دل دکھتا ہے

دل دکھتا ہے

آباد گھروں سے دور کہیں

جب بنجر بن میں آگ جلے

دل دکھتا ہے

پردیس کی بوجھل راہوں میں

جب شام ڈھلے

دل دکھتا ہے

جب رات کا قاتل سناٹا

پر ہول فضا کے وہم لیے

قدموں کی چاپ کے ساتھ چلے

دل دکھتا ہے

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں