خدانخواستہ تاریخ‌اپنے آپ کو دہرائے گیِ؟ (جاوید صدیق)

عموماً کہا جاتا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ کم از کم پاکستان میں تو تاریخ یقیناً اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ماضی کی دو حکومتیں 1990-93 ءاور پھر 1997-99 ءکی دونوں حکومتیں فوج کے ساتھ غلط فہمیوں اور محاذ آرائی کی وجہ سے اقتدار میں اپنی آئینی مدت پوری نہ کر سکیں۔ وزیراعظم نواز شریف کی تیسری حکومت گزشتہ چار برس میں تو فوج سے محاذ آرائی سے گریز کی پالیسی پر چلتی رہی ہے۔ جنرل مشرف کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ چلانے کا نواز شریف حکومت نے جو فیصلہ کیا تھا وہ بھی فوج کی طرف سے ایک طرح کی مزاحمت کی وجہ سے اپنے منطقی انجام کو پہنچتا نظر نہیں آ رہا۔ کئی دوسرے معاملات پر بھی نواز شریف کی تیسری حکومت فوج کے ساتھ کشمکش سے بچنے کی کوشش کرتی چلی آ رہی ہے۔ لیکن یوں لگتا ہے کہ ڈان لیکس کے معاملے پر حکومت اور فوج ایک دوسرے کے مدمقابل آ گئے ہیں۔ ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی نواز شریف حکومت اپنے آپ کو فوج سے تصادم سے نہیں بچا سکی۔ 1990 ءمیں جب نواز شریف پہلی مرتبہ وزیراعظم بنے تو انہیں پیپلز پارٹی کے مقابلے میں فوج کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ اس وقت فوج کے سربراہ جنرل اسلم بیگ تھے۔ اور ملک کے صدر غلام اسحاق خان تھے۔ 1990 ءمیں عراق نے کویت پر حملہ کر دیا۔ اس حملہ سے خلیج کی جنگ شروع ہوئی۔ جس میں سعودی عرب ‘ پاکستان اور خلیج کے ممالک اور امریکہ ایک طرف تھے۔ سعودی عرب اور خلیج کے ملکوں کی درخواست پر نواز شریف حکومت نے فوج سعودی عرب بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ پاکستان نے امریکہ اور سعودی عرب کے دباو کے تحت فوج تو بھیجی لیکن بڑی تاخیر سے۔ پاکستان کو خلیج کی پہلی جنگ میں فوج سعودی عرب بھیجنے کا کوئی مالی فائدہ بھی نہ ہوا۔ جنرل اسلم بیگ اور وزیراعظم نواز شریف کے درمیان اس معاملے پر غلط فہمی پیدا ہو گئی تھی۔یہ غلط فہمی اس نہج تک پہنچ گئی کہ سول حکومت کو خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ اس کو فارغ کر دیا جائے گا۔ اس ماحول میں وزیراعظم نواز شریف نے صدر غلام اسحاق خان سے درخواست کی وہ جنرل اسلم بیگ کے جانشین کو نامزد کر دیں تاکہ جنرل اسلم بیگ ان کے خلاف کوئی ایکشن نہ کر سکیں۔ حکومت فوج کویت کے دفاع کے لئے بھیجنا چاہتی تھی لیکن جنرل اسلم بیگ نے اچانک پاکستان آرڈیننس فیکٹری میں ایک تقریر کر ڈالی۔ یہ خاکسار اس تقریر کی کوریج کے لئے پی او ایف میں موجود تھا۔ جنرل اسلم بیگ نے اپنی تقریر میں STRATEGIC DEFIANCE کا ایک نظریہ پیش کیا۔ جنرل بیگ کا خیال تھا کہ پاکستان افغانستان اور عراق مل کر ایک ایسا اتحاد بنا سکتے ہیں جو امریکہ کے لئے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ جنرل بیگ کی اس تقریر پر امریکہ‘ سعودی عرب اور خلیج کے ممالک پریشان ہو گئے۔ نواز شریف حکومت کے لئے بھی مشکلات پیدا ہو گئیں۔ صدر غلام اسحاق خان اور وزیراعظم نوازشریف دونوں ایک پیج پر تھے۔ صدر اسحاق نے جنرل بیگ کی ریٹائرمنٹ سے تین ماہ قبل جنرل آصف نواز جنجوعہ کو نیا آرمی چیف نامزد کرنے کا اعلان کر دیا۔
جنرل آصف نواز کے وزیراعظم نواز شریف کے درمیان ابتدا میں تو بڑی انڈرسٹینڈنگ تھی لیکن جب 1992 ءمیں نواز شریف حکومت نے کراچی میں امن وا مان کو بہتر بنانے کے لئے فوجی آپریشن شروع کیا تو دونوں میں انڈرسٹینڈنگ برقرار نہ رہ سکی۔ جنرل آصف نواز کراچی کے کور کمانڈر رہ چکے تھے۔ بطور کور کمانڈر وہ الطاف حسین کی قیادت میں ایم کیو ایم کی سرگرمیوں سے واقف تھے۔ ایم کیو ایم ان دنوں سیاسی مخالفین کو قتل کر دیتی تھی۔ پی پی پی کے کئی کارکن ایم کیو ایم کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے۔ پی پی پی اور ایم کیو ایم ایکدوسرے کے کارکنوں کو اغواءکر کے انہیں ٹارچر بھی کرتے تھے۔ جنرل آصف نواز نے کور کمانڈر کے طور پر ایک مرتبہ کراچی کور ہیڈ کوارٹر میں پی پی پی اور ایم کیو ایم کو بلا کر دونوں طرف سے اغواءکئے گئے کارکن بھی ایک دوسرے کے سپرد کرائے تھے۔
جب نواز شریف حکومت نے 1992 ءمیں کراچی اور سندھ میں آپریشن شروع کیا تو فوج نے ایم کیو ایم کے خلاف ایکشن لیا اور ان کے سینکڑوں کارکن گرفتار کرلئے۔ایم کیو ایم وفاق میں مسلم لیگ (ن) کی اتحادی تھی ایم کیو ایم نے اس آپریشن پر احتجاج کیا تو چودھری نثار علی خان جو اس وقت پٹرولیم کے وزیر تھے اور پنجاب کے وزیراعلیٰ غلام حیدر وائیں نے کراچی آپریشن پر تنقید کی اور کہا کہ یہ آپریشن غیر منصفانہ ہے۔ اس خاکسار کو اچھی طرح یاد ہے کہ آرمی چیف جنرل آصف نواز چار جولائی کو امریکہ کے یوم آزادی پر امریکی سفارت خانہ میں موجود تھے۔جب صحافیوں نے جن میں راقم بھی موجود تھا جنرل آصف نواز سے پوچھا کہ وفاقی وزیر چودھری نثار علی خان اور پنجاب کے وزیراعلی نے اپنے بیانات میں کراچی میں فوجی آپریشن کو غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔ جس پر آرمی چیف نے بڑے جذباتی انداز میں ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ فوج سے زیادہ محب وطن کون ہوسکتا ہے۔ آپریشن بالکل درست سمت میں جارہا ہے۔جنرل آصف نواز کا ردعمل اخباروں میں لیڈ سٹوری کے طور پر شائع ہوا۔ اگلے روز حکومت نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا کہ مسلح افواج کے سربراہ حکومت کی اجازت کے بغیر کسی سفارتی تقریب میں شرکت نہیں کریں گے۔اتفاق سے امریکی یوم آزادی کی تقریب کے چند روز بعد ایک اور سفارتی تقریب تھی جس میں آرمی چیف کے علاوہ فضائیہ اور بحریہ کے سربراہ شریک ہوئے تھے۔اس طرح حکومتی نوٹیفیکیشن دھرے کا دھرا رہ گیا تھا۔ نوازشریف حکومت اور فوج کے درمیان باقاعدہ آویزش کا آغاز ہوگیا۔یہ اعلانات گردش کرنے لگی تھیں کہ فوج کسی وقت مارشل لاءلگا دے گی۔ جنرل آصف نواز اچانک دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہوگئے ان کے جانشین جنرل وحید کاکڑ اور وزیراعظم نوازشریف بھی ایک صفحے پر نہ آسکے۔ فوج نے صدر اسحاق خان پر دباو ڈال کر اسمبلیاں تحلیل کرا دیں اور نوازشریف کی حکومت کو گھر بھیج دیاگیا۔سپریم کورٹ نے نوازشریف حکومت بحال بھی کردی لیکن یہ حکومت چل نہ سکی۔ سیاسی بحرن بڑھتا گیا۔ فوج نے مداخلت کرکے اکتوبر 1993ءمیں نئے انتخابات کروا دئیے نوازشریف اپوزیشن لیڈر بن گئے۔
1997ءسے 1999ءتک کی مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے جنرل جہانگیر کرامت کے ساتھ تعلقات اچھے تھے لیکن جنرل جہانگیر کرامت کے ایک بیان سے یہ تعلقات بگڑ گئے اور ان سے وزیراعظم نے استعفیٰ لے لیا۔جنرل پرویز مشرف کو نیا آرمی چیف بنایا گیا لیکن فوج اور سول حکومت کے درمیان زیادہ عرصہ تعلقات اچھے نہ رہ سکے۔ کارگل ہوا اور پھر اکتوبر 1999ءمیں فوج نے حکومت کا تختہ الٹ دیا۔
2013ءمیں مسلم لیگ (ن) کی تیسری حکومت کا اقتدار ملا۔ گزشتہ چارسال تو اچھے گزر گئے لیکن آخری سال میں ڈان لیکس کے معاملے پر فوج اور حکومت میں ہم آہنگی نظر نہیں آرہی۔فوج کے مطالبہ پر حکومت نے ڈان میں شائع ہونے والی خبر کے پیچھے افراد کا پتہ چلانے کے لئے ایک تحقیقاتی کمیٹی مقرر کی۔ جس نے اپنی رپورٹ حال ہی میں وزیراعظم کو پیش کی۔ اس رپورٹ کے بعد وزیراعظم کے امور خارجہ کے مشیر طارق فاطمی کو عہدہ سے ہٹا دیا گیا ہے اور پرنسپل انفارمیشن آفیسر راو تحسین علی خان ناکردہ گناہ کی پاداش میں رگڑے میں آگئے ہیں۔ وزیراعظم ہاوس سے ڈان لیکس کے بارے میں جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن کو آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل کے ٹویٹ کے ذریعہ نوٹیفیکشن کو مسترد کر دیا ہے۔ کیونکہ یہ تحقیقات کے بعد دی گئی سفارشات کے مطابق نہیں۔ اس ٹویٹ نے حکومت اور فوج کو ایک دوسرے کے سامنے لاکھڑا کیا۔ وزیر داخلہ نے آئی ایس پی آر کے سربراہ کے ٹویٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ایک اورٹویٹ میں وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا سامنے آیا ہے جس میں کہاگیا ہے کہ آئین کی خلاف ورزی معمول کی بات ہے۔ جنرل مشرف کا کسی نے کیا بگاڑ لیا ہے۔ حکومت اور فوج ایک دوسرے کے پھر سامنے کھڑی ہیں۔ خدانخواستہ تاریخ اپنے آپ کو دہرائے گی تو نہیں!۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں