رمضان کی آمد…..چند تقاضے

اللہ تعالیٰ رمضان کو ہم سب کے لیے مبارک بنائے، اور ہم سب کو خوب برکتیں ، رحمتیں اور بخشش عطا فرمائے۔ رمضان المبارک کو قیمتی بنانے کے لیے اسے کیسے گزارا جائے ؟ کن اعمال کی کثرت کی جائے ؟ کن چیزوں سے بچا جائے؟ کا تذکرہ ضروری ہے۔

ادب،احتیاط اور عاجزی سے رہیں :
رمضان المبارک کے دن بھی بابرکت ہیں، اور اس کی راتیں بھی پُر نور ہیں، اور اس کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہے۔ اس لیے اس مہینے کے داخل ہوتے ہی ایمان والوں پر ایک ، خاص کیفیت طاری ہو جاتی ہے___ ادب ،عاجزی اور احتیاط کی کیفیت۔ ایسانہیں ہوتا کہ روزہ افطار کرتے ہی نفس کا جن بوتل سے باہر آ جائے ، اور گناہ کی زندگی شروع ہوجائے۔
انسان کا نفسِ امارہ اور شیطان اس کو الٹی راہ پر ڈالتا ہے۔ رمضان المبارک کا اصل مقصد ہے قربانی، یعنی کم کھانا ، کم پینا ، کم سونا، زیادہ مال خرچ کرنا، اللہ کی راہ میں خوب جدوجہد کرنا۔ اب شیطان نے انسانوں کو سکھا دیا ہے کہ رمضان المبارک کا مطلب ہے : خوب کھانا کہ پیٹ پھول جائے، خوب پینا کہ پیٹ پھٹنے لگے، خوب سونا کہ بستر بھی تنگ آ جائے ۔

کچھ کام بڑھا دیں:
رمضان المبارک میں عام دنوں سے زیادہ عبادات میں محنت کرنی چاہیے، اور محنت وہ ہوتی ہے جو انسان کو تھکاتی ہے۔ رمضان المبارک کے پہلے لمحے سے لے کر آخری دن سورج غروب ہونے تک ، محنت کا یہ سلسلہ جاری رہے۔ چنانچہ فوراً یہ کام بڑھا دینے چاہییں:
٭ نماز : یعنی فرائض وواجبات کا خوب اہتمام ، اور نوافل کی کثرت۔ رمضان المبارک میں تراویح بہت بڑی نعمت ہے۔ تہجد کا بھر پور اہتمام کیا جائے۔
٭ تلاوت : روزانہ کم از کم تین پارے اور زیادہ جس قدر ممکن ہو نیز قرآن کا فہم اور اس سے ہدایت حاصل کی جائے۔
٭ صدقات: خوب سخاوت کی جائے، خوب مال خرچ کیا جائے۔ بالخصوص ان مسلمانوں تک افطار اور کھانا پہنچایا جائے، جو اپنے گھروں سے محروم ہجرت پر مجبور ہیں۔
٭ جہاد : رمضان المبارک جہاد کا مہینہ ہے۔ غزوئہ بدر اسی مہینے میں پیش آیا۔ اس لیے غزوئہ بدرکی ہر یاد تازہ کرنی چاہیے: جان کی قربانی ،مال کی قربانی ، جہاد کی دعوت۔
٭ آخرت کی فکر : اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے ۔ یہ فکر اور عقیدہ انسان کی اصلاح کے لیے لازمی ہے۔ اس کا زیادہ سے زیادہ محاسبہ اور تذکرہ کیا جائے تو فضول کام کرنے، مال جمع کرنے، اور اس دنیا کی خاطر ذلیل ہونے کے عذاب سے نجات مل جائے گی۔

کچھ کام ترک کر دیں
٭ بد نظری : اپنی آنکھوں کی خوب خوب حفاظت کرنی چاہیے ، ورنہ رمضان المبارک کانور حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔
٭ لغویات :کوشش کرکے ٹی وی کو مہینہ بھر بند کردینے کی مشق کریں اور دیگر لغو کاموں سے بچیں۔
٭ مذموم مجلسیں:جن مجالس میں بے حیائی، غیبت اور جھوٹ کا چلن ہو، ان کو ترک کردیں۔

چند کام کم کردیں
٭ کھانا ،پینا، سونا ،جائز لذت حاصل کرنا، گفتگو کرنا کم کر دیں۔
روزانہ کا سوال روزانہ بلاناغہ : دو رکعت نماز صلوٰۃ الحاجات پڑھ کر دعا کیا کریں : یا اللہ ! اس رمضان المبارک کوہمارے لیے رحمت ، مغفرت ، جہنم سے نجات اور عافیت والا مہینہ بنا دے۔ ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما، جن پر تیرا فضل ہے، اور جن کی بخشش ہوئی ہے، اور ہمیں اپنی پناہ عطا فرما ان لوگوں میں شامل ہونے سے ،جو رمضان تو پاتے ہیں ، مگر ان کی بخشش نہیں ہوتی۔

آخری عشرے کی حفاظت :
رمضان المبارک کا آخری عشرہ بہت قیمتی ہوتا ہے۔ عید کے لیے نیا جوڑا ضروری نہیں ہے، اور نئے جوتے کے بغیر بھی عید کی خوشیاں پوری طرح سے مل جاتی ہیں۔ رمضان المبارک کا آخری عشرہ بازاروں میںضائع کرنا افسوس ناک ہے۔ اس لیے جس طرح بھی بن پڑے آخری عشرے کو ضائع ہونے سے بچایا جائے، اور اس عشرے کے دن اور رات قیمتی بنائے جائیں۔ افسوس کہ عید کی خریداری کے نام پر اپنی اصل خوشیوں کو برباد کرنے کا رواج مسلمانوں میں عام ہو چکا ہے۔ ممکن ہے یہ رمضان المبارک ہمارا آخری رمضان ہو، اس لیے اسے قیمتی بنا لیں، اور اسے پالیں ۔ یا ارحم الرّحمین ، ہمیں توفیق عطا فرما !

چار اعمال کی کثرت:
بعض روایات میں آیا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں چار کاموں کی کثرت کی ترغیب ارشاد فرمائی: اس ماہ میں چار کاموں کی کثرت کرو، ان میں سے دو کام ایسے ہیں کہ ان کے ذریعے تم اپنے پرور دگار کو راضی کرو گے، اور دو کام ایسے ہیں جن سے تم بے نیاز نہیں ہوسکتے ہو۔ وہ دو کام جن سے اللہ تعالیٰ کی خوش نودی حاصل ہو گی :
٭ لا الہ الا اللہ کا ورد رکھنا ، اور ٭ اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتے رہنا۔
وہ دو چیزیں جن سے تم بے نیاز نہیں رہ سکتے ہو یہ ہیں :
٭ جنت کا سوال کرنا ٭ جہنم سے پناہ مانگنا۔
رمضان المبارک میں تو ہر عمل کا اجر ویسے ہی ۷۰ گنا بڑھ جاتا ہے۔ ضروری نہیں کہ آپ باقاعدہ مصلے پر بیٹھ کر ذکر کریں۔ چلتے پھرتے، کھانا پکاتے ، کپڑے دھوتے ،ہروقت زبان پر ذکر اور درود شریف جاری رکھنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ اسی طرح روزانہ استغفار کا معمول بنانا چاہیے۔
ہر روزے کے لیے نیت اور سچی شرط ضروری ہے، تاہم نفس کو روکنے کی شرائط بہت سی ہیں۔ چنانچہ کوئی شخص اسی وقت حقیقی روزہ دار ہو گا، جب وہ اپنے پیٹ کو کھانے سے بچائے، اور اپنی آنکھ کو شہوت کی نظر سے ، کان کو غیبت کے سننے سے، زبان کو بے ہودہ اور فضول گفتگو کرنے سے ، اور جسم کو دنیا کی تابعداری اور شریعت کی مخالفت سے محفوظ رکھے۔ کیوںکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا تھا کہ : جب تو روزہ رکھے تو ضروری ہے کہ تیرا کان ،تیری آنکھ ، تیری زبان، تیرا ہاتھ اور تیرا ہر عضو روزہ رکھے۔ نیز فرمایا : بہت سے روزے دار ایسے ہیں ، جنھیں روزے سے بھوکا اور پیاسا رہنے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

روایتی افطار پارٹیاں :
رمضان میں شیطان کا ایک پھندا غفلت زدہ افطار پارٹیاں ہیں۔ ان پارٹیوں میں کھانے کی حرص، فضول گپ بازی، اور قیمتی وقت کا ضیاع ہوتا ہے۔ ہاں، کوئی اجتماع ہو تو اس میں شرکت کر سکتے ہیں۔ بلاشبہہ افطار کی دعوت بہت فضیلت والا عمل ہے۔ اس فضیلت کو حاصل کرنے کے لیے غریبوں کے گھر ، شہداے کرام کے ورثا، دین کے خدمت گاروں اور مہاجرین کو رقم یا کھانا بھجوا دیں۔ اگر کسی کو افطار پر گھر بلائیں تو دین کی تعلیم کا اہتمام کریں۔ ایک دوسرے کے مقابلے پر دعوتیں نہ کریں، بلکہ اپنے وقت کو قیمتی بنائیں، اور افطاری کا کھانا بھجوا دیا کریں۔
جب کسی انسان کو اللہ تعالیٰ عبادت ، خلوت اور ذکر کی توفیق عطا فرماتا ہے، تو اس انسان کو عجیب مزا آنے لگتا ہے۔ تب خطرہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی اجتماعی ذمہ داریوں سے غافل نہ ہو جائے۔ اس لیے بھر پور عبادت اور تلاوت کے ساتھ ساتھ یہ بات یاد رہے، کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی ہیں۔
ہمارے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم خود میدانوں میں نکل کر تلوار اٹھاتے ، اور جہاد فرماتے تھے اور دین کی سربلندی کے لیے جدوجہد فرماتے تھے۔ اس عظیم اور بہترین اُمت کا فرد ہونے کی وجہ سے ہم پر بہت سی ذمہ داریاں عائد ہیں، اور ہم پرانی اُمتوں کے صوفیوں کی طرح صرف خلوت، عبادت اور تنہائی کے مزے نہیں لوٹ سکتے۔ اس لیے ہم پر لازم ہے کہ ہمارا دل فلسطین ، افغانستان ، عراق ، کشمیر اور پوری دنیا کے مسلمانوں کے درد کو محسوس کرے۔
ہم ان مجاہدین کے لیے دعا کریں جو ہمارے سرکا تاج ہیں، اس لیے کہ وہ میدانوںمیں لڑ رہے ہیں۔ہم دشمنانِ انسانیت کی جیلوں میں قید اسیرانِ اسلام کے لیے بلک بلک کر دعائیں مانگیں۔ ہم ان تمام اہلِ دین کے لیے دعائیں مانگیں، جن پر دین کی خاطر زمین تنگ کر دی گئی ہے اور ہم اپنے دل کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے اُمتی کا دل بنائیں۔

تحریر:‌مولانا طلحہ سیف

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں