’دبلے افراد کو بھی فربہ افراد کی طرح دل کے دورے کے خطرات‘

ایک تازہ تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسے دبلے افراد جو زیادہ وقت بیٹھے رہتے ہیں، ان میں بھی فربہ اور موٹاپے کے شکار افراد کی طرح دل کے عارضے اور اسٹروک جیسے مسائل کا خطرہ رہتا ہے
محققین کے مطابق اس مطالعے میں عام وزن کے حامل افراد پر توجہ مرکوز کی گئی، جو دن کا زیادہ تر وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں، تاہم ہفتہ وار بنیادوں پر ورزش کے لیے مختص کم از کم ہدف یعنی 150 منٹ پر توجہ بھی دیتے ہیں۔ محققین کے کہنا ہے کہ اس معتدل ورزش کرنے مگر دن کا زیادہ تر حصہ بیٹھ کر گزارنے والے عام وزن کے حامل افراد میں موٹے افراد کے مقابلے میں دل کے دورے کے خطرات 58 فیصد کم دیکھے گئے ہیں۔ تاہم عمومی وزن کے حامل ایسے افراد جو ورزش بالکل نہیں کرتے یا انتہائی کم ورزش کرتے ہیں، ان میں عارضہ قلب کے خدشات موٹاپے کے شکار افراد سے مختلف نہیں دیکھے گئے۔

کرسمس کی شام احتیاط، دل کا دورہ بھی پڑ سکتا ہے

دل کے دورے کے بعد ورزش فائدہ مند

اس تحقیقی رپورٹ کے مصنف اور یونیورسٹی آف فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے آرچ مائینوس کے مطابق، ’’عام وزن کا حامل ہونا، صحت مندی کے لیے کافی نہیں ہے۔‘‘

انہوں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا، ’’عام وزن کے حامل افراد کو یہ بتانا ضروری ہے کہ انہیں ورزش کرنا ہے، کیوں کہ دوسری صورت میں وہ صحت مندی کے ایک جھوٹے احساس سے وابستہ ہو کر نقصان اٹھا سکتے ہیں۔‘‘

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں