جنت کی خوشبو، پروفیسرعبد الله بھٹی کا کالم پڑھیں —

وہ شرم و حیا کی پیکر آج پھر التجا لے کر میرے پاس آئی ہو ئی تھی اُس کے چہرے پر سیر ت و کردار کا گلا بی نو ر پھیلا ہوا تھا نر م و نا زک جسم کی ما لک دھان پان سی لڑکی پچھلے کئی دنوں سے میرے پاس آرہی تھی وہ ہر با ر آکر انتظار میں بیٹھ جا تی۔ میں جب اُس کو اشارہ کر تا تو وہ میرے پاس آکر اایک ہی سوا ل کر تی کہ آپ میرے ساتھ میرے گھر کب چلیں گے؟ ‘بے پنا ہ مصروفیت کی وجہ سے میں ہر بار ساتھ جانے سے انکا ر کر دیتا یا ٹا ل دیتا کہ ابھی تو بہت مصروف ہوں جیسے ہی مصروفیت کم ہو گی میں تمہا رے ساتھ جانے کی کو شش کر وں گا۔ میرے بار بار انکار پر بھی وہ شائستہ تبسم کے ساتھ واپس چلی جا تی اگلے دن یا چند دن کے بعد وہ پھر آہنی ارادے کے ساتھ آجا تی، طو یل انتظا ر کے بعد جب میں اُس سے ملتا تو وہ پرا نا تقا ضا دہراتی کہ سر آپ میرے ساتھ کب چلیں گے اور میں ہر بار اُس کو ٹا ل دیتا کہ تنگ آکر وہ خو د ہی آنا بند کر دے گی لیکن وہ کسی بھی صورت ہا ر ماننے کو تیار نہ تھی پتہ نہیں کو ن سا پراسرار راز تھا جو وہ مجھے ہر صورت اپنے ساتھ لے کر اپنے گھر جانا چاہتی تھی۔اُس کی شائستہ مہذب گفتگو ادب و احترام میرے دل و دماغ میں سما تا جا رہا تھا اب میں اُس کی عزت کر نا شروع ہو گیا تھاکیونکہ میرے بار بار انکا رپر بھی اُس کے لہجے میں تلخی نہیں آئی تھی بلکہ وہ ہر بار خندہ پیشانی سے میرے انکا ر کو سنتی اور مسکرا کر کہتی کو ئی بات نہیں سر جب آپ فری ہو ں گے اُس دن آپ میرے ساتھ چلئے گا ۔

آج اُس کا خا وند بھی اُس کے ساتھ آیا ہوا تھا وہ دونوں کافی دیر تک انتظار کر تے رہے آخر کار جب میں اُن سے ملا تو ہمیشہ کی طرح احتراماً کھڑی ہو گئی اور اپنے خاوند کا تعارف کر اتے ہو ئے بو لی سر یہ میرے خا وند ہیں آج یہ گھر پر تھے اِس لیے میرے ساتھ آگئے ۔ کیونکہ میں اِس لڑکی کی شرافت اورشرم و حیا کا قائل ہو چکا تھا اِسلئے تجسس کے ہا تھوں مجبو ر ہو کر اُس کے خاوند سے مخا طب ہوا اور پو چھا آپ دونوں کی ازدواجی زندگی کیسی گزر رہی ہے تو خاوند کے چہرے پر اطمینان کا نور بکھر گیا اُس نے دلنواز تبسم سے اپنی بیوی کو دیکھا اور میری طرف دیکھ کر کہا سر اِس نے میرے گھر کو دنیا میں ہی جنت بنا رکھا ہے۔ میں دنیا کا خو ش قسمت ترین شخص ہوں۔ مجھے آجتک اس سے ایک بھی شکوہ نہیں ہے یہ میری تو قعات سے بھی زیا دہ اچھی اور نیک لڑکی ہے۔ دکھ سکھ زندگی کے مشکل ترین لمحا ت میں بھی اِس نے میرے کندھے کے ساتھ کندھا ملا کر ساتھ دیا ہے۔ میں بہت زیا دہ خوش ہوں اور اللہ تعالی کا شکر ادا کر تا ہوں ہماری آج تک لڑائی نہیں ہوئی۔ میں کبھی غصے میں ہو ں تو یہ مسکرا کر جب دیکھتی ہے تو میرا سارا غصہ ختم ہو جا تا ہے میرے سامنے کر ہ ارض کا سب سے مطمئن خا وند کھڑا اپنی شریک حیات کی تعریفیں کر رہا تھا ، میں نے ہمیشہ خا وندوں کو روتے پیٹتے ہی دیکھا ہے اتنا زیا دہ خوش و خرم خاوند میں شاید پہلی اورآخر ی با ر دیکھ رہا تھا وہ نان سٹاپ اپنی بیوی کی تعریفیں کر رہا تھا ۔ میں خو شگوار حیرت سے دونوں کو دیکھ رہا تھا کہ دنیا جو ما دیت پر ستی اور جانوروں سے بھر چکی ہے جہاں پر انسان انسان نہیں رہا بلکہ ما دیت پر ستی میں غر ق جانور کا روپ دھار چکا ہے اس دور میں کوئی لڑکی کو ہ ہما لیہ کا کر دار بھی ہو سکتی ہے۔

مجھے وہ بہت اچھی لگی اب میں اُس سے متاثر بھی ہو چکا تھا میں بینچ پر اُس کے ساتھ بیٹھ گیا اور بو لا بیٹی آپ کتنے دنوں سے میرے پاس آرہی ہو تم مجھے کیوں لے کر جانا چاہتی ہو تو خا وند بو لا جنا ب جس ہستی کے لیے یہ آپ کے پاس آتی ہے اُس کے لیے یہ اپنی زندگی کی ہر سانس مو ت تک بھی انتظار کر سکتی ہے خدا کے بعد یہ اُس شخص کے حکم کی تعمیل کرتی ہے اُس شخص پر یہ اپنی جان بھی قربان کر سکتی ہے ۔سر آپ تھک جائیں گے لیکن یہ کبھی نہیں تھکے گی یہ روزانہ اُس وقت تک آتی رہے گی جب تک آپ اِس کے ساتھ نہیں جائیں گے۔ میں نے حیران سوالیہ نظروں سے اُس کی طرف دیکھا کو ن ہے وہ جس کے لیے آپ یہاں آتی ہو وہ یہاں کیوں نہیں آسکتے؟ تو وہ عقیدت و احترام کے آخری درجے پر بو لی۔ وہ میرے بابا ہیں جو میرے حقیقی با پ نہیں ہیں لیکن ایسے شخص پر میں اپنے ہزاروں با پ اور اپنی جان قربان کر سکتی ہوں وہ انسان نہیں انسان کے روپ میں فرشتہ ہیں ۔

میر اتجسس بیدار ہو چکا تھا کہ وہ کون شخص ہے جس کا تذکرہ کرتے ہو ئے اِس کے چہرے پر عقیدت و احترام کے سینکڑوں چاند روشن ہو چکے ہیں اِس کے منہ سے پھو ل جھڑ رہے ہیں اُس نے بتا نا شروع کیا۔ میں ماں کے پیٹ میں تھی جب میرا باپ دنیا سے چلا گیا۔ دنیا میں آنے کے بعد میں صرف تین سال کی تھی جب میری ماں بھی مجھے بے رحم زمانے کے ٹھوکروں کے حوا لے کر گئی۔ اب میں اپنی ایک دور کے رشتے دار بیوہ خا تون کے گھر پر آگئی جن کو تنہائی دور کر نے کے لیے کسی کے ساتھ کی ضرورت تھی۔ گردش لیل و نہا ر کا قافلہ چلتا رہا اورمیں پتہ ہی نہ چلا۔ کب بچپن سے جوانی کی دہلیز پر آگئی جس غریب عورت کے گھر میں رہتی تھی وہ پیٹ کی آگ بجھانے اور زندگی کی ضروریات پو ری کر نے کے لیے پرائیویٹ سکو ل میں دائی کا کام کر تی تھی سکول میں وہ بچوں کی دیکھ بھال کرتی اِس خدمت کے بد لے میں اُسے اتنے کم پیسے ملتے کہ سر مشکل سے گزر اوقات ہو جا تی ہما رے گھر میں غربت نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ خدا نے مجھے زندگی میں ہر خو شی آرام سے محروم رکھا لیکن جوا نی اور خو بصورتی ہی میری دشمن بن گئی۔ جس سکول میں میری منہ بو لی ماں جاب کر تی تھی میٹرک کر کے میں وہا ں پڑھا نا شروع ہو گئی اب جب بھی سکول جانے کے لیے گھر سے نکلتی، محلے کے اوباش نو جوان میرے پیچھے پڑ جاتے میں نظریں جھکا ئے گزر جاتی لیکن اب انہوں نے زبر دستی میرا راستہ روکنا شروع کر دیا ایک دن زبردستی مجھے اغوا کر کے گاڑی میں بٹھا نے کی کو شش کی تو میری چیخ و پکا رپر محلے والے اکھٹے ہو گئے اہل محلہ اُن اوباش لڑکوں کی حر کتوں سے بخو بی واقف تھے، اِس لیے سب نے رات کو پنچائیت بٹھا ئی، لڑکوں اُور اُن کے والدین کو بلا یا لڑکے اب بھی بد معاشی پر اُتر ے ہو ئے تھے وہ جانتے تھے کہ ہما را کو ئی نہیں ہے‘ جب اہل محلہ نے لڑکوں کو ڈانٹا تو اور غصے میں آگئے کہ ہم اِس کو اغوا کر یں گے دیکھتے ہیں کو ن ہم کو روکتا ہے تو میرا بابا جو اس پنچائیت میں تھا، کھڑا ہوا اور کہا آج سے یہ لڑکی میری بیٹی ہے میں اُس کے سر پر ہا تھ رکھتا ہوں آج کے بعد جس کا ہا تھ بھی اِس کی طرف بڑھے گا میں وہ کا ٹ دوں گا۔

اس کے بعد میرا بابامیرے گھر آیا اور میرے سر پر ہا تھ رکھ دیا کہ آج سے تم میری بیٹی ہو اور پھر مجھے اپنے گھر لے گیا چند برسوں بعد بڑی دھوم دھا م سے میری شادی کر دی۔ مجھے سگی بیٹیوں سے بھی زیا دہ پیار کیا آج میراباپ بیما ر ہے وہ یہاں نہیں آسکتا آپ پلیز میرے ساتھ چلیں لڑکی کی داستان غم سن کر میری آنکھیں اُس کے غم میں بو لنے لگیں اور میں ٹشو پیپر ڈھونڈنے لگا۔اس کے بعد میں اُسی وقت اُن دونوں کے ساتھ اُس فرشتہ نما انسان کے گھر پر چل پڑا۔ سارے راستے بیٹی اُس عظیم انسان کی محبت پیار شفقت کے روح کو چھو نے والے واقعات سنا تی رہی اور میں زندہ ولی نما انسان کو ملنے کے لیے بے تاب ہو رہا تھا۔ آخر ہم اُس کے گھر میں داخل ہوگئے جہاں وہ بو ڑھا عظیم انسان فالج کے مرض میں بیڈ پر لیٹا ہوا تھا۔ بڑھا پے اور فالج نے اُس کو بستر پر ڈال دیا تھا۔ میں آرام سے اُس فرشتہ نما انسان کے پاس بیٹھ گیا جو گہری نظروں سے میری طرف دیکھ رہا تھا اُس کی آنکھوں سے پھوٹنے والی نو ری کر نیں مجھے سر شاری سے ہمکنا رکر رہی تھیں میرے سامنے زند ہ ولی تھا جس نے ایک یتیم بے آسرا لڑکی کے سر پر ہا تھ رکھ کر خو د کو جنتی بنا لیا تھا میں نے عقیدت سے اُس جنتی ہا تھ کو پکڑا اور جنت کی خو شبو سے اپنے مشام جان کو معطر کر نے لگا پھر میں نے اُس ہا تھ کو اپنے سر پر رکھ لیا اور میری آنکھوں سے عقیدت کے مو تی جھڑنے لگے ۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں