دریائے ستلج کا نوحہ

تحریر:راجہ شفقت محمود

بہاول پور وادئ ستلج کا تاریخی شہر اور پاکستان کو استحکام بخشنے والی ریاست ۔جس کے نوابین اور عوام نے پاکستان کی محبت میں اپنا اقتدار،صدیوں کی حکومت اور جاہ جلال قربان کردیا تھا۔جس نے نوزائیدہ مملکت پاکستان کو اپنے منہ کا نوالہ دیکر جوان کیا۔آج یہاں کے باسی پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔جسکی وجہ دریائے ستلج کے پانی کی بندش ہے۔بہاولپور مون سون ریجن کی حدود میں نہیں ہے جسکی وجہ سے یہاں بارشیں نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ جسکی وجہ سے یہاں کی زراعت کافی پسماندہ تھی اور زیر زمین پانی کافی گہرا اور پینے کے قابل نہیں تھا۔اس مسئلے کے حل کےلیے نواب اف بہاولپور سر صادق پنجم عباسی نے 1929 میں ستلج ویلی پراجیکٹ کا آغاز کیا۔جس کے لیے اس وقت انگریز حکومت سے قرض لے کر دریائے ستلج پر تین ہیڈ ورکس سلیمانکی، ہیڈ اسلام، اور ہیڈ پنجند تعمیر کیے گئے ۔ان ہیڈ ورکس سے نہریں نکال کر پورے بہاولپور ڈویژن کو سیراب کیا گیا۔جسکی بدولت روائیتی اور غیر روایتی فصلوں کی کاشت کی گئی اپر پنجاب اور ہندوستان سے آئے ہوئے کاشتکاروں کو سستی زمینیں دے کر اس خطے میں زراعت کو فروغ دیا گیا ۔ستلج ویلی منصوبہ اس علاقے کے لوگوں کے لیے نعمت غیر متبرکہ ثابت ہوا۔زرعی ترقی کے اثرات لوگوں اور اس خطے پر کافی خوشگوار مرتب ہوئے ۔معاشی خوشحالی کیساتھ ساتھ زیر زمین پانی کی سطح بلند ہوگئی اور پینے کاپانی بھی بہتر ہوگیا۔امیر ریاست کے تدبر اور مستقبل بینی کا شاہکار یہ منصوبہ پوری دنیا میں اپنی مثال آپ تھا ۔ مذکورہ قرض کی میعاد 1996 تک تھی ۔جو کہ نواب صاحب نے 1956 میں ادا کردیا۔وقت سے پہلے قرض کی ادائیگی اس بات کی آئنہ دار تھی کہ س مجھتلج ویلی منصوبہ کامیابی سے ہمکنار ہوا اور پانی کی فراہمی اور فروانی سے اہلیان بہاولپور نے ترقی کا سفر تیز رفتاری سے طے کیا۔

یہ خوشحالی اور ترقی اس وقت زوال پزیر ہوئی جب جنرل ایوب خان نے سندھ طاس معاہدہ کیا۔دنیا کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا یہ انوکھا اور غیر فطری معاہدہ اہلیان پاکستان اور اہلیان بہاولپور کے لیے زہر قاتل ثابت ہوا۔سندھ طاس معاہدے کی رو سے ستلج راوی بیاس پر ہندوستان کا حق پاکستان نے تسلیم کیا اسکے بدلی سندھ چناب اور جہلم کا پانی پاکستان کو دیا گیا اور محدود استعمال کی شرط کیساتھ یہ معاہدہ عالمی بینک کی ضمانت کیساتھ کیا گیا۔حکومت پاکستان نے منگلا اور تربیلا ڈیم بنائے اور وہاں کے متاثرین کو یورپ اور برطانیہ کے ویزے دلوا کر معاشی مفادات دیئے گئے جبکہ راوی کے علاقے میں صنعتیں لگا کر زراعت کے بدلے یہاں کے لوگوں کے معاشی مستقبل کو محفوظ کیا گیا جبکہ دریائے ستلج کے متاثرہ علاقے کے لیے کوئی اسکیم جاری نہ کی گئی سندھ طاس معاہدے کی رو سے ہیڈ تریموں سے نہرنکال کر اسکا پانی دریائے ستلج میں ڈال کر یہاں پانی کی فراہمی کو جاری رکھنا تھا لیکن اس شق پر آج تک عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ایوب خان جو کہ بارانی علاقے کا رہنے والا تھا اسے بہاولپور کے جغرافیائی اور موسمی حالات کا بالکل بھی اندازہ نہیں تھا اسکے غیر دانشمندانہ فیصلے اور جسٹس منیر جو کہ واٹر کمیشن کا انچارج تھا کی ہندوستان سے ملی بھگت کی وجہ سے دریائے ستلج کا سرا پانی انڈیا کو دے دیا گیا۔جو کہ سندھ طاس معاہدے مین تھا ہی نہیں ۔اس سے یہاں کی زراعت، معیشت،معاشرت اور لوگوں کا۔معیار زندگی انتہائی متاثر ہوا۔چولستان میں ٹیل کی نہروں سے ملحقہ رقبے ابھی تک غیر آباد ہیں بڑھتی ہوئی آبادی نے زرعی رقبوں کو ختم کردیا ہے۔یہاں کے لوگوں کے لیے کاشتکاری ہی واحد زریعہ معاش ہے لیکن روز بروز کم ہوتی زرعی پیداوار ،زرعی اجناس کی کم قیمتیں اور ٹیوب ویلوں کے مہنگے پانی سے تیار ہونے والی فصلیں یہاں کے لوگوں کی ضروریات زندگی کو کم سے کم تر کر رہی ہیں ۔نیز اس علاقے کو نہ تو ٹیکس فری زون قرار دیا گیا ہے کہ یہاں کے لوگ صنعتوں کی طرف مائل ہوں اور نہ ہی حکومت نے زراعت کی ترقی کے لیےکوئی خاطر خواہ انتظامات کئے ۔

بہاولپور پنجاب کا آخری ڈویژن اور زرعی علاقہ ہے جو سندھ طاس معاہدے کی وجہ سے پسماندگی کا۔شکار ہے۔ہندوستان کی چناب اور جہلم پر آبی جارحیت کی وجہ سے اور سندھیوں کی دریائے سندھ پر سیاست کی وجہ سے جنوبی پنجاب اور خاص طور پر بہاولپور نہری پانی کی کمی کی وجہ سے شدید بدحالی کا شکار ہیں ۔ اگر حکومت جنوبی پنجاب اور بہاول پور کے باسیوں کو سندھ طاس معاہدے کی تباہ کاریوں سے نہیں بچاتی تو معاشی بحران شدید ہو جائے گا۔اس پورے علاقے کے زیر زمین پانی میں نامیاتی مادوں اور سنکھیا کی بڑھتی ہوئی مقدار سے ہیپا ٹائٹس، جگر، گردے اور دیگر امراض تیزی سے بڑھ رہے ہیں ۔زیر زمین پانی جو کہ بیس پچیس فٹ پر تھا اب دو سو پچاس فٹ پر چلا گیا ہے۔ بہاولپور کی زرعی اجناس میں گندم، کپاس، اور گنا قابل ذکر ہیں لیکن مارکیٹ میں کم ریٹ ہونے کی وجہ سے یہاں کے کاشتکار سود، قرض، اور بدحالی میں جکڑے ہوئے ہیں ۔یہاں کسی دور میں چاول کی بہترین اقسام کاشت ہوتی تھیں۔لیکن اب یہاں چاول کی پیداوار نہ ہونے کے برابر ہے۔اور جہاں کہیں چاول کی کاشت ہورہی ہے وہ ٹیوب ویل کے پانی سے ہورہی ہے۔چولستان کے لوگ سال میں صرف ایک فصل سرسوں یا رایا کاشت کرتے ہیں اور اسکا انحصار بھی نہری پانی پر ہے جو کہ کبھی کبھار ہی آتا ہے۔اس سال روہی کی سینکڑوں ایکڑ زمین پر نہری پانی کے نہ ہونے کی وجہ سے سرسوں اور رایا کی فصل کاشت نہیں کی جاسکی۔جس سے چولستانی زمیندار شدید متاثر ہوگا۔ ۔ششماہی نہروں کی وجہ سے کاشتکاری کا مستقبل سوالیہ نشان ہے۔اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ بہاولپور ریجن کی۔سب نہریں سالانہ ہونی چاہیئے ۔بہاولپور کے حصے کا پورا پانی بروقت دیا جائے ۔غیر آئنی پانی کی بندش بند کی جائے ۔ہندوستان کبھی بھی سندھ طاس معاہدے کی شرائط پر عمل نہیں کریگا اور آبی جارحیت کرتا رہیگا اس لیے حکومت پاکستان یا تو سندھ معاہدہ ختم کرے یا اہل بہاولپور کے لیے خصوصی اقدامات کرکے نہری پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے دریائے ستلج میں دوبارہ پانی چلایا جائے ۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں