داتا دربار کی شہرت محکمہ صحت کی شہرت

داتا دربار اللہ کی ہدایت پر داتا جی سے محبت کرنے والے لوگوں نے بنایا۔ ایسا کوئی دربار پاکستان میں نہیں ہے اس کے علاوہ صرف بابا فرید کے مرقد شریف کا نام لیا جا سکتا ہے مگر دربار وہ بھی نہیں ہے۔ دربار ایک ہی ہے داتا دربار۔ اسی لئے اب حکمرانوں نے اپنے اقتدار کے مراکز کو دربار کہنا چھوڑ دیا ہے۔ دربار بادشاہوں کے ہوتے تھے۔ آج کل کے حکمران بادشاہ نہیں ہیں۔ دل کے بہت چھوٹے ہیں۔ ثابت ہوا کہ پاکستان میں دربار ایک ہی ہے اور وہ داتا دربار ہے۔
میں نے سینکڑوں میل کا پیدل سفر کرتے ہوئے لوگوں کو ایک خاص روحانی مستی میں داتا دربار جاتے ہوئے دیکھا۔ میری خوش قسمتی کہ میرے پیارے عشق رسولؐ میں ڈوبے اور اولیاء اللہ سے محبت میں سرشار داتا صاحب کے خاص معتقد اور مرید ابا جان محمد کریم داد خان نے مجھے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل کرایا۔ اس کے ساتھ رہائش کے لئے نیو ہوسٹل میں جگہ ملی تو فرمایا کہ ہر روز داتا دربار حاضری دینا۔ پھر جب تک ہم گورنمنٹ کالج کے نیو ہوسٹل میں رہے روزانہ حاضری دیتے تھے اس طرح حاضری حضوری بن گئی۔
پھر حالات ہمیں لاہور سے دور لے گئے اور ہم داتا صاحب کی جدائی میں مبتلا رہے۔ ہمارے لئے اور لہوریوں کے لئے لاہور ’’داتا نگری‘‘ ہے۔
پھر یوں ہوا کہ محکمہ اوقاف کا ڈائریکٹر جنرل ایک دل والا شخص بہت بڑے روحانی خانوادے کا چشم و چراغ علم و برکات کا امین ڈاکٹر طاہر رضا بخاری مقرر ہو گیا۔ ایک نئے زمانے کا آغاز ہوا۔ یہاں داتا صاحب کے دو معتقد خاص عارف سیالوی اور رمضان سیالوی بھی ہیں وہ دونوں میرے پیر بھائی بھی ہیں۔ داتا دربار میں لوگ اپنے دل کی آرزوئیں نچھاور کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے داتا صاحب کے سائے میں داتا دربار کے سارے فیوضات و برکات کو جمع کرکے ایک داتا مرکز بنا دیا ہے جہاں روحانی تشنگی کی فیض یابی ہوتی ہے اور علمی حوالے سے بھی لوگ اپنی مذہبی ضرورتوں کو پورا کرتے ہیں۔
یہاں سیمینار ہوتے ہیں۔ محافل ہوتی ہیں۔ مجلسیں منعقد کی جاتی ہیں۔ طلبہ اور لوگ آتے ہیں۔ سیراب و شاداب ہوتے ہیں۔ روحانی طور پر کامران و کامیاب ہوتے ہیں۔ ہر سال بچوں کو اپنی کارکردگی کی بنیاد پر اسناد اور سرٹیفکیٹ پیش کئے جاتے ہیں۔ مسجد داتا دربار ہی داتا مرکز سمجھ لیجئے۔ یہاں شیشے کی دیواروں کے پار آواز تو نہیں جاتی مگر نگاہیں پابندیوں کے سارے سلیقے پار کرکے سیدھی دربار پہنچ جاتی ہیں۔
یہاں کھڑے ہو کر بات کرنے کا اعزاز تو بے مثال ہے مگر اس اعزاز کے راز سے صرف وہی واقف ہوتا ہے جسے یہ اعزاز ملتا ہے۔ میں بھی یہاں مہمان خاص کے طور پر حاضر ہوا۔ یہاں پر بندہ داتا صاحب کا خاص مرید ہوتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ اعزاز داتا صاحب کی اجازت سے دیا جاتا ہے۔ اس بار برادرم زعیم قادری مہمان خاص تھے۔ زعیم قادری ایک بہادر اور اچھے سیاستدان ہوتے ہوئے ایک دل والے انسان ہیں اور محبتیں تقسیم کرنے کے بادشاہ ہیں۔ میں نے مہمان خصوصی نہیں کہا کہ خاص اور خصوصی میں ایک فرق ہے جو صرف داتا صاحب سے محبت کرنے والے جانتے ہیں۔ میں برادرم ڈاکٹر طاہر رضا بخاری کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے میرے جیسے آلودہ اور فرسودہ آدمی کو اس دربار میں پسندیدہ آدمی بنا دیا۔ خدا مجھے داتا دربار کے خاص آدمیوں کے قدموں کی خاک کے ذرے کے برابر بنا دے۔
میں آج اپنے بھائی ڈاکٹر طاہر رضا بخاری کی اجازت سے ایک اعلان کرنے والا ہوں کہ لاہور میں رہنے والا ہر شخص داتا صاحب کا مرید ہے اور روحانی طور پر ان کی بیعت کر چکا ہے۔ لاہور میں رہنا اصل میں داتا دربار کی شہریت اختیار کرنا ہے۔
آج میں نے اپنی بیٹی امیرہ حسان کے ذکر سے محکمہ صحت کا حال بھی بیان کیا ہے۔ یہ دونوں باتیں اتفاقاً اکٹھی ہو گئی ہیں۔ اب محکمہ صحت کی طرف سے داتا دربار کوئی خصوصی حاضری ہونا چاہئے۔ داتا دربار کی شہریت کے ساتھ محکمہ صحت کی شہرت کا لفظ کس خوبصورت معنویت کے ساتھ آیا ہے۔ یہ بات میرے دل میں پہلے آئی ہے۔
ایک اچھی خبر محکمہ صحت کی طرف سے آئی ہے۔ شاندار شخصیت کے بہت اہل اور اہل دل پروفیسر ڈاکٹر راشد ضیاء علامہ اقبال میڈیکل کالج کے پرنسپل ہو گئے ہیں۔ اس میں ہماری بہت قابل اور منتظم بیٹی امیرہ حسان کا بہت کردار ہے۔ وہ محکمہ صحت میں ڈپٹی سیکرٹری ہیں۔ انہوں نے ایسی پالیسی بنائی ہے کہ اچھے اور اچھے دل والے قابل اور مخلص لوگ اچھی پوسٹوں پر لگائے جائیں تاکہ نظام بہتر ہو۔ اس حوالے سے پہلی پوسٹنگ پروفیسر ڈاکٹر راشد ضیا کی ہے اور یہ اچھی ابتدا ہے۔ لوگ خوش ہیں اور ہم بھی بہت زیادہ خوش ہونے والے لوگوں میں سے ہیں۔
راقم الحروف اور صوفیہ بیدار کو کئی بار مختلف تقریبات میں راشد ضیاء نے بلایا اور ہم نے دوسرے کالجوں کی نسبت بہت زیادہ انجوائے کیا۔
ڈاکٹر راشد ضیاء بہت قابل اپنی ذات میں مست رہنے والے خاموش طبع مگر بہت کام کرنے والے ہیں۔ خاموشی سے ساری معرکہ آرائی کرتے ہیں۔ کبھی ڈھنڈورا نہیں پیٹتے۔ وہ کچھ دیر یہاں پرنسپل رہے تو علامہ اقبال میڈیکل کالج اور جناح ہسپتال کی تاریخ بدل جائے گی۔ بہت قابل اور باصلاحیت بیٹی امیرہ حسان ڈپٹی سیکرٹری ہیلتھ ہیں ان کے شوہر پارلیمانی سیکرٹری ہیلتھ ہیں۔ امید ہے کہ اب محکمہ صحت میں بھی کچھ فرق پڑے گا۔ ان دونوں کو صوفیہ بیدار کی تخلیقی رہنمائی بھی حاصل ہے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں