حسینیت کے تقاضے اور ہماری منافقت

حسین زندہ ہیں مگر ہمارے کرادر میں حسینیت مر چکی ہے۔یزید مر کھپ گیا مگر ہمارے رویوں میں آج بھی یزیدیت چھلکتی ہے۔ہم اہل کوفہ سے بڑھ کر منافق امت ہیں۔ایک سے بڑھ کر ایک تحریر ،شعر در شعر،تقاریر،دلائل دعوے سب الفاظ کا جادو ہیں۔عملی طور پر ہم میں سے کوئی ایک بھی فلسفہ کرب و بلا کی ابجد کو اپنانے سے قاصر ہے۔جس نظریہ خلافت و ملوکیت پر آل رسول نے اپنا سب کچھ قربان کردیا ہم آج اسی نظریئے کے مخالف ہیں۔

اسلام کے کسی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والا شخص امام حسین علیہ اسلام سے محبت اور عقیدت کا دعویدار تو ہے لیکن اپنے دینی اور دنیاوی معاملات میں کہیں بھی وہ حسینی نظر نہیں آتا۔کہیں مسلک کی مجبوری،کہیں لسانی بندش،کہیں خاندانی رکاوٹ،کہیں سیاسی وابستگی کا ڈھونگ ہر بندہ چھوٹے چھوٹے یزیدوں کا یرغمال ہے۔انفرادی اور اجتماعی طور پر حق اور باطل کا بنیادی فرق ہی ختم ہو کر رہ گیا ہے۔کلمہ حق کی ادائیگی اور اس پر ڈٹ کر کھڑے ہوجانا اور پھر اسکے لیے اپنی جان مال اولاد کو قربان کرنے کی سنت حسینی بھی معدوم ہوگئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:واقعہ کربلا کا پیغام اور سبق

یوم عاشور اب ایک تہوار کی حیثیت سے منایا جاتا ہے۔جس میں نمود نمائش اور مسلکی رنگ تو نظر آتا ہے لیکن فکر حسین سے لیکر شہادت علی اصغر تک اور بی بی زینب کے کلمہ حق کی ادائیگی تک کربلا کے باسیوں کی قربانیوں کی تاثیر سے ہم سب مسلمان نابلد ہوچکے ہیں۔محرم کے کالے کپڑوں میں سوگ تو کب کا جزب ہوکر ختم ہوچکا ہاں سیاہ دل ،کالے اعمال انا اور تکبر اس لباس میں خوب جھلکتا ہے۔کیا اہل تشیع کیا اہل سنت کیا آج کی نوجوان ماڈرن نسل سب کے سب لیلن،کاٹن،اور لون کے سیاہ برانڈڈ لباس کے شوقین ہیں۔رہی سہی کسر سوشل میڈیا نے پوری کردی ہے بیس دیگیں بریانی،پچاس دیگیں دلیم اور دودھ شربت کی سبیلیں یہ سب پہلے کار ثواب تھا اب کار تشہر ہیں۔میں سوچتا ہوں کس منہ سے ہم یوم حشر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت اور جنت میں نواسہ رسول کے ساتھ کے طلبگار ہیں۔نہ ہمارا ایمان کامل اور نہ ہی اہل بیت سے محبت خالص۔تو کس بنیاد پر ہم حیسنیت کے علمبردار ہیں کس دلیل پر و جاء الحق وزھق الباطل کے منتظر ہیں؟؟

تحریر:‌راجہ شفقت محمود

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں