رنگ……

ٹیرس کے ساتھ بچھی کرسیوں پر وہ دونوں خاموش بیٹھے تھے۔رات برسنے والی رم جھم کے بعد صبح نکھری نکھری تھی۔ٹھنڈی ہوا کے جھونکے چہروں سے ٹکراتے ہوئے بھلے معلوم ہو رہے تھے۔ وہ دور افق کی جانب دیکھنے میں محو تھی۔سفید حجاب میں اسکا چہرہ معصوم اور پاکیزہ دکھائی دیتا تھا۔جنید کافی دیر سے انتظار میں تھا کہ وہ کچھ بولے مگر وہ اپنے اندر کی طرح باہر سے بھی خاموش ہی رہتی تھی۔ کوئی سوال کرتا تو اتنی گہری باتیں کر جاتی تھی کہ جنید اسکی بات کا مطلب سوچتا رہ جاتا تھا۔وہ اسکی طرف مڑااور اسکے ہاتھ عقیدت سے اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے مخاطب ہوا،فریال تم اتنا خاموش کیوں رہتی ہو۔۔۔اچانک خیالوں کاتسلسل ٹوٹنے پر وہ چونکی،ہوں۔
یار کوئی تو بات کیا کرو میرےساتھ ترس جاتاہوں تمہیں سننے کو، اچھا یہ بتاؤ تمہیں کونسا رنگ پسند ہے؟جنید پرجوش ہوتے ہوئے بولا۔اس غیر متوقع سوال پر وہ حیرت سے اسکی طرف دیکھے گئی۔بتاؤ نا فریال ایسے کیا دیکھ رہی ہو۔مجھے تین رنگ پسند ہیں،سادہ لہجے میں جواب دے کر دوبارہ افق پار دیکھنے لگی۔اہاں کون کون سے وہ اسکی بے رخی کو نظر انداز کرتے ہوئے بولا۔وہ جانتی تھی کہ اب تفصیل سے سنے بغیر وہ نہیں ٹلے گا۔دوبارہ اسکی طرف متوجہ ہوتے ہوئے بولی، ایک سفید اس لئے کہ یہ پاکیزگی کی علامت ہے۔دوسرا سیاہ کہ یہ میرے عیب چھپاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اور تیسرا،وہ مزید جواب نا پا کر بےصبری سے گویا ہوا۔وہ طنزیہ مسکراتے ہوئے مڑی،اور تیسرا وہ جسے یہ دنیا محبت کی علامت تصور کرتی ہے وہ رنگ جو نا جانے کتنے معصوم دلوں کا خون ہوتا ہے،کتنے ہی معصوم جذبات اور امیدوں پر جس کے نام کی ہولی کھیلی جاتی ہے،کتنے ہی خواہشوں اور ارمانوں کو کچلنے کے بعد جو بہتا ہے وہ رنگ۔اتنا کہہ کر وہ پھر دوبارہ افق کی طرف متوجہ ہو گئی۔جنید تجسس میں پڑ گیا۔وہ جانتی تھی اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا ہوگا اب سوچ سوچ پریشان رہے گا۔وہ اسکا دھیان بٹانے کو بولی اچھا آپ بتائیں آپ کا پسندیدہ رنگ کیا ہے؟ یکدم وہ بولا”سرخ”۔

ازبنتِ باجوہ

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں