تھامس ایڈیسن۔۔۔۔جس نے روشن کیا جہان کو

آپ کو ایک بلب ایجاد کرنے سے پہلے ایک ہزار بار ناکامی کا سامنا کرنا پڑا؟‘‘ ایک رپورٹر نے اس سے سوال کیا۔ یہ سن کر وہ مسکرا دیا۔ پھر اس نے پر اعتماد لہجے میں وہ جواب دیا جو تاریخ نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنے سینے میں محفوظ کر لیا۔ اس کا کہنا تھا: ’’مجھے ناکامی کا منہ دیکھنا نہیں پڑا، بلکہ بلب کو آخری اور حتمی شکل ملنے کے لیے ایک ہزار منزلیں درکار تھیں، جو مجھے طے کرنی پڑیں۔‘‘ یہ تھے دنیا کے سب سے بڑے موجد تھامس ایڈیسن، جس نے ایک ہزار سے زیادہ ایجادات کیں۔ یہ بہت بعد کی بات ہے، اصل کہانی کہاں سے شروع ہوتی ہے؟ آئیے! ملاحظہ کرتے ہیں۔

ایڈیسن نے 11 فروری 1847ء کو میلان نامی قصبے میں آنکھ کھولی، جو امریکا کی ریاست او ہایو میں واقع تھا۔ ایڈیسن 7 بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا، لیکن قدرت نے ذہانت کا وافر حصہ عطا کر رکھا تھا۔ اسے چھوٹی موٹی چیزیں بنانے کا بہت شوق تھا۔ رفتہ رفتہ اپنے گھر میں لیبارٹری بنا لی۔ اس میں مختلف قسم کے کیمیکل رکھے ہوئے تھے۔ ان کی بُو سے تنگ آکر اس کی ماں نے منع کیا تو ان کے کہنے پر اس تجربہ گاہ کو ختم کردیا۔ ایڈیسن نے 12 سال کی عمر میں گرینڈ ٹرنک ریلوے پر candy butucher سے بزنس شروع کیا۔ یہاں پر ٹافیاں، ڈرائی فروٹ اور اخبار وغیرہ بیچا کرتا تھا، لیکن اس دوران وہ اپنی تعلیم سے غافل نہ رہا۔ دکان داری کے ساتھ تعلیمی سلسلہ جاری رکھا۔یہ چھوٹی سی دکان متأثر کن آمدنی دینے لگی اور آہستہ آہستہ ایڈیسن کے پاس رقم جمع ہونے لگی۔ پھر ایک مشین خرید لی جو چھاپنے کے کام آتی تھی۔ تین سال بعد اپنا ہی ’’دی ویکلی ہیرالڈ‘‘ اخبار ریل کے ایک خالی ڈبے میں اجازت لے کر اس مشین سے چھاپنا شروع کر دیا۔ اتنی سی عمر میں اس حیران کن کارنامے نے لوگوں کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔
1863ء میںایڈیسن ٹرمیپ ٹیلی گرافر کے طور پرملازمت کرنے لگا۔ اس دوران اسے انٹاریوسمیت مختلف شہروں میں جانا پڑتا تھا۔ ٹیلی گرافر کے لیے جتنی مہارت کی ضرورت تھی اس سے بڑھ کر اپنی صلاحیتوں کو نکھارا۔ یہاں پر تار برقی کی طرف توجہ کی۔یہ چیزوں کی ہیئت پر دن رات غور کرتا۔ اس نے ایک آلہ ایجاد کیا جس سے کسی رکاوٹ کے بغیر دوسری لائن پر بھی پیغامات بھیجے جا سکتے تھے۔ اس کے بعد اس نے ایک چار رخ کا تار ایجاد کیا اور چلتی ہوئی ٹرینوں کو پیغام پہنچانے کا طریقہ بھی دریافت کر لیا۔اس کے بعد بوسٹن میں کام کرنے لگا۔ یہاں بھی اپنی پیشہ ورانہ مہارت میں ترقی اور بہتری کے زیادہ مواقع پائے۔ ملازمت کے ساتھ ساتھ Michael Farady کی کتابیںبھی پڑھنے لگا، جو الیکٹریسٹی سے متعلق لکھی گئی تھیں۔ ایڈیسن ذہین ہونے کے ساتھ محنتی، کام سے کام رکھنے والا اور تخلیق کار بھی تھا۔ 1868ء میں اس نے ووٹ ریکارڈر بنایا۔ اس کے ذریعے اسمبلیوں اور میٹنگ میں ووٹ کی گنتی کی جاتی تھی۔ ایڈیسن یہ دیکھ کر افسردہ ہوا کہ اس کی مارکیٹ میں کوئی مانگ نہیں ہے۔ اس کے بعد ایک پالیسی بنائی کہ وہ کوئی ایسی چیز نہیں بنائے گا، جس کی مارکیٹ میں کوئی طلب نہیں ہے۔ اس کے لیے ایڈیسن نے یہ طریق کار اختیار کیا کہ وہ بازار جاکر لوگوں کی ضروریات کے بارے میں معلومات لیتا اور عوام سے بھی پوچھتا کہ انہیں کن مشکلات کا سامنا ہے اور کون سی چیز ان کے حل کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ اس طرح یہ انسانیت اور قوم کی خدمت کے ساتھ اپنے بزنس کو ترقی کی راہ پر جاری رکھ سکتا تھا۔

ایڈیسن نے مختلف دفاتر میں دیکھا کہ ملازمین کسی دستاویز کی نقول تیار کرتے ہیں تو انہیں بار بار ہاتھ سے لکھنا پڑتا ہے اور اس کے لیے کئی ملازمین رکھنے پڑتے ہیں۔ یہ کسی کمپنی کے لیے اخراجات کا باعث بھی بنتے ہیں۔ ان کا وقت بھی زیادہ صرف ہوتا ہے۔ جب بھی یہ دیکھتا تو سوچتا کہ اس کے لیے وہ کیا کر سکتا ہے۔ وہ کوئی ایسی چیز تیار کرے جو اس جھنجٹ سے چھٹکارا دلائے۔آخرکار ایڈیسن اپنے مشن میں کامیاب ہو گیا۔ جب انسان کسی کام کے لیے فکرمند ہوتا ہے اور اس کے حصول کے لیے تگ و دو بھی کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کے لیے راہیں ہموار کرتے چلے جاتے ہیں۔ ایڈیسن نے اس کے لیے الیکٹرک پین اور پریس 1873 ء میں متعارف کروایا۔ اس سے بہ یک وقت ایک ڈاکومنٹ کی 5 ہزار کاپیاں تیار کی جاسکتی تھیں۔اس عظیم کارنامے نے ایڈیسن کو خوب شہرت بخشی۔

1876ء میں ایڈیسن نے Menlo Park، نیو جرسی میں ایک لیبارٹری کھولی۔ یہاں پر یہ مختلف تجربے کرتا، نت نئی چیزیں بناتا اور ناممکن کو ممکن بنانے کی کوشش کرتا۔ الیکٹرک ڈیوائس بنانے میں مشغول رہتا، بلاضرورت باہر نہ جاتا۔ اس دوران اس کی محنت کا شاہکار الیکٹر لیمپ ایجاد کرنا تھا، جسے آج بلب سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس کی دن رات کی محنت نے پوری دنیا کے لیے روشنی کا سامان کردیا۔ ایڈیسن موجد ہونے کے ساتھ بزنس مین بھی تھا۔ جہاں یہ مختلف چیزیں بنانے میں مصروف رہتا،وہاں ساتھ ساتھ اپنے بزنس کو بھی متوازی لے کر چلتا رہا۔اس نے بہت سارے چھوٹے بزنس شروع کررکھے تھے۔ 1890ء میں ان سب کو ایک چھت کے نیچے اکٹھا کیا جسے ’’جنرل الیکٹرک کمپنی‘‘ کا نام دیا گیا۔

ایڈیسن کا لگایا ہوا پودا آج ایک تنا ور درخت بن چکا ہے۔ اس کا سایہ دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے۔ ہر ایک اس کے پھل سے مستفید ہو رہا ہے۔ ’’GE کمپنی‘‘ مختلف مراحل سے گزرتی ہوئی آج امریکا کی ایک بڑی کمپنی ہے۔یہ دنیا بھر کی سب سے بڑی ڈائنامک کارپوریشن ہے۔ اس کے ملازمین کی تعداد 3 لاکھ 5ہزار ہے۔اس کمپنی کے تحت 9 مختلف ڈپارٹمنٹ متنوع پروڈکٹس بنا رہے ہیں۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں