حکیم محمد سعید شہید

حکیم محمد سعید شہید سے میرا تعارف تب ہوا جب میرے والد صاحب نے ہماری لائبریری کا ایک حصہ ان کا نام سے مختص کر دیا۔۔۔میں نے اس سے پہلے کبھی ان کا نام نہیں سنا تھا اس لیے کوئی “نیم حکیم” سمجھ کر والد صاحب سے اختلاف کیا کہ اس حصہ کو “صلاح الدین ایوبی” کے نام سے مختص کیا جائے۔۔۔اگلے دن والد صاحب نے حکیم صاحب کی مختلف موضوعات پر کتابوں کا سیٹ لائبریری میں آکر رکھا اور ہمدرد رسالہ لگوا دیا جس کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ خدمتِ خلق کی مثالیں دینے کے لیے ہمیں نیلسن منڈیلا یا مدر ٹریسا کی ضرورت نہیں بلکہ پاکستان میں بھی ایسی عظیم ہستیاں گزری ہیں جن کے کردار سے ہم ناواقف ہیں۔۔۔
17 اکتوبر1998
جب سپیدہ سحر پوری طرح نمودار بھی نہیں ہوا تھا۔۔۔ حکیم محمد سعید اپنی سفید گاڑی میں اپنے آرام باغ میں واقع اپنے مطب پہنچے۔ گاڑی سے اترے اوراپنی ٹوپی اپنے ایک معاون کے ہاتھ میں دی اور مطب کی طرف بڑھنے لگے ۔۔۔۔اسی دوران نیم اندھیرے میں آتشیں ہتھیاروں نے شعلے اُگلے اور کئی گولیاں حکیم سعید کے جسم میں پیوست ہوگئیں۔۔۔۔ پھر دنیا نے یہ دلخراش منظر بھی دیکھاکہ لاکھوں لوگوں کا علاج کرنے والے مسیحا کی لاش ایک گھنٹے تک سڑک پر پڑی رہی۔۔۔
شہید حکیم محمد سعید طبیب، ادیب، سائنس سے آپ کو دلچسپی، صنعتکار اور سیاستدان تھے۔۔۔وہ 1920 میں دہلی میں پیدا ہوئے، ہوش سنبھالتے ہی بڑے بھائی کے ساتھ مل کے اپنے والد کے ادارے” ہمدرد” کی ترقی کے لیے سخت محنت کی۔۔۔قیام پاکستان تک “ہمدرد” ایشیا میں طبی ادویہ کا دوسرا بڑا ادارہ بن چکا تھا۔۔۔اب وقت تھا کہ وہ باقی ماندہ زندگی سکون سے اپنی محنت کا ثمر حاصل کرتے لیکن انہوں نے عیش و آرام کی زندگی کو خیر باد کہتے ہوئے کراچی کا رخ کیا۔۔۔دہلی میں پیکارڈ کار پر سفر کرنے والے حکیم محمد سعید نے اپنے ساتھ لائی ہوئی روح افزا اور گرائپ واٹر کی شیشیاں بیچنے کے لئے شہر کا چپہ چپہ چھان مارا، یہاں تک کہ ان کے جوتوں میں سوراخ ہوگئے۔۔۔آخر کار پچاس روپے مہینہ پر ایک دکان اور ساڑھے بارہ روپے ماہانہ پر فرنیچر کرائے پر لے کراپنے کام کا آغاز کیا۔ پھر ناظم آباد میں المجید سینٹر کی بنیاد ڈالی جس نے ہمدرد فاونڈیشن کی راہ ہموار کی اور حکیم محمد سعید نے اس ادارے کو بھی خدمتِ کے لیے باقاعدہ وقف کردیا۔ ۔۔۔
ان کا ایک مشہور قول ہے کہ”بچوں کو عظیم بنا دو، پاکستان خود بخود بڑا ہو ہوجائے گا”
انہوں نے بچوں کی تربیت کے لئے رسالہ ہمدرد نونہال جاری کیا اور بزمِ نونہال کے ہزاروں پروگرامز کے ذریعے ان کی اصلاح اور تربیت کا سامان کیا۔ ساتھ ہی ہمدرد نونہال ادب کے پلیٹ فارم سے سینکڑوں کتابیں شائع کیں ۔۔۔
گزرتے وقت کے ساتھ ہی حکیم محمد سعید کے دل میں علم و حکمت کے فروغ کی تڑپ بڑھتی رہی اوروہ جنون میں بدل گئی۔۔۔۔ نصف صدی سے زیادہ پر محیط اپنی عملی اور جہدِ مسلسل پر مبنی زندگی میں دو سو سے زاید تصانیف تحریر کیں۔۔۔۔ ریسرچ پیپرز اور بین الاقوامی کانفرنسز میں شرکت کی۔۔۔کراچی میں مدینتہ الحکمت نامی منصوبہ بھی اسی دیوانگی کا نتیجہ ہے جہاں آج بیت الحکمت کے نام سے ایک بہت بڑی لائبریری، یونیورسٹی ، کالجز، اسکول اور دیگر اہم ادارے قائم ہیں۔۔۔
بزمِ ہمدرد نونہال، ہمدر د شوریٰ، شامِ ہمدرد اور ہمدرد نونہال اسمبلی جیسے ماہانہ پروگراموں میں ممتاز عالموں ، علمائے سائنس ، ادیبوں اور دانشوروں کو مدعو کرکے نہ صرف ان کی حوصلہ افزائی کی بلکہ ان کے فکری نظریات کو عام آدمی تک بھی پہنچایا۔۔۔۔
کہتے ہیں کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔۔اس فرشتہ صفت انسان سے یہ جرم ہوا کہ میاں نواز شریف کے اصرار پر گورنر سندھ کا عہدہ قبول کر لیا ۔۔اس دوران بھی انہوں نے فلاحی کاموں کا سلسلہ جاری رکھا اور صرف اڑھائی سال کے قلیل دورِ اقتدار میں انہوں نے چار یونیورسٹیز کی منظوری دی۔۔گورنری کے دوران بھی وہ معمول کے مطابق مریضوں کا علاج کرتے رہے۔۔۔حکیم صاحب نے پوری دنیا میں کوئی ذاتی جائیداد نہیں بنائی‘ ان کا اربوں روپے کا ادارہ ہمدرد پاکستان کے نام وقف ہے۔۔۔۔سیاست میں رہنے کے باوجود وہ ہمیشہ بے باک اور اصولوں کے پابند رہے۔۔۔یہی وجہ تھی کہ انہیں کئی دفعہ دھمکی آمیز پیغامات موصول ہوئے جس پر ان کے رفقاء نے انہیں اپنے رویے میں لچک پیدا کرنے کی درخواست کی لیکن ان کا جواب تھا کہ “میں نہیں بولوں گا تو کون بولے گا؟”
حکیم محمد سعید جب شہید ہوئے تب روزے کی حالت میں تھے۔۔۔ان کے قتل کے الزام میں ایم کیو ایم کے کارکنان کو گرفتار کیا گیا لیکن صرف دو سال بعد گورنر سندھ عشرت العباد کے دباؤ پر انہیں رہا کر دیا گیا۔۔۔لیکن انٹیلی جنس بیورو کے سابق ڈائریکٹر کرنل (ر) اقبال نیازی نے ایک دفعہ انکشاف کیا تھا کہ حکیم صاحب کے قتل میں ایجنسیوں کا ہاتھ تھا۔۔۔لیکن قاتل جو چاہے جو بھی ہوں، آج انیس سال گزر جانے کے باوجود بھی وہ آزاد ہیں۔۔۔ احسان فراموشی شاید اس قوم کی فطرت میں شامل ہے۔۔۔ حکیم صاحب کی روح سے شرمندہ ہیں۔۔۔ایسا الیکٹرونک میڈیا جہاں کسی فلمسٹار کو چھینک آجانے پر پرائم ٹائم نکال دیے جاتے ہیں وہاں آج ان کی برسی پر کسی ٹی وی چینل پر ان کے متعلق پروگرام مجھے نظر نہیں آیا۔۔۔کسی نصابی کتاب میں اس شخصیت کو جگہ نہیں مل پائی، لیکن ہاں، یہ شخصیت ہمارے دلوں میں زندہ ہے۔۔۔کیاان خدمات کے صلہ میں واقعی یہ کافی ہے؟؟

تحریر: سعد الرحمٰن ملک

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں