رمضان المبارک میں طلاق نہ دی جائے ، نیا آرڈر جاری

فلسطینی اتھارٹی کے زیر کنٹرول علاقے رام الله میں اتوارکے روز فلسطینی اسلامی عدالتوں کے سربراہ محمود حبش نے ماتحت ججوں کے لیئے آرڈر جاری کیا ہے کہ رمضان المبارک میں سائلین کی طرف سے دائر کیئے گئے کسی بھی کیس میں طلاق کا فیصلہ نہ دیا جائے –

قاضی القضاء کا کہنا تھا کہ روزے کے لمبے دورانیئے اور گرمی کی وجہ سے ایسے سخت الفاظ ادا ہو جانے کے امکانات بڑھ گے ہیں جو بعد میں باعث ندامت ہو سکتے ہیں –

محمود حبش کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ آرڈر اپنے پچھلے سالوں کے تجربے کی روشنی میں جاری کیا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ صبح سے شام تک سگریٹ نوشی سے دور رہنا بعض لوگوں کی فسٹریشن بڑھا دیتا ہے ، لہجوں کی تلخی ، زبان میں سختی پیدا کر دیتا ہے اور بھوک اور نشے کی وجہ سے قوت فیصلہ متاثر ہو سکتی ہے جس سے طلاقیں ممکن ہو سکتی ہیں –

فلسطینی اتھارٹی کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں 2015 میں 50،000 شادیوں ہوئیں لیکن 8،000 سے زیادہ طلاقوں کے کیس بھی درج کیے گئے-
فلسطینی اتھارٹی کے علاقوں میں کوئی سول عدالت شادی یا طلاق نہیں کروا سکتی ، یہ اختیارات صرف مذہبی عدالتوں کوہی حاصل ہیں –

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں