تمہاری بہو منحوس ہے‌……

میٹنگ سے فارغ ہونے کے بعد جب میں سٹاف روم میں آکر بیٹھا تو بابا چائے لیکر آگئے بابا ایک ادھیڑ عمر کے بظاہر اول جلول سے نظر آنے والے آدمی ہیں میلا سا کرتا، الجھے ہوئے بال پر اکثر ورکروں کی تضحیک کا نشانہ بھی بنتے جو میں کبھی سُن لیتا تو ورکروں کی خوب کلاس لیتا۔لیکن بات چیت میں بڑے مزے کے ہیں۔اس دن میں نے دماغ کو تھوڑا فریش کرنے کیلیئے ان کو اپنے پاس بٹھا لیا۔ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد وہ خود بتانے لگے:عباس بیٹا! میرا ایک لڑکا تھا جوان!اس کی میں نے شادی کی، شادی کے تین ہفتے بعد کوئی اس کو سڑک پر گولی مار کر چلا گیا۔ مجھ بوڑھے کے ہوتے ہوئے میرے گھر سے جوان جنازہ نکلا۔
لیکن اللہ کی قسم میں نے بین نہ کیا!
حضور ﷺنے منع کیا ہے نا! اس لیئے۔
محلے کی عورتیں آئیں، کہنے لگیں: تیری بہو منحوس ہے، تیرا بیٹا کھا گئی، میں جوان میت سامنے رکھے اس بچی کو دلاسے دیتا رہا، وہ بچی یہ باتیں سن سن کر بہت روتی تھی۔ میں نے اس کو سنبھالا۔عباس بیٹا! میں چاہتا تو ان عورتوں کو دانٹ ڈپٹ کر چپ کرواسکتا تھا۔ لیکن میں نے اس کا دوسرا طریقہ سوچا،میں نے عدت کے بعد اپنے دوسرے بیٹے کی شادی اسی لڑکی سے کی۔آج اس کی شادی کو دس سال ہوگئے ہیں،۔
ماشاء اللہ سے دونوں بہت خوش ہیں، تین بچے بھی ہوئے انکے۔
’’میں اگر منہ سے منع کرتا تو لوگ شاید میرے سامنے نہ بولتے لیکن میرے پیٹھ پیچھے ضرور بولتے، میں نے کر کے دکھایا تو سب کے منہ پر خود بخود تالا لگ گیا۔’’یہ آخری کلمات وہ تھے جو شاید اگر کسی ادیب کے منہ سے ادا ہوتے تو سنہرے بن جاتے۔ لیکن یہ الفاظ ایک چپڑاسی کے تھے۔ جس کا تجربہ اور خیالات شاید ہمارے سامنے کوئی خاص حیثیت نہیں رکھتے۔

تحریر:‌ظہیر عباس

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں