” رمضان المبارک ” الله تعالیٰ کی طرف سے ممکنہ آخری موقع ، تحریر الیاس بابر محمد

الحمد للہ ، الله رب العزت کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ایک بار پھراس مہینے کو ہماری زندگی میں لایا جس میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ، جہنم کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں ، شیطان جکڑ دیئے جاتے ہیں ، نیکیوں کا اجروثواب دوکنا کر دیا جاتا ہے ، جس کی راتوں میں پکارنے والوں کی پکار سن لی جاتی ہے ، کسی کو خالی دامن نہیں لٹایا جاتا اور ان ہی راتوں میں ایک رات ایسی بھی آتی ہے جسے ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا گیا ہے ،اگر یوں کہیں تو غلط نہ ہو گا کہ یہ وہ مہینہ ہے جس میں روزہ ، تلاوت ، صدقات وخیرات ، قیام ، دعا واستغفار، مخلوق خدا پر احسان اور رحم جیسی نیکیوں پرمشتمل موسم بہار کی آمد ہے –

کتنے لوگ جو گذشتہ سال ہمارے ساتھ روزے میں شریک تھے آج قبرمیں مدفون ہیں، کتنے چہرے جنہیں ہم نے گذشتہ سال رمضان میں صحیح سلامت دیکھا تھا ،آج بسترِ مرگ پر پڑے موت وحیات کے بیچ ہچکولے کھارہے ہیں – کیاخبرکہ آنے والا رمضان ہماری زندگی کا آخری رمضان ہو ، اس لیے آنے والے مہینے کا خیروخوبی سے استقبال کریں – ہمارے اوپر طلوع ہونے والارمضان کا چاند خیروبرکت کاچاند ہو ، اسے دیکھ کر ہمارا دل جذبہ اشتیاق سے امڈ آئے، ہماری زبان گویاہو” اللھم ا ھلہ علینا بالا من والایمان والسلامة والاسلام ربی وربک اللہ ” –

اس ماہ مبارک میں ہم اپنی زندگی ، صحت اورجوانی میں فرصت کو غنیمت جانتے ہوئے اپنے سارے گناہوں سے توبہ کریں- معاشرتی روابط کو مستحکم کرلیں اوریہ عزم کرلیں کہ آپ اپنی زبان کی حفاظت کریں گے ، گالي گلوچ ، بدکلامی ، لڑائی جھگڑے اورچغل خوری سے دور رہیں گے ، نیکی اور بھلائی کے کاموں میں پیش پیش رہیں گے اورکسی انسان کو ایذا نہ پہنچائیں گے –

یقین کریں الله تعالیٰ کو ہمارے بھوکے پیاسے رہنے سے کوئی سروکار نہیں ، اسکی عبادت تو اس کائنات کا زرہ زرہ ہر وقت ہر لمحے کرتا ہے ، مگر الله تعالیٰ نے ماہ صیام کو ہماری زندگی میں لا کر ہمارے لئے اس ریاضت کا سبب پیدا کر دیا ہے جو ہمیں صبر ، حوصلہ ، جدوجہد ، اتباع ، احسان ، برداشت ، بردباری اور حلم جیسے لفظوں کی عملی مشق کا باعث ہو گا –

اس ماہ مقدس کی حقیقی روح کو پانے کے لئے اپنے شب روز کے نظام العمل میں کچھ تبدیلی لانی ضروری ہے، اعمال کے ساتھ ساتھ معاملات کو درست اور احسن طریقے سے نبھایا جائے ، جو معاشرتی برائیاں اس ماہ مقدس کے توسط سے ختم ہو سکتی ہیں ان پر توجہ دی جائے –

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں