کو بہت دیر لگتی ہے ‘‘۔
حضرت شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ نے جو بات اپنے دلچسپ انداز سے کہی ہر دور کے صوفیاء محققین یہی بات کہتے چلے آئے ہیں ، جس پر اُن حضرات کی تصانیف اور مواعظ کھلے ہوئے گواہ ہیں۔کالم کی تنگ دامنی کی وجہ سے ہم یہاں صرف حضرت خواجہ محمد معصوم رحمۃ اللہ علیہ کا ایک حوالہ نقل کرتے ہیں،جس سے نام نہاد ’’ صوفی ازم‘‘ کی ساری بنیادیں ہی منہدم ہو جاتی ہیں۔
سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجدد یہ سے وابستہ خواجہ محمد معصوم سر ہندی، حضرت مجدد الف ثانی کے پہلے فرزند اور جانشین تھے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کے کام میں ایسی برکت دی تھی کہ آپ کی زندگی ہی میں آپ کے خلفاء پورے عرب ، ماوراء النہر اور افغانستان سے سر ہند تک اس طرح پھیل گئے کہ معلوم ہوتا تھا کہ دعوت و عزیمت کے مبارک منصب پر فائز ہو کر آپ جہاں بھر کو منور فرما رہے ہیں ۔ مؤرخین نے لکھا ہے کہ آپ کے دست ِ مبارک پر نو(۹) لاکھ افراد نے بیعت کی اور آپ کے خلفاء تقریباً سات ہزار تھے ۔
آپ اپنے ایک مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں:
’’ برادرم ملا حسن علی نے میرے ایک مکتوب بنام عبید اللہ بیگ پر ایک شبہ تحریر کیا ہے اور اس کا جواب مانگا ہے ۔ شبہ یہ ہے کہ حسن و قبیح کا امتیاز مقامِ شریعت میں ہوا کرتا ہے ، چنانچہ انہوں نے ایک رسالہ میں لکھا دیکھا ہے کہ طریقت میں سب سے صلح اور ہر کسی سے دوستی ہوتی ہے بخلاف شریعت کے کہ وہاں دشمنوں سے جنگ اور دوستوں سے صلح ہوتی ہے۔
عجیب واہیات شبہ ہے بھلا طریقت کا شریعت سے کیا تقابل ہے اور ان دونوں میں مساوات کہاں سے آئی ، شریعت تو ایسی قطعی وحی سے ثابت ہوئی ہے جس میں شک و ریب کو بالکل گنجائش نہیں ، اس کے احکام میں فسخ و تبدیلی نہیں ، تا قیامِ قیامت یہ احکام باقی رہیں گے ۔ شریعت کے تقاضا پر عمل کرنا تمام عوام و خواص کیلئے ضروری و لابدی ہے ۔
طریقت کی مجال نہیں کہ وہ شریعت کے احکام کو اٹھادے اور اہل طریقت کو تکالیف ِ شرعیہ سے آزاد کر دے ۔ اہل سنت والجماعت کے عقائد قطعیہ میں سے یہ عقیدہ بھی ہے کہ بندہ بحالت ِ ہوش و حواس ہرگز ایسے درجہ پر نہیں پہنچتا کہ تکالیف شرعیہ اس سے ساقط ہو جائیں ۔ جو اس کے خلاف عقیدہ رکھتا ہے وہ جرگۂ اسلام سے باہر ہے ۔
جس جماعت کو اللہ تعالیٰ اپنا دشمن قرار دے اور غلظت و شدت کا حکم دے اس سے آشتی اور دوستی رکھنا قاعدئہ اسلام سے خارج ہے ، یہ بات اور دعوائے محبت ِ خدارسول ﷺ دونوں ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے ۔ کیونکہ محبوب کی اطاعت اور محبوب کے دوستوں سے دوستی اور اُس کے دشمنوں سے بیزاری لوازمِ محبت سے ہے ‘‘۔
(مکتوبات خواجہ محمد معصوم ، مکتوب نمبر ۷۳، صفحہ ۱۲۱)
جو لوگ تصوف یا صوفی ازم کے نام پر جہاد یا کسی بھی شرعی حکم کا انکار کرتے ہیں اور اُن کی اہمیت کم کرنے کی مذموم کوششیں کرتے ہیں ‘ وہ صحیح اسلامی تصوف سے بالکل نابلد ہیں ۔ یہ گروہِ ملحدین جس طرح اسلام کے دیگر احکام کا مخالف ہے ، اسی طرح تصوف اور صوفیا ء کا بھی دشمن ہے ۔ ’’ صوفی ازم‘‘ کے نام پر یہ مداری نت نئے تماشے دکھا کر جاہل عوام کو تو شاید بے وقوف بنا لیں لیکن اہلِ حق کے خوشہ چین اور اُن کے دامن سے وابستہ لوگ کبھی ان کی ’’ شعبدہ بازیوں ‘‘ میں آنے والے نہیں (ان شاء اللہ تعالیٰ)

تحریر:خواجہ خلیل احمد

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں