داماد رسول صلی الله علیہ والہ وسلم کی طرف سے قیامت تک کے مسلمانوں کے لیئے وقف کیا گیا بئر رومہ کا

مدینہ منورہ میں واقع ” بئرِ رومہ” کا جو ” بئرِ عثمان “کے نام سے مشہور ہے – 14 سو برس پہلے دامادِ رسول اور خلیفہ سوم حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اس کنوئیں کو خرید کر قیامت تک کے لیے مسلمانوں کے واسطے وقف کر دیا تھا۔
اس کنوئیں کے پانی سے آج بھی ملحقہ باغِ عثمان کو سیراب کیا جاتا ہے۔ یہ باغ سعودی وزارت زراعت کے زیرِ نگرانی ہے جس کی وجہ سے انتہائی اہمیت کے حامل ہونے کے باوجود زائرین کو اس مقام میں داخل ہونے میں دشواری پیش آتی ہے۔

قصہ بئر رومہ

“بئرِ رومہ ” ایک صحابی کی ملکیت میں تھا جن کا نام ” رومہ الغفاری رضی اللہ عنہ” تھا وہ اس کنوئیں کا پانی فروخت کیا کرتے تھے – ایک مرتبہ رسول صلى الله عليه وسلم نے اُن سے فرمایا کہ ” کیا تم اس کنوئیں کو جنت کے چشمے کے بدلے فروخت کرو گے”۔ انہوں نے جواب دیا یا رسول اللہ میرے پاس اس کے سوا کوئی کنواں ہے نہیں لہذا میں ایسا نہیں کر سکتا۔

اس پر حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے 35 ہزار درہم کے عوض اس کنوئیں کو خرید لیا۔ اس کے بعد اللہ کے نبی صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر پوچھا کہ اگر میں اس کنوئیں کو خرید لوں تو کیا میرے لیے بھی جنت کے چشمے کی وہ ہی پیش کش ہو گی جو آپ نے رومہ کو فرمائی تھی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا ” ہاں” .. اس پر حضرت عثمان نے کہا “میں اس کو مسلمانوں کے واسطے خرید چکا ہوں”۔

عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے نام سے وقف

اس طرح کی بہت سے باتیں مشہور ہیں کہ کئی لوگوں نے مدینہ منورہ میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے نام سے مختلف چیزوں کو وقف کر رکھا ہے جن میں ایک ہوٹل اور ایک بینک اکاؤنٹ شامل ہے۔ اس حوالے سے سیرت نبوی اور مدینہ منورہ کے آثاریات کے محقق عبداللہ کابر نے واضح کیا کہ صحابی ِ رسول عثمان بن عفان کے لیے وقف کی نسبت میں معلومات کا خلط ملط ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حضرت عثمان نے ” بئرِ رومہ” کو تمام مسلمانوں کے واسطے روزِ قیامت تک وقف کر دیا-

بینک میں حضرت عثمان بن عفان کے نام سے اکاؤنٹ کے حوالے سے مختلف باتیں کی جاتی ہیں وہ دراصل ایسا ہے کہ مسجد نبوی شریف کی مشرقی سمت حضرت عثمان کا ایک گھر موجود ہے۔ اس گھر کے پڑوس میں ایک سرائے بھی تھی جو “رباط العجم” کے نام سے معروف تھی۔ اس وقف کے مالکان نے یہ پسند کیا کہ اسے ” وقف سیدنا عثمان بن عفان” کا نام دے دیا جائے کیوں کہ یہ سرائے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کے پڑوس میں تھی –

جب سعودی دور میں دوسری توسیع ہوئی تو اس دوران حرمِ نبوی کی مشرقی سمت یہ عمارتیں ختم کر دی گئیں۔ اس موقع پر زرِ تلافی کا بینک میں وقفِ عثمان بن عفان کے نام سے اندراج کیا گیا۔ بینک کے ملازمین یہ گمان کر بیٹھے کہ مذکورہ سرائے کے زرِ تلافی کے طور پر اکاؤنٹ میں جمع کرائی گئی کروڑوں کی رقم وقف عثمان (بئرِ رومہ) کے واسطے ہے – عبداللہ کابر نے مزید بتایا کہ کنواں اب بھی موجود ہے اور وہاں سے ابھی تک میٹھا پانی حاصل ہوتا ہے۔ اس کے گرد کھجوروں کا باغ اور ایک فارم بھی ہے –

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں