زرداری، نواز اور عمران کی سیاست

آصف علی زرداری ، عمران خان اور نواز شریف تینوں نے ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائیاں شروع کر ڈالی ہیں۔ان کی طرف سے کوچۂ سیاست میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے نت نئے حربے اختیار کئے جارہے ہیں ۔ خوب جلسہ جلوس ہورہے ہیں ۔ایک دوسرے کی جماعتوں سے پرانے وڈیروں ، تمن داروں ، نودولتیئے سود خور سرمایہ داروں کو کھینچنے، نکالنے اور اپنی اپنی پارٹیوں کی ’’زینت‘‘ بنانے کا عمل بھی شروع ہے۔ ایسی خبریں روز ہی اخبارات اور چینلوں میں دیکھی جاسکتی ہیں کہ فلاں بندہ ’’پیپلیا‘‘ ہوگیا اور فلاں ’’انصاف ‘‘ کرنے والوں کے ساتھ شامل ہوگیاخصوصاً سندھ میں تو یہ ’’کاروبار‘‘ عروج پر ہے اور پی پی پی جھوم جھوم کر ’’اپنی کامیابیوں‘‘ کے دعوے کررہی ہے۔ گیڈر ، اصلی شیر ، جعلی شیر، دیسی بلا، ٹوٹا ہوا تیر ، ریلو کٹا، پھٹیچر جیسی اصطلاحوں کا استعمال سیاست دان اپنی بوکھلاہٹوں ، پریشانیوں سے استعمال کرتے اور اضطراری حالت میں روزبروز کش مکش سے بھرپور سیاسی ٹمپریچر بڑھا رہے ہیں ۔ ن لیگی وزرا بھی تابڑ توڑ حملے جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ اس طرح سے سیاسی زبان میں خاصی پلیدگی پھیل اور بدمزگی پیدا ہورہی ہے ۔اغلب امکان یہی ہے کہ جلد گالی گلوچ سے نوبت ہاتھا پائی اور پھر خنجر گولی تک پہنچ جائے گی۔ مرے گا کون ؟ معصوم کارکن ، وہ جیالاہوگا، جمالا ہوگا، متوالا یا کچھ اور ۔ پہلے بھی ہارون آباد میں سیاسی چپقلشوں سے گولیوں سے چھلنی ہوکر ایک غریب فرد جان سے گزر گیا۔ اور متحارب پارٹیاں اس کی فوتیدگی سے سیاسی فائدے اٹھانے کیلئے سرگرداں رہیں۔ اس کی بیوی اور ننھے پھول جیسے بچے امداد اور غیب سے’’ ان داتا‘‘ کا انتظار کرتے رہے۔ سیاسی چھیناجھپٹیوں اور ایسے مقدمات کا جو افسوسناک حشر ہوا کرتا ہے وہی ہوا۔ نام نہاد سیاسی رہنماؤں کی ادا ٹھہری مگر بے چارہ کارکن جان سے ہی ہاتھ دھو کر دارفانی کو کوچ کرگیا۔ اب آئندہ کارکنان بھی ان ’’بڑے رہنماؤں‘‘ کی طرف سے کشتم کشتا کا شکار ہوئے اور ان کا بھی یہی حشر خدانخواستہ ہوگیاتو جغادری سیاسی مچھندروں کو تو ایک ’’ لاش‘‘ چاہئے ہوتی ہے تاکہ وہ احتجاج چلا کر اسے جاری و ساری رکھ سکیں۔ اس کو دکھا کر بندوں کو اکٹھا کرسکیں اور ان کی ’’سیاسی دوکانداری‘‘ خوب ’’ چمک دمک‘‘ سکے۔ نوازشریف پر تو پانامہ لیکس کا ادھورا فیصلہ آچکا ہے باقی جو JIT اور وہ بھی سپریم کورٹ کی نگرانی میں بنائی جارہی ہے اس سے ’’دودھ کا دودھ اور پانی کاپانی ‘‘ہوجائے گا۔ کرپشن کے تقریباً تمام ثبوت مل چکے ہیں اور منی ٹریل ثابت نہ ہوسکی کہ پاکستانی بنکوں کی طرف سے ہوتی تو آج تک ثبوت فراہم ہوچکے ہوتے۔ چوری چکاری ، ہنڈی ، دیگر جعلی ذرائع یا لانچوں کے ذریعے پہنچائی گئی رقو م بہرحال ناجائز اور ایسا دھن واضح طور پر کالادھن ہی ہوتا ہے تاہم سرمایہ باہر پہنچانے کیلئے کئی ایان علیاں بھی گھومتی رہتی ہیں ۔کیا زرداری کا اربوں کا سرے محل اڑ کر چاند پر براجمان ہوگیا؟ وکی لیکس میں جمع کھربوں روپوں کو زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا ؟صرف سوئس حکومت کو خط نہ لکھنے کی بناء پر گیلانی کی ’’ تخت نشینی‘‘ چھن گئی تھی کہ وہ کیسے باس زرداری کے خلاف خط لکھ سکتے تھے۔دراصل عرصہ سے یہ سبھی مقتدر سیاسی پارٹیاں نہیں بلکہ ٹھگوں، لٹیروں، کرپشن کنگز کی راجدھانیاں ہیں ۔ سیاسی میدان ان کے ملکیتی وراثتی کلب ٹھہرے جن میں داخلہ صرف چمک اور بھاری چندے کے ذریعے ہی ممکن ہوسکتا ہے۔ ان سیاسی کلبوں میں کروڑوں کی مالیت رکھنے والے جاگیردار، تمن دار، وڈیرے ، نودولتیئے سود خور سرمایہ دار ہی اپنے سرمایہ کو’’ گیٹ پاس‘‘ بنا کر داخل ہوسکتے ہیں۔ سبھی بڑی مقتدر پارٹیوں پر ان کا قبضہ ہوچکا ہے۔ سبھی اسمبلیوں کے امیدوار اورپارٹی عہدے دار اسی طبقہ کے ہیں ۔ اور یہ سبھی ایک دوسرے کو بچانے اور تحفظ دینے کے ایسے ماہر کہ عدلیہ تک منہ دیکھتی رہ جاتی ہے اور ان کا کرپشنی دریا کسی اور ہی سمت سے طے کردہ منزل کی طرف بہہ نکلتا ہے ۔ اس طرح سے یہ وارداتیئے سامنے سے ہی جُل دیکر نکل جاتے ہیں ۔بڑے سے بڑا وکیل یا ان کا پینل پیش کرنے کی ’’استطاعت‘‘ بھی ان میں موجود ہوتی ہے ۔ کرپشن کنگز اسی طرح سیاسی اقتداروں کا وقت گزار لیتے ہیں ۔بعد میں خود قوم ہی انہیں بھولنے لگ جاتی ہے کہ ان سے بھی بڑا کرپٹ خزانوں کو لوٹ کر سامنے آجاتا ہے ۔ قوم بدستور چور، ڈاکو ، کرپٹ کرپٹ کی گردانیں کرتی رہتی ہے اور سیاسی پارٹیوں میں براجمان ٹھگوں، لٹیروں کے گروہ جاگیرداروں، تمن داروں ، وڈیروں کے روپ میں گھسے ہوئے’’اپنا کام‘‘ دکھائے جاتے ہیں ۔ عمران خان نے بھی لندن لیکس بنائی ،منی لانڈرنگ کی، انتخابی کاغذات نامزدگی کے فارموں اور ٹیکس گوشواروں میں ایسی رقوم کا ذکر تک نہ کیا ، ویسے ہی کاغذات جھوٹ موٹ لکھ کر جمع کرواڈالے حالانکہ انتخابی کاغذات نامزدگی میں تو حلفیہ بیان بھی شامل ہوتا ہے۔ سیاسی پارٹیوں کی رجسٹریشن کی آئینی دفعات اور الیکشن کمیشن کے قواعد و ضوابط کے مطابق کوئی ایسی پارٹی ملک میں قائم ہی نہیں کی جاسکتی جو بیرونی ممالک سے فنڈز وصول کرتی ہو۔ ہر سال الیکشن کمیشن کو حساب کتاب جمع کرواتے وقت ایسا حلف دینا پڑتا ہے ۔پھرامداد لیتی ہوئی اگر سیاسی پارٹی پکڑی جائے تو کالعدم قرار پائے گی، مگر عمران خان نے تو باقاعدہ بیرونی ممالک سے فنڈز وصول کرنے کیلئے کمپنی اور تنظیم قائم کررکھی تھی اور آج بھی بیرون ممالک میں موجود مسلمانوں حتیٰ کہ پاکستانیوں سے بھی دھڑا دھڑ رقوم وصول کررہے ہیں ۔ اب اپنی جائیدادوں کو چھپانے والا انتخابات جیت ہی کیوں نہ جائے وہ پتہ چل جانے پر کئی سال کیلئے نااہل ہوجائے گا اور آئندہ انتخابات میں بھی حصہ نہ لے سکے گا کہ وہ صادق اور امین نہ رہا ۔اب ایسے دفعہ 63-62 پر پورے نہ اترنے والے نام نہاد لیڈروں سے کسی قسم کی رورعایت کرنا خود قومی جرم تصور ہوگا۔ عدالتوں کے نوٹس میں یہ باتیں لائی جاچکی ہیں ، نیب کی تحقیقات بھی مکمل موجود ہیں ۔ عدالتوں کو اپنا وقار عزیز ہے کہ پہلے ہی مارشل لاؤں اور ڈکٹیٹروں کے باوجود امدادی احکامات نے ان کے کرداروں پر انگلی کھڑی کررکھی ہے۔ اب میڈیا آزاد ہے اور سو سے زائد چینل چوبیس گھنٹے خبریں نشر کررہے ہیں۔ ہزاروں صحافی و رپورٹرز خبروں کی تلاش میں مسلسل سرگرداں رہتے ہیں ۔ اب تو کوسوں میل زیر زمین چھپائی گئی خبر بھی میڈیاپر بریکنگ نیوز بن کر نشر ہوجاتی ہے۔ اگر بدقسمتی سے’’ ان بڑوں ‘‘ کا احتساب نہ ہوسکا تو اللہ ہی حافظ ہے کہ پھر بڑے بڑے مگر مچھ نما افراد بھی انڈے بچے دے ڈالیں گے ۔پھر ان لاتعداد کرپٹ بچونگڑوں کو سنبھالنا ہمیں مزید مشکلات سے دوچار کرڈالے گا۔ ’’گونگے نوں نہ مارو ، اودی ماں نوں مارو جیہڑی گونگے جمدی اے‘‘ اس لئے سیاسی پارٹیوں میں دوسرے نمبرکی و دیگر لیڈرشپ کو کرپشنوں سے اپنا ’’منہ کالا‘‘ کرنے سے بچانے کیلئے ان بڑے لیڈروں کو ہی سیاست سے آؤٹ کرنا ضروری ہے کہ ’’نہ ہوگا بانس نہ بجے گی بانسری‘‘ خدانخواستہ ملک کا مستقبل تاریک ہونے سے بچانے کیلئے اگر کرپٹ سیاست دانوں کا منہ کالا ہوکروہ سیاست سے آؤٹ ہوجائیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہ ہے ۔ محب وطن مائیں پیارے بچے جنتی رہیں گی کہ یہی خدائی سنت بھی ۔ ان کی سیاسی تدفین ہوجانے سے کوئی قباحت نہیں آجائے گی۔ ہمالہ بالکل نہیں روئے گا ۔ عدلیہ کی غیر جانبداری بھی متاثر نہ ہوگی کہ سبھی کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا گیا۔ بلکہ اس طرح روائتی وراثتی سیات بھی دفن ہوجائے گی ۔ راقم کسی فرقہ پرست مذہبی گروہ کے اقتدار کی بالکل طرفداری نہیں کررہا ۔یہی پارٹیاں بہرحال قائم رہیں گی مگر بڑوں کے احتساب جیسے عمل سے ان کے بچونگڑے کرپشنوں جیسے غلیظ اعمال سے توبہ تائب ہوجائیں گے۔ وماعلینا الا البلاغ۔

تحریر: ڈاکٹر میاں احسان باری

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں