توہین رسالت کے واقعات اور ہمارے رویے (انور میمن)

آج کل نہ صرف سوشل میڈیا بلکہ اخبارات اور ٹی وی جیسے روایتی میڈیا پر مشال خان کے توہین رسالت کے الزام میں قتل کا بہت چرچا ہے۔
اس قتل کی حمایت کرنے والے اور اس کی مذمت کرنے والے، دونوں فریق سوشل میڈیا وغیرہ پر اپنے اپنے موقف کا بھرپور اظہار کر رہے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ‘توہین رسالت کے باوجود فرد کو قتل کا حق نہیں’ اس ایک جملے کے علاوہ دونوں طرف کوئی معقول دلیل نظر نہیں آ رہی۔
قتل کے حامی، مقتول کے سوشل میڈیا پر توہین آمیز گفتگو کے اسکرین شاٹس ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہوئے یہ دلیل دیتے ہیں ایسے معاملات میں ریاست مناسب وقت پر قانونی قدم نہیں اٹھاتی اس لیے آخر میں انفرادی یا اجتماعی مگر عام افراد کے ایکشن کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ ایک حد تک یہ بات درست ہے کہ ایسے معاملات کی شہرت ہونے کے باوجود متعلقہ محکمے یا تو قتل وغیرہ سے پہلے معاملے پر توجہ ہی نہیں دیتے، یا پھر بھینسے وغیرہ کی طرح اگر پکڑتے بھی ہیں تو بھی بات مقدمے یا قانونی کاروائی تک نہیں جاتی اور جلد ہی انہیں چھوڑ دیا جاتا ہے۔
دوسری جانب قتل کے مخالفین کا یہ موقف تو درست ہے کہ یہ کام فرد یا افراد کا نہیں بلکہ ریاست کا ہے۔ اور ویسے بھی یہ آفاقی قانون ہے کہ الزام عائد کرنے، تفتیش کرنے والے، طرفین کا موقف سن کر فیصلہ دینے والے اور فیصلے پر عملدرآمد کرنے والے ادارے یا افراد جب تک مختلف نہیں ہوں گے انصاف ممکن نہیں ہے۔ لیکن جب قتل کے مخالفین قتل کی مذمت تک محدود نہیں رہتے اور توہین کے واقعے ہی کا انکار کرتے ہیں، تو پھر بعض لوگوں کو انفرادی فیصلے کا جواز مل جاتا ہے۔ اور توہین کے واقعے ہی سے انکار کرنے والے بھی کوئی مناسب ثبوت دئے بغیر اپنی بات منوانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مشال خان کے موجودہ معاملے کو دیکھیں تو اس میں مقتول کی توہین آمیز گفتگو کے اسکرین شاٹس کو ہی جعلی کہہ دیا جاتا ہے۔ یقیناً ان کے جعلی ہونے کے امکانات تو ہوتے ہیں، مگر جعلی کہنے والے بھی کوئی ثبوت نہیں دیتے اور بس جعلی جعلی کی رٹ لگاتے ہیں۔
اب ایسے حالات میں جب توہین سے مشتعل ہونے والے افراد کو یقین ہوجاتا ہے کہ ایسے شخص کے خلاف قانونی کاروائی تو دور کی بات ہے، اس کی تفتیش تک نہیں ہونی، تو پھر انہیں انفرادی فیصلے کا جواز مل جاتا ہے۔ ہم انفرادی فیصلے کو کتنا بھی غلط کہیں، ان کا یہ موقف بحرحال درست ہوتا ہے کہ ریاست سے کسی کاروائی کی توقع نہیں۔
موجودہ معاملے کی طرح توہین رسالت پر انفرادی سزا کے تمام واقعات میں خود ہی فیصلہ کرنے اور اس پر خود ہی عمل کرنے والے تو یقیناً قصوروار ہیں، لیکن میرے خیال میں ان کا درجہ دوسرے نمبر کا ہے۔ اصل نمبر ایک قصوروار حکومتی ادارے ہیں۔ توہین رسالت انتہائی گھناؤنا فعل ہے اور اس کی کسی صورت میں اجازت نہیں دی جا سکتی۔ لیکن جب کسی پر یہ سچا یا جھوٹا الزام لگ جائے تو سرکاری اداروں کو پھرتی سے حرکت میں آکر تفتیش کرنی چاہئے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ تفتیش خفیہ نہ ہو بلکہ عوام کو نظر آنا چاہئے کہ مبینہ ملزم کے خلاف توہین کے الزام میں تفتیش کی جارہی ہے۔ پھر اگر ملزم کو سزا نہیں دی جاتی، بلکہ مقدمہ بھی دائر کیے بغیر چھوڑ دیا جاتا ہے، تو اس کی وجوہات یعنی تفتیش کے نتائج سے عوام کو باخبر کرنا بھی انتہائی ضروری ہے، تاکہ لوگوں کو یقین دلایا جا سکے کہ توہین کا الزام غلط تھا اور اس کا ثبوت یہ ہے۔ ثبوت یا وجوہات بتائے بغیر ملزم کو چھوڑ دئے جانے کی صورت میں بہت سے لوگوں کو یہ یقین (سچا یا جھوٹا) ہو جاتا ہے کہ یا تو ملزم سے رشوت لے اسے چھوڑا گیا ہے، یا بیرونی قوتوں کے دباؤ پر۔ جب تک ملزم کو بے گناہ قرار دینے تک کی تفتیش شفاف نہیں ہوگی، اس پر شک ختم نہیں ہوگا، اور انفرادی فیصلے پر اکسانے والے سازشی عناصر کامیاب ہوتے رہیں گے، کیونکہ کچھ لوگ انفرادی فیصلہ کرکے بھی توہین رسالت کے مبینہ ملزم کو قتل کرنا باعث سعادت سمجھتے ہیں۔
اگر ایسے واقعات کو روکنا ہے تو قاتلوں کے ساتھ ساتھ، بروقت حرکت میں نہ آنے والے سرکاری اہلکاروں یا بھینسے کی طرح خاموشی سے حراست میں لے کر خاموشی سے رہا کر دینے والے سرکاری اہلکاروں کو بھی سزا دینی ہوگی۔ اس کے بغیر کتنے بھی قاتلوں کو تختہ دار پر لتکا دیا جائے، یہ رجحان ختم نہیں ہو سکتا۔

تحریر: انور میمن

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں