دریائے ستلج میں پانی کی بندش کو دور کرنے کے لیے متبادل نہری نظام وضع کیا جائے،پروفیسر مدحت کامل

بہاولپور(ڈسٹرکٹ رپورٹر)بہاول پور زرعی لحاظ سے زرخیز خطہ ہے جس کی فصلوں کا بنیادی انحصار آبپاشی پر ہے۔دریائے ستلج میں پانی نہ ہونے کے باعث کسان متبادل آبی ذرائع استعمال کرنے پر مجبور ہیں جس سے فصل کی پیدواری لاگت بڑھ چکی ہے۔تریموں اسلام لنک کینال کی بحالی سے بہاول پور کی نہروں میں پانی کی قلت کو دور کیا جاسکتا ہے۔ان خیالات کا اظہارکوآرڈینیٹرای ایگریکلچر بہاول پور پروفیسر ڈاکٹر مدحت کامل حسین نے زرعی ماہرین پروفیسر ڈاکٹر فہیم خان، محمد سلیم شاہ اور سعد الرحمٰن ملک سے اپنی رہائش گاہ پرملاقات کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ نواب سر صادق خان عباسی نے اپنے دور حکمرانی میں چولستان کی بنجر زمینوں کو ستلج ویلی پراجیکٹ کے ذریعے نخلستانوں میں تبدیل کر دیا لیکن اب دریائے ستلج میں پانی کی بندش سے اس کے دونوں اطراف پر موجود علاقے بنجر ہوچکے ہیں۔ماضی میں تریموں اسلام لنک کینال ہیڈ اسلام سے نکلنے والی نہروں کو پانی فراہم کرتی تھی جس سے زرعی مقاصد کے لیے پانی وافر مقدار میں دستیاب تھا۔سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کو متبادل آبی ذرائع کی تعمیر کے لیے چھتیس ارب روپے دیے گئے جس سے متبادل نہریں تعمیر کی گئیں لیکن دریائے ستلج کو پانی کی فراہمی کے لیے تاحال نہری نظام وضع نہیں کیا جاسکا۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دریائے ستلج میں پانی کی بندش کو دور کرنے کے لیے فی الفور متبادل نہری نظام وضع کیا جائے تاکہ زرعی لحاظ سے خطہ کو مستحکم کیا جاسکے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں