جنسی ادویات کی بھرمار اور ہمارے معاشرتی رویے

تھوڑی دیر پہلے کچھ پڑھنے کا دل کر رہا تھا تو آن لائن ویب سائٹ دیکھتے ہوئے مختلف اردو اخبارات کے گزشتہ شمارے کے سنڈے میگزین کھول لیئے جن میں ہندوستانی ماڈلز کے ہیجان انگیز فوٹو شوٹ کے ساتھ ساتھ جو چیز تقریبا” سارے ہی جریدوں کے میگزینز میں مشترک تھی وہ مردانہ جنسی کمزوری کے لیے ادویات کے اشتہار تھے جنھیں پڑھ کر ایسے لگتا ہے کہ جیسے پاکستانی مردوں کو ” سیکس ” کے علاوہ نہ تو کوئی اور کام ہے اور نہ ہی کوئی اور بیماری –

اگر آپ ان میگزینز میں اشتہارات دیکھیں تو آپکو کچھ ایسا پڑھنے کو ملے گا ” اصلی نسخہ خاص کستوری والا ، شکتی پراش ( سلاجیت اورزعفران سمیت مختلف جڑی بوٹیوں کا مرکب جو ١٨ سال سے ٧٠ سال تک کے تمام مردوں کی کمزوری دور کرنے کا دعویدار ہے ) جوھر سفر جل ( جسکے پیش کرنے والوں کا دعویٰ ہے کہ اسکے استعمال سے بوڑھے مرد جواں ہو جاتے ہیں اور اسکی ایک خوراک کھانے سے ہی بھرپور توانائی پیدا ہو جاتی ہے ) سلور سلاجیٹی کورس و طلا ٢١ رتن شاہی کے ایک ایک ماہ کے کورس پیش کرنے والے کہتے ہیں کہ انکے ان نسخوں کے استعمال سے نامرد بھی مرد بن جاتے ہیں ، اسکے علاوہ پچکے گالوں ، کمزور جسم اور دیگر اعضاء کی نشونما اور پوشیدہ امراض کے لیے اگر کسی کو نسخے چاہیئے ہوں تو اسکے لیے حکماء و دوا خانوں کے علاوہ ھومیوں پیتھک ڈاکٹروں کے نمبر بھی دیئے گئے ہیں –

رہی بات آن لائن ویب سائٹز کی تو ان پر تو خیر مردوں کے لیے ایسے ایسے تحفے آن لائن فروحت کے لیے پیش کیئے گئے ہیں جنھیں اگر ١٠٠ سالہ بابے بھی دیکھ لیں تو انکا بھی من ڈولنے لگے ، مثلا” ، چائنہ کی پاور فلی اپ و یو ایس کی وگرا گولیاں ، شارک ٤٨٠٠ سپرے ، میکس مین جیل اور چائنیز ہاربل آئل جیسی کئی ادویات ہیں – ان ادویات کے علاوہ باڈی بلڈنگ کی بہت ساری ایسی ادویات ہیں جنکے استعمال سے جنسی طاقت بڑھنے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے – تمام ہی اخباری نسخوں اور ویب سائٹز پر موجود ادویات کی قیمت تقریبا” ٢ ہزار روپے سے لے کر ٥ ہزار روپے تک لکھی گئی ہے –

اب اگرکسی صاحب اختیار سے میگزینز میں موجود ان مضر صحت اشتہارات کی اشاعت کا پوچھا جائے تو اس کا مختصر جواب یہ ہو گا کہ ” تمام اشتہارات نیک نیتی و کاروباری نقطہ نظر سے شائع کیئے جاتے ہیں ، لہذا ان ادویات کی خرید و فروحت اور استعمال کرنے والا خود ذمہ دار ہو گا ” میں جانتا ہوں کہ ہمارا محکمہ صحت ایکسپائر ادویات کی ٹیمپر کی گئی معیاد کو بھی قابل قبول سمجھتا ہے ، ہمارے ہاں ڈاکٹر انسانوں کو جانوروں والے ٹیکے لگاتے بھی پکڑے گئے ہیں اور ہمارے ہی گردے چوری کر کے فروحت کرنے ، دل کے مریضوں کو پلاسٹ کی سٹڈ ڈالنے ، انجیکشنز میں پانی ملا کر مریض کو لگانے اور حتیٰ کے زندہ انسانوں کا خون تک چوری کرنے میں ملوث پائے گئے ہیں – مگر اس سب کے باوجود مجھے پوچھنا یہ تھا کہ کیا میڈیکل سٹوروں پر چھاپے مارنے والے ڈرگ انسپکٹر اور محکمہ صحت کے اہلکار صرف دوکانوں پر ہی فروحت ہونے والی جعلی ادویات کو پکڑنے ، انکی مارکیٹ میں آمد کو روکنے کے پابند ہیں یا اساخباری و آن لائن جعلی کاروبار کو بھی روکنا انکی ذمہ داری ہے ؟؟

پاکستان اس وقت جنسی ادویات کے سمگلروں کے لیے ایک بڑی مارکیٹ بن چکا ہے – ایرانی ، ہندوستانی اور چائینز ادویات بغیر کسی میڈیکل سپیشلسٹ ڈاکٹر کی تجویز کے مارکیٹ میں باآسانی دستیاب ہیں – 2015-16 کی ایک رپورٹ کے مطابق اندازآ اس وقت پاکستان میں سالانہ ٨ بلین امریکی ڈالرز کی جعلی ادویات فروحت ہو رہی ہیں – ہمارے ہاں معاشرتی اقدار کے نام پر کچھ غیر فطری ری ایکشنز دیکھنے کو ملتے ہیں ، مثلا” اگر کسی مرد یا خاتون نے خواتین کے لیے ” زریں جامے ” خریدنے ہوں بیچنے والا انہیں ایسے لپیٹ کر گاہک کے حوالے کرتا کہ وہ جیسے کپڑوں کے بجائے ایٹم بم کا فارمولا ہوں ، اگر کسی دوکان یا میڈیکل سٹور سے جائز استعمال کے لیئے ” کنڈومز ” بھی لیئے جائیں تو دوکاندار کی نظریں شاکی ہوتی ہیں ، اب ان حالات کے ہوتے ہوئے یقینا” وطن عزیز میں ” سیکس ” پر سر عام بات کرنا آسان نہیں ہو سکتا –

پاکستان میں ” سیکس ایجوکیشن ” کے حوالے سے شاید جو ایک بہترین کتاب لکھی گئی تھی وہ ڈاکٹر مبین اختر کی تھی جسے نہ صرف اشاعت کے لیے مشکلات کا شکار ہونا پڑا بلکہ اسکے بچنے کے لیے بھی کوئی دوکاندار تیار نہ تھا – ڈاکٹر مبین اختر ماہر نفسیات ہیں انہوں نے شاید بی بی سی کو دیئے جانے والے اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ ” ماہرِ نفسیات کے طور پر میں نے خود ان نتائج کو قریب سے دیکھا ہے اور یہی وجہ ہے کہ میں نے یہ کتاب لکھنے کے بارے میں سوچا – سیکس کو لے کر ہمارے ملک میں ایک بہت بڑا مسئلہ ہے ، نوجوان بچے باالخصوص لڑکے جب بالغ ہوتے ہیں اور ان کے جسم میں جو تبدیلیاں ہوتی ہیں انہیں لگتا ہے وہ کوئی بیماری ہے ، میں نے ایسے معاملات دیکھے ہیں جس میں نوجوانوں کو یہ نہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کے جسم کے ساتھ کیا ہورہا ہے تو وہ بہت مایوس ہوجاتے ہیں اور حد ہے کہ وہ خودکشی بھی کرلیتے ہیں – میں خود عمر کے اس مرحلے سے گزرا ہوں جب آپ کو آپ کی جنسی تبدیلوں کے بارے میں کوئی کچھ نہیں بتاتا – ان غلط فہمیوں کے بارے میں مجھے تب معلوم ہوا جب میں خود میڈیکل کالج تعلیم حاصل کرنے گیا ” –

وطن عزیز میں ” سیکس ” کی ادویات کا استعمال نوجوان نسل میں ایک نشے کی طرح سراہیت کر چکا ہے جسکے بیچنے والے اپنے مفاد کی خاطر کبھی بھی انکے مضر صحت ہونے کا نہیں بتائیں گئے – اپنے ارد گرد موت کے ان سوداگروں کو بے نقاب کرکے اپنے حصے کا کام کریں –

( تحریر میں ادویات کے نام صرف مثال دینے کے لیئے لکھے گئے ہیں کسی قسم کی تشہیر مقصود نہیں ) –

تحریر: الیاس بابر محمد

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں